|
آپ ہمیں اپنی
تحریراردو ۔ رومن اردو ۔ انگلش اور جرمن زبان میں
ارسال کر سکتے ہیں
بذریعہ ایس ایم
ایس آپ کی رائے کے اظہار کرلیئے
00.49.(0)160.90248584 |
امینہ
اسلم ۔ نیویارک
پاکستان میں بٹنے والے اس دکھ کو میں کیا
نام دوں جس نے ہسنتے کھیلتے انسانوں کو لمحوں میں آ لیا اقبال حیدر ۔
راولپنڈی
میں اللہ سے توبہ کرتے ہوئے یہ کہوں گا کہ
جب میں صبح اپنی ڈیوٹی پر جا رہا تھا تو اچانک مجھے ایسا
لگا جیسے کوئی میرے پاؤں کے نیچے سے زمین کو کھینچ رہا ہے
اور پجر بازار میں ہر طرف جیسے کہرام مچ گیا اور لوگ اپنی
دوکانوں اور مکانوں سےباہر نکل آئے میں خوف کی وجہ سے وہیں
زمین پر بیٹھ گیا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگی
ملک ظفر ۔ فرینکفرٹ
مجھے جرمنی آئے ہوئے دو مہینے ہوئے ہیں
اور میں مظفرآباد کا رہنے والا ہوں میں ابھی تک وہاں کسی
سے بھی رابطہ نہیں کر پا رہا اور نہایت فکر مند ہوں۔ میں
سب پاکستانیوں کےلیئے دعا گو ہوں
بتول ۔اسلام آباد
میرا اللہ کسی بھی انسان کو ایسا لمحہ
زندگی بھر نہ دکھائے جو میں نے دیکھا ہے۔ اچانک مارگلہ کا
ٹاور ایسے زمین پر گرا جیسے کسی نے خود دھکا دے کر اسے
گرایا ہو
طاہر وڑائچ ۔
برلن کیا
یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے؟
جاوید عالمگیر ۔ لائیپسگ ، جرمنی
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اہل
پاکستان پر دکھ درد کے پہاڑ ٹوٹنا شائد ہمارے اجتماعی
گناہوں کی سزا ہے، ہمیں اپنے اللہ سے اپنے گناہوں کی
معافی مانگنی چاہیئے میں اور مجھ جیسے ایسے پاکستانی جو
دیار غیر میں ہیں اپنے پاکستانی بہین بھائیوں کے اس درد
میں برابر کے شریک ہیں اور ان کےلیئے دعا گو ہیں
جمااصغر ل ۔ مظفرآباد
میں ایسے الفاظ نہیں لا سکتا جن سے ان
لمحوں کے بارے میں آپ کو بتاؤن جنہوں نے مجھے جیسے بے زبان
کر دیا ہے ، کئی مکان تھے جو مٹی کے گھروندے بن گئے شائد
کئی ہزار افراد ان کے نیچے دبے ہوئے ہیں ۔ میں اپنے دل کو
تسلی دینے کےلیئے سوچتا ہوں کہ یہ مکان اتنے وزنی نہیں تھے
جتنی وزنی ماڈرن عمارتیں ہوتی ہیں اس لیئے ضرور تمام افراد
زندہ بچ جائینگے بس کچھ کچھ زخمی ہونگے۔ اللہ کرے میری سوچ
کے مطابق ایسا ہی ہو
رانی بیگم ۔ کینیڈا
مجھے اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کی
ہلاکتوں اور اور ان کے زخمی ہونے پر دلی دکھ ہے لیکن سوچتی
ہوں کہ حکومت نے کیا ایسے انتظام کیئے ہوئے ہونگے جس سے
ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کم ہو سکے
شمسہ پروین ۔سرگودھا
جب یہاں زلزلہ آیا تو ہم سو رہے تھے اور
پھر اچانک جیسے قیامت کا خوف محسوس ہونے لگا اور ہم لوگ
گلی میں جا کر کھڑے ہو گئے اور کئی منٹ تک بے خودی میں
اللہ کے نام کا ورد کرتے رہے۔ اللہ تعالی ایسا وقت دوبارہ
نہ لائے
ربعیہ علی ۔ ساہیوال منٹگمری
زلزلے میں ہمارے شہر یا شہر کے لوگوں کا
کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن ملک کے دوسرے حصے میں رہنے والے
ہمارے بہن بھائیوں کا بہت نقصان ہوا ہے جس پر دل پر دکھ کا
ایک بوجھ سا پڑا ہوا ہے۔ اللہ ان سب کو یہ برا وقت سہنے کی
ہمت اور توفیق دے
ارشد خان۔ اٹک
ہم ان بہن بھائیوں کےلیئے دعا ہی کر سکتے
ہیں جن کا اس زلزلے میں جانی ومالی نقصان ہوا ہے
اطہر قریشی ۔ یونان
میں اہل پاکستان اور ان تمام پاکستانیوں
کو ملنے والے دکھ کے باوجود جو بیرون ملک رہتے ہیں یہ ضرور
کہونگا کہ حکومت اور اپوزیشن میں اقتدار کی بھوک نہ ہو اور
ان کو عوام کےلیئے کچھ کرنے کا وقت ملے تو ایسے حادثوں
کےلیئے پہلے سے تیاری ہوتی ہے جو کہ ہمارے ملک میں آج تک
نہیں ہو سکی۔ ہر حادثے پر فوج پہنچتی ہے اور شہری امدادی
ادارے اس قابل نہیں اور نہ ہی وہ نیو مشیریوں سے واقف ہیں
جس سے امداد میں دیر ہوتی ہے اور کئی جانیں ضائع ہو جاتی
ہیں منور
حیدر ۔ جہلم
میں زلزلے کے بعد تباہ ہونے والی چند
جگہوں پر گیا تھا۔ لگتا تھا جیسے یہاں قیامت قیامت
سے پہلے ہی آ چکی ہے ، ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے ،لوگ جاں
بحق ہونےوالوں کو دفنا رہے ہیں زخمیوں کے رونے کی آوازیں
اور وہ لوگ جن کے پیارے ان سے بچھڑ گئے ہیں گم سم ہیں یا
روتے ہوئے ادھر سے ادھر پھر رہے ہیں ۔ ہم شائد مسلمان نہیں
رہے ہمارے اعمال ہیں یہ ، ہمارے یہ بہن بھائی ہم سب کی بد
اعمالیوں کی بھینٹ چڑھ گئے
شیر علی۔ پشاور
اللہ تعالی ہم سب ملک والوں پر رحم فرمائے
ہمارے ملک کا بہت جانی نقصان ہو گیا ہے، ہمارے علاقوں میں
بھی تک بہت جانی نقصان ہو چکا ہے موسم درست نہیں ہے جس سے
کام میں حرج پڑ رہا ہے
نعیم۔ برلن
ہمارے کئی رشتہ دار مظفرآباد میں مقیم تھے
نہ جانے ان کے ساتھ کتنی پرابل ہوئی ہو گی اللہ ان پر اور
وہاں سب پر اپنا فضل کرے
مبشر احمد ۔ کیل ، جرمنی
اردو سروس نے جرمنی میں کسی امدادی ٹیم کا
ٹیلی فون نمبر وغیرہ اور ایڈریس نہیں لکھا جس سے لوگوں کو
معلوم ہو جائے کہ پاکستانی بہن بھائیوں کی مالی مدد کی جا
سکے محترم
مبشر احمد ہم نے جرمنی میں پاکستان ایمبیسی کو اس بارے میں
تعاون کرنے کےلیئے کہا لیکن ہمیں ان کی طرف سے کوئی جواب
موصول نہیں ہوا، اگر ایسا ہوا تو ہم فوری طور پر اپنے
قارئین اور سامعین کےلیئے پاکستان کے متاثرہ علاقوں کے
رابطے نمبرز اور دیگر سہولیات شائع کرینگے
اکرم خان ۔ سوئیٹزرلینڈ
میرے اہل خانہ راولا کوٹ میں رہتے ہیں
لیکن اب نہ جانے وہ کس حالت میں ہوں میں آپ سب بہن بھائیوں
سے ان کےلیئے اور وہاں سب کے لیئے دعا کرنے کی درخواست
کرتا ہوں
سلطانہ امیر ۔ دبئی
میری بھاوج راولا کوٹ میں رہتی ہیں اور
بھائی یہاں دبئی میں کام کرتے ہیں ،ہمیں نہیں معلوم ہوا
رہا کہ اس علاقے کی کیا درست پوزیشن ہے اس لےیئے ہم بہت بے
چینی محسوس کر رہے ہیں ، اللہ خیر کرے بس
راحت احمد ۔ شکار پور
میں ان انسانوں کو یہ کہنا چاہونگا جو
کشمیر میں تباہ ہونے والے علاقوں میں گھروں کو لوٹ رہے ہیں
کہ اللہ کے عذاب سے ڈریں آپ ، کیا ممکن ہے کہ کل آپ کسی
مصیبت میں ہوں اور دوسرے آپ کے ساتھ ایسا سلوک کریں ، ہم
سب مسلمان اور بہن بھائیوں جیسے ہیں آپ لوگ دین و مذہب کے
واسطے سے ایسا کام نہ کریں |