|
ویسے بھی ویسٹ انڈیز کے کئی کھلاڑی ان دنوں بہترین فارم میں چل رہے ہیں۔ پاکستان کو سب سے زیادہ خطرہ کرس گیل سے ہوگا جنہوں نے حال ہی میں اختتام پذیر چمپیئنز ٹرافی میں سب سے زائد474 رن بنائے اور مین آف دی سیریز کے حقدار بنے
ویسے تو دونوں ہی ٹیم میں بہترین کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے مگر پاکستان کی ٹیم چونکہ مختلف پریشانیوں سے دوچار ہے اس لیئے اس کے کھلاڑیوں کا بہتر کار کردگی مظاہرہ کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ پاکستان کو اپنے گراونڈ پر کھیلنے کا فائدہ ضرور ہوگا ان دونوں ملکوں کے درمیان ٹسٹ کرکٹ کی شروعات1957-58 میں ہوئی تھی جب پاکستان کی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا تھا
اس دورے پر پانچ ٹسٹ میچ کھےلے گئے تھے جن میں سے تین میں ویسٹ انڈیز کو جیت ملی تھی جب کہ ایک ٹسٹ پاکستان نے جیتا تھا۔ اس کے بعد1958-59 میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا جہاں تین ٹسٹ میچ کھےلے گئے۔ ان تین ٹسٹ میچوں سے دو میں پاکستان کو کامیابی ملی جب کہ ایک ٹسٹ پاکستان نے جیتا۔ اب تک ان دونوں ملکوں کے درمیان جو ٹسٹ سیریز منعقد ہوئی ہے ان میں سے پانچ پر ویسٹ انڈیز کا قبضہ رہا ہے جب کہ تین سیریز پاکستان نے جیتی ہے
ان دونوں ملکوں کے درمیان آخری سیریز2005 میں منعقد ہوئی تھی۔ ویسٹ انڈیز میں منعقد اس سیریز میں دو ٹسٹ کھےلے گئے تھے جن میں سے دونوں ہی ٹیموں کو ایک ایک میں جیت ملی تھی۔ اب تک ان دونوں ملکوں کے درمیان کل ملاکر41 ٹسٹ میچ کھےلے گئے ہیں جن میں سے ویسٹ انڈیز نے14 میں کامیابی حاصل کی ہے جب کہ پاکستان کو13 ٹسٹ میچوں میں جیت نصیب ہوئی ہے۔پاکستان کے میدانوں پر ویسٹ انڈیز کا ریکارڈ پاکستان کے مقابلے خراب ہے۔ پاکستان میں ان دونوں ملکوں کے درمیان18 ٹسٹ میچ کھےلے گئے ہیں جن میں سے سات میں پاکستان کو جیت ملی ہے جب کہ چار میں ویسٹ انڈیز نے کامیابی حاصل کی ہے
باقی کے سات ٹسٹ میچوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ فروری، مارچ1958 میں کنگٹسن میں ویسٹ انڈیز نے تین وکٹ کے نقصان پر790 رن بنا کر اننگ ڈکلیئر کردی تھی ےہ ویسٹ انڈیز کا پاکستان کے خلاف ایک اننگ میں سب سے بڑا اسکور ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کا یہ ریکارڈ657 رنوں کا ہے۔ اتنے رن پاکستان کی ٹیم نے جنوری1958 میں برج ٹاؤن میں بنائے تھے۔ اکتوبر1986 میں فیصل آباد ٹسٹ کے دوران ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم صرف53 رن بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی ےہ ویسٹ انڈیز کا پاکستان کے خلاف ایک اننگ میں سب سے کم اسکور ہے
پاکستان کا ویسٹ انڈیز کے خلاف سب سے کم اسکور77 رن ہے۔ اتنے کم رن پر پاکستان کی پوری ٹیم نومبر1986 میں لاہور ٹسٹ کے دوران آؤٹ ہوگئی تھی۔ ایک خاص بات ےہ ہے کہ ان دونوں ہی ملک کی طرف سے ایک دوسرے خلاف ٹرپل سنچری بن چکی ہے۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے جہاں یہ ریکارڈ گیری سوبرس کے نام ہے وہیں پاکستان کی طرف سے ےہ کارنامہ حنیف محمد نے انجام دیا تھا
ان دونوںنے بالترتاب فروری مارچ 1958 میں کنگسٹن میں غیر مفتوح365 اور جنوری1958 میں برج ٹاؤن میں337 رن بنائے تھے۔ مارچ1959 میں ڈھاکہ میں فضل محمود نے100 رن دے کر ویسٹ انڈیز کے بارہ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔ یہ پاکستان کے کسی بھی گیند باز کا ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک ٹسٹ سب عمدہ بالنگ کار کردگی کا ریکارڈ ہے۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے ےہ ریکارڈ کولیمور کے نام ہے۔ کولیمور نے جون2005 میں134 رن دے کر پاکستان کے گیارہ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا |