|
کھلاڑیوں کا ذکر ہوگا تو اس میں محمد یوسف بھی ایک ہوں گے آج پاکستانی کرکٹ ٹیم میں جس کھلاڑی پر سب سے زیادہ بھروسہ کیا جاتا ہے وہ محمد یوسف ہی ہیں۔یہ محمد یوسف کے کھیل کا ہی کمال تھا کہ ایک عیسائی(یوسف یوحنا)ہوتے ہوئے بھی انہوں نے پاکستان کی ٹیم میں جگہ بنائی۔اب وہ مشرف بہ اسلام ہو کر یوسف یوحنا کے بجائے محمد یوسف ہو گئے ہیں۔نہ صرف انہوں نے ٹیم میں جگہ بنائی بلکہ اب ٹیم کے سب سے بھروسے مند کھلاڑی وہی ہیں جب بھی بلے بازی کے دوران پاکستان کی ٹیم مشکل میں ہوتی ہے اور پوری پاکستان ٹیم کے ساتھ ساتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مداح بھی ایک بڑی امید کی نظر سے یوسف کی طرف دیکھتے ہیںاور بارہا دیکھنے میں آّیا ہے کہ یوسف ان کی امیدوں پر کھڑے بھی اترے اور ٹیم کو مشکلوں سے نکالا ملتان میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے دوسرے ٹسٹ میں پاکستان ہار کے قریب تھا مگر دوسری اننگ میں ان کے شاندار192رن نے پاکستان کو یقینی نظر آ رہی ہار سے بچا لیا آج نہ صرف پاکستانی کپتان انضمام ا لحق بلکہ کئی سابق کھلاڑی اور کوچ بھی یوسف کی تعریف کے پل باندھتے رہتے ہیں۔اور اصلیت یہ ہے کہ وہ اس کہ حقدار بھی ہیں۔ یوسف نے اپنے ٹسٹ کرکٹ کی شروعات1997-98میں جنوبی افریقہ کے خلاف ڈربن میں کی۔اپنے پہلے ٹسٹ میں وہ ناکام رہے اور دونوں اننگ میں صرف پانچ اور ایک رن ہی بنا سکے۔پہلے ٹسٹ میں ناکامی کے بعد انہیں جنوبی افریقہ کے خلاف اگلے ٹسٹ میں ٹیم میں جگہ نہیں ملی۔شروع کے کئی ٹسٹ میچوں میں انہیں بہت زیادہ کامیابی نہیں ملی انہوں نے اپنی پہلی ٹسٹ سنچری اپنے ساتویں ٹسٹ میں زمبابوے کے خلاف کھیلتے ہوئے لاہور میں بنائی۔اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ محمد یوسف کے کیرئر کو اگر دو حصوں میں تقسیم کریں تو شروع کے 20ٹسٹ اور پھر اس کے بعد سے لے کر اب تک یوسف کی کارکردگی میں کافی فرق نظر آتا ہے۔جہاں پہلے کے 20ٹسٹ میں انہوں نے صرف ایک سنچری بنائی وہیں اس کے بعد 63ٹسٹ میں وہ اب تک 21سنچریاں بنا چکے ہیں
کمال کی بات یہ ہے کہ ان میں سے چار ڈبل سنچری ہے وہ اب دنیا کے ان گنے چنے بلے بازوں میں شامل ہیں جنہیں 4یا اس سے زائد ڈبل سنچری بنانے کا شرف حاصل ہے۔اسی سال پہلے اگست میں اور حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے حلاف پہلے اور دوسرے لگاتار دو ٹسٹ میں وہ 192رن بنا کر آئوٹ ہوئے۔ اگر وہ ان تینوں مواقع پر ڈبل سنچری بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو پاکستان کی طرف سے یہ ایک ریکارڈ ہو جاتا ۔ویسٹ انڈیز کے خلاف لاہور میں کھیلے گئے پہلے ٹسٹ میں حالانکہ شاہد نذیر کو میں آف دی میچ کاخطاب ملا مگر بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ایوارڈ کے حقدار صحیح معنوں میں محمد یوسف تھے جن کی192رن کی اننگ کی بدولت پاکستان بڑا اسکور بنانے میں کامیاب ہوا اس سے پہلے اگست کے پہلے ہفتے میں یوسف نے لیڈز ٹسٹ میں بھی انگلینڈ کے خلاف192رن بنائے تھے۔اپنی اس لاجواب اننگ کے دوران یوسف نے یونس خان کے ساتھ ملکرتیسری وکٹ کے لئے363رنوں کی شراکت کی اور کئی نئے ریکارڈ بنائے۔یہ پاکستان کی طرف سے انگلینڈ کے خلاف کسی بھی وکٹ کے لئے سب سے بڑی شراکت ہے۔یہ انگلینڈ کے خلاف تیسری وکٹ کے لئے کسی بھی ٹیم کی طرف سے سب سے بڑی شراکت ہے۔اس سے پہلے یہ ریکارڈ 338رنوں کا تھا اتنے رن ویسٹ انڈیز کے ایورٹن وکس اور فرینک واریل نے 1953-54میں پورٹ آف اسپین میں جوڑے تھے۔یہ ہیڈنگلے کے میدان پر بھی تیسری وکٹ کے لئے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ ہے۔1930میں ڈان بریڈمین اور الن کیپکس نے229رنوں کی شراکت کی تھی۔ یہ ایک اتفاق ہے کہ دنیا میں اب کے سب سے بڑے بلے باز ڈان بریڈ مین اور یوسف یوحنا کی یوم پیدائش ایک ہی ہے انگلینڈ کے خلاف چار ٹسٹ میچوں کی اس سریز میں محمد یوسف کافی کامیاب رہے۔اس سیریز میں یوسف نے تین سنچری کی مدد سے631رن بنائے۔چار ٹسٹ میچوں کی سیریز میں 600یا اس سے زائد رن بنانے والے یوسف پاکستان کے واحد بلے باز ہیں۔اس سال محمد یوسف غضب کی فارم میں ہیں۔اس سال یوسف نے 8 سنچری بھی بنائی ہے ٹسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یوسف دنیا کے واحد ایسے بلے باز ہیں جنہوں نے ایک کلینڈر سال میں آٹھ سنچری بنائی ہے۔اس سے پہلے یہ ریکارڈ 7سنچری کا تھا سری لنکا کے اروند ڈسلوا اور ویسٹ انڈیز کے ووین رچرڈس نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔27اگست 1974کو لاہور میں پیدا ہونے والے محمد یوسف نے اب تک کل ملاکر72ٹسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں ان کے رنوں کی تعداد6278ہے۔وہ پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رن بنانے والوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ان سے زیادہ رن صرف جاوید میانداد اور موجودہ کپتان انضمام الحق نے بنائے ہیں یوسف صرف ٹسٹ میچوں میں ہی کامیاب نہیں رہے ہیں بلکہ ون ڈے کرکٹ میں بھی انہوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیاہے۔انہوں نے اب تک کل ملاکر226ون ڈے میچ کھیلے ہیں جن میں ان کے رنوں کی تعداد7580ہے۔انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں11سنچریاں اور 51نصف سنچریاں بھی بنائی ہیں۔آج محمد یوسف جس طرح بہترین کھیل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس سے ایسا ہی لگتا ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں کئی ریکاڈ ان کے نام درج ہو جائیں گے۔ |