Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 16 October 2006 18:20 (PST)اشاعت

پاکستان کے خلاف سری لنکا کا پلڑابھاری ہے

اے ۔ این ۔شبلی

اردوسروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

پاکستانی بالروں کے مثبت ٹیسٹ کے بعد سری لنکا کا پلہ بھاری

ایک طرف جہاں کوالیفائنگ دور کے سبھی میچ جیت کر سری لنکا کرکٹ ٹیم کا حوصلہ بلندہے۔ وہیں دوسری طرف پاکستان کی ٹیم دن بہ دن نئی نئی مشکلوں سے دوچار ہورہی ہے۔کپتان کے بار باربدلنے کامعاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں پڑا تھا کہ تیز گیند باز

 شعیب اختر اور محمد آصف نے ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام ہوکر ٹیم کی مشکلیں بڑھادی ہیں

ان دونوں کھلاڑیوں کے کیر یئر کو جو نقصان ہوگا وہ تو ہوگاہی ٹیم کو بھی بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان دونوں کا ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام ہونا پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیئے  ایک بہت بڑا جھٹکا ہے، اگر سری لنکا کے نظریے سے دیکھیں تو اسے اس کا کافی فائدہ ملے گا

ایک تو سری لنکا کی ٹیم نے کوالیفائنگ دور کے سبھی میچ جیت کر جہاں یہ ثابت کیا ہے کہ فی الحال سری لنکا کی ٹیم کافی مضبوط ہے اور اگر وہ چمپئنز ٹرافی جیتنے کی امید کررہی ہے تو اس میں کوئی غلط بات بھی نہیں ہے۔دوسری طرف پاکستان کی ٹیم اوول تنازع کے بعد نئے نئے مشکلوں سے دوچار ہورہی ہے۔حالانکہ پاکستان کے پاس بھی اچھے بلے باز اور اچھے گیند بازوں کی کمی نہیں ہے۔مگر چونکہ ٹیم ان دنوں کئی مشکلوں سے دوچار ہے ایسے میں ان کھلاڑیوں کی کارکردگی کیسی رہے گی یہ دیکھنے والی بات ہوگی

سری لنکا اور پاکستان کے درمیان ونڈے کرکٹ کی شروعات 1975 کے پہلے عالمی کپ کے دوران ہوئی تھی۔اس بار ان دونوں ٹیمو ں کے درمیان صرف ایک میچ ہوا تھا جس میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی تھی۔ان دونوں ٹیمو ںکے درمیان آخری سیریز 2005-06میں منعقد ہوئی تھی ۔اس سیریز میں تین ونڈے میچ کھیلے گئے تھے جن میں سے دو میں پاکستان کو جیت ملی تھی جب کہ ایک میچ کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہواتھا

اب تک کل ملاکر ان دونوں ٹیموں کے درمیان 106ونڈے مقابلے ہوچکے ہیں ان میں سے پاکستان کو 64میں کامیابی ملی ہے جب کہ سری لنکا نے 38میچ جیتے ہیں۔ایک میچ ٹائی رہا جب کہ تین میچوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔1996-97میں نیروبی میں پاکستان نے نو وکٹ کے نقصان پر 371رن بنائے تھے یہ پاکستان کا سری لنکا کے خلاف ایک اننگ میں سب سے بڑا اسکور ہے۔سری لنکا کایہ ریکارڈ 349رنوںکا ہے اتنے رن سری لنکا کی ٹیم نے 1995-96میں سنگاپور میں 9وکٹ کے نقصان پر بنائے تھے۔ 2001-02میں شارجہ میں سری لنکا کی پوری ٹیم صرف 78رن کے معمولی اسکور پر آؤٹ ہوگئی تھی

یہ سری لنکا کا پاکستان کے خلاف ایک اننگ میں سب سے کم اسکور ہے۔سری لنکا کے خلاف ایک اننگ میں پاکستان کا سب سے کم اسکور 122رن ہے۔اتنے کم اسکور پر پاکستان کی پوری ٹیم2004میں کولمبومیں آئوٹ ہوگئی تھی۔ 1995-96میں سنگاپور میںاور پھر 1997-98میںلاہور میں جے سوریہ نے 134رن بنائے تھے اس کے علاوہ 1996-97میں اروند ڈسلوا نے شارجہ میں اتنے ہی رن بنائے تھے

یہ سری لنکا کی طرف سے پاکستان کے خلاف سب سے بڑا انفرادی اسکور کا ریکارڈ ہے۔ پاکستان کی طرف سے یہ ریکارڈ محمد یوسف کے نام ہے۔ یوسف نے 2001-02میں شارجہ میں 129رن بنائے تھے ۔کل ملاکر پاکستان کی طرف سے سری لنکا کے خلاف 29سنچریاں اسکور کی گئی ہیں جب کہ سری لنکا کی طرف سے پاکستان کے خلاف اسکور کی گئی سنچریوںکی تعداد 13ہے۔2001-02میں شارجہ میں نوید لطیف اور انضمام الحق نے تیسری وکٹ کے لیئے 219رنوں کی شراکت کی تھی

یہ پاکستان کی طرف سے سری لنکا کے خلاف کسی بھی وکٹ کے لیئے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ ہے۔سری لنکا کی طرف سے یہ ریکارڈ213رنوںکا ہے۔ 1997-98میں لاہور میں سنت جے سوریہ اور مارون اٹاپٹونے تیسری وکٹ کے لےے 213رنوں کی غیر مفتوح شراکت کی تھی۔ان دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی کرکٹ میں سب سے اچھی گیند بازی کرنے کا ریکارڈ وقار یونس کے نام ہے۔1989-90میں شارجہ میں وقار یونس نے صرف 26رن دے کر سری لنکا کے 6کھلاڑیوںکو آؤٹ کیا تھا

سری لنکا کی طرف سے یہ ریکارڈسنت جے سوریہ کے نام ہے۔جے سوریہ نے 2004-05میں 23رن دے کر پاکستان کے 5کھلاڑیوںکو آئوٹ کیا تھا۔
ان دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے ونڈے میچوںمیں سب سے زیادہ 2319رن بنانے کا ریکارڈ سری لنکا کے ارونڈ ڈی سلوا کے نام ہے

ڈسلوا نے اتنے رن75میچوں میںتین سنچریوں کی مدد سے بنائے ہیں۔ سب سے زیادہ 92وکٹ حاصل کرنے کا ریکارڈ پاکستان کے وسیم اکرم کے نام ہے اکرم نے اتنے وکٹ سری لنکا کے خلاف کھیلے گئے 59میچوں میں حاصل کئے ہیں۔دوسرے نمبر پر چقار یونس ہیں ۔51میچوں میں یونس کے وکٹوں کی تعداد 84ہے۔اعدادو شمارتو پاکستان کو مضبوط بتاتے ہیں مگر موجود ہ ٹیم کو دیکھتے ہوئے سری لنکا کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات