|
واپسی سے پاکستانی کرکٹ کےحالیہ مسائل میں مزید اضافہ ہواہے پاکستانی کرکٹ کے بحران کاآغازرواں سال اس وقت شروع ہواجب20اگست کواوول میں چوتھے اورآخری ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم پربال ٹمپرنگ کے الزام کے بعدانگلینڈ کوفاتح قراردے دیا گیا اوول ٹیسٹ کے چوتھے روزآخری سیشن میں امپائرڈیول ہیراوربلی ڈاکٹرووکی جانب سے انگلینڈ کوپانچ رن اضافی دینے پرپاکستانی ٹیم نے گراونڈ میں جانے سے انکارکردیاتھا۔اس کے بعد29ستمبرکولندن میں آئی سی سی کی دوروزہ سماعت میں پاکستانی کپتان انضمام الحق کوآئی سی سی کی جانب سے بال ٹمپرنگ کے الزام سے بری کردیا گیا
تاہم میچ میں خلل پیدا کرنے کے الزام میں انضمام الحق پرچارون ڈے میچوں کی پابندی عائدکردی گئی جس کے نتیجے میں انضمام اکتوبر۔نومبرمیں بھارت میں کھیلے جانے والی حالیہ چیمپئن ٹرافی سے محروم ہوگئے بعدازاں5اکتوبرکوانضمام الحق کے نائب یونس خان نے ٹورنامنٹ کی جزوقتی کپتانی سے انکارکردیا۔ان کاکہناتھاکہ وہ’’ڈمی‘‘کپتان بنناپسندنہیں کریں گے ۔7اکتوبرکوپی سی بی کے چیئرمین شہریارخان نے اوول ٹیسٹ تنازعہ اوریونس خان کے اقدام کے تناظرمیں استعفیٰ دے دیا
شہریارخان کی جگہ پرحکومتی مشیر نسیم اشرف کوپی سی بی کاسربراہ مقررکیا گیا جنہوں نے یونس خان کوچیمپئن ٹرافی کی کپتانی کرنے پرتیار کرلیا جس کے بعد16اکتوبرکوپاکستان کے سری لنکاکے خلاف چیمپئن ٹرافی کے ابتدائی میں کے موقع پرپاکستانی فاسٹ بولرزشعیب اختر،محمدآصف اوررانانوید الحسن کو ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے نتیجے میں چیمپئنز ٹرافی سے باہرکردیا گیا
دوسراٹیسٹ مثبت آنے کے نتیجے میں تینوں کھلاڑیوں کو دو سال سے زائد عرصہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے |