Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 13 October 2006 13:37 (PST)اشاعت

انضمام کی جیت کرکٹ کی جیت

اے ۔ این ۔ شبلی

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

ہیئر کے غلط فیصلے پر پاکستانی ٹیم کو سخت سبکی ہوئی

ٹیسٹ سے شروع ہوا طوفان اس فیصلے کے بعد ختم ہو گیا کہ انضمام نے گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی تھی اس لئے ان کو بری کر دیا جانا چاہئے اور چونکہ انہوں نے واک آوٹ کر کے کھیل  کی عزت کو ٹھیس  پہنچائی تھی اس لئے ان پر چار میچوں کی پابندی لگائی جاتی

ہے۔ اب ایک  اہم سوال یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد جیت کس کی ہوئی۔ تو اس فیصلے سے یہ بات صاف طور پر ظاہر ہوتی ہے  یہاں  انضمام الحق اور پاکستان کرکٹ ٹیم  کی جیت  ہوئی ہے کیونکہ  انضمام شروع سے یہ کہتے  آرہے ہیں  کہ ہم نے میچ نہیں  کھےلنے کا فیصلہ  اس لئے کیا کہ ہمارے ٹیم  کو اور ہمارے ملک کو بے ایمان کہا گیا تھا

اب اس فیصلے کے بعد انضمام کا قد کرکٹ کی دنیا میں  لازمی طور پر بڑھ گیا ہے ایک طرف جہاں انضمام کی جے جے کار ہو رہی ہے  وہیں  ساری دنیا امپائر ڈےہرل ہیتر کو حقارت کی نگاہ سے دیکھ  رہی ہے۔ مگر ہےئر کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا  ہی کافی نہیں  ہے

دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی یہ مانگ ہے کہ اب چونکہ انضمام کو گیندسے چھیڑچھاڑ کرنے کا مجرم نہیں  مانا گیا ہے تو پھر ہےئر کے خلاف کارروائی ہو کیونکہ ان کی اس غلطی سے ہی کرکٹ کی  دنیا میں اتنا بڑا اور اپنی نویت کا پہلا ڈرامہ رونماہوا۔ اگر آئی سی سی کو لگتا ہے کہ انضمام نے کرکٹ کے قوانین  توڑے ہیں تو آئی سی سی کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ انضمام آخر ایسا کرنے کو کیوں مجبور ہوئے؟ اس ٹسٹ میں تو سب کچھ صحےح صحیح چل رہا تھا

پاکستان کے جیتنے کے چانس بھی زیادہ  تھے۔ پھر آخر ایسا ہوا کیوں ؟ اس دن اوول ٹسٹ میں  مقامی وقت کے مطابق ڈھائی بجے امپائر ڈیرل ہےئر اور بلی ڈاکٹر وونے پاکستان کی ٹیم  پر گیند  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر پانچ رن کی پیلنٹی لگا دی اور میں نئی گیند لائی  گئی۔ اس فیصلے سے ناراض انضمام نے چائے کے وقفہ کے بعد میدان میں آنے سے سے انکار کر دیا

دونوں امپائر میدان میں  آئے لیکن  ٹیم نہیں آئی تو تھوڑی دیر کے بعد امپائر لوٹ گئے۔ لگ بھگ پندرہ منٹ کے بعد دونوں امپائر دونوں بلے بازوں کے ساتھ پھر میدان میں  آئے ۔پاکستان کی ٹیم  پھر بھی نہیں لوٹی تو امپائر نے وکٹ پر سے Bellsہٹا دیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میچ ختم ہوگیا ۔بعد میں ٹیم مےنجمنٹ سے کچھ بات کرنے کے بعد انضمام ٹیم  کے ساتھ میدان میں آئے مگر امپائر نے آنےسے منع کر دیا۔ اب معاملہ سنگین  ہو چکا تھا

امپائر کا انتظار کرنے کے بعد انضمام ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ پولین لوٹ آئے  مگر اصل ڈرامہ تب شروع ہوا جب اس مدت میں  انگلینڈ  کی ٹیم  کو فاتح قرار دے دیا گیا
گیند  کے ساتھ چھیڑچھاڑ کے اس معاملے نے طول پکڑ لیا ۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر گیند  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزام پہلے بھی لگتے رہے ہیں ۔ مگر اس بار اس الزام کے بعد انضمام نے جو رول نبھایا  اس سے صاف لگ رہا تھا کہ اس بار پاکستانی کھلاڑیوں نے ایسا  کچھ بھی نہیں کیا ہے

اور یہ صرف اور صرف امپائر ڈیرل ہےئر کی بدمعاشی ہے۔ بعد میں یہ  بات ثابت بھی ہو گئی ۔ مگر نقصان پاکستان کی ٹیم کا ہوا جو ایک سو تیس  سے بھی زیادہ  سال کے کرکٹ کی تاریخ مین ایسی  پہلی ٹیم بن گئی جسے میچ کھیلنے  کے انکار کی وجہ سے ہار کا سامنے کرنا پڑا۔آئی سی سی کے فیصلے کے بعد ڈیرل ہےئر کی اخلاقی ہار تو ہوئی ہی ہے مگر یہ  کافی نہیں  ہے۔ یہ سارا ڈرامہ انکی وجہ سے ہوا اس لئے انہیں بغیر  سزا کے چھوڑ دینا  قطعی مناسب نہیں  ہوگا

ہیئر کے لئے سزا کی مانگ صرف پاکستان سے نہیں  بلکہ ساری دنیا سے ہو رہی ہے کیونکہ  ان کے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے معاملے نے اتنا طول پکڑا اور کرکٹ کی عزت کو ٹھیس  پہنچی۔ ویسے بھی ایسی کئی مثالیں ماضی میں سامنے آ چکی ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہیئر امپائرنگ کے دوران من مانی کرتے ہیں  وہ خاص طور پر پاکستانی کھلاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں

نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان اور سری لنکا کے کھلاڑی ان کے غلط اور من مانا فیصلے  کے شکار ہو چکے ہیں ۔ دنیا کے کئی سابق مشہور کھلاڑی بھی ہیئر کی مخالفت کرتے رہے ہیں ۔ اوراس کیس کے بعد انگلینڈ  کے سابق کپتان مائک ارتھرارٹن نے کہا کہ ’’ہیئر بھول گئے کہ وہ امپائر ہیں ۔ انہوں نے پولس کی طرح کام کیا ہے۔ اسی طرح ناصر حسین نے کہا ہیئر صرف اپنے کو ٹریفک  پولس سمجھتے ہیں جو چاہتا ہے کہ ہر کوئی اس کے اشارے پر ناچے اور عمران خان نے تو ہیئر کو ہٹلر تک کہہ دیا


جہاں تک پاکستان ٹیم کا سوال ہے تو وہ اس بات کی مانگ کر رہی ہے کہ اس کے ٹسٹ میں ہیئر کو امپائر نہ بنایا جائے۔ اس کے باوجود آئی سی سی نے پاکستان کی مانگ نہیں  مانی ہے۔ہیئر  اور تنازعہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لگ بھگ دو سال پہلے ہیئر نے پاکستان کے تیز گیند باز شبیر احمد کے ایکشن کی شکایت کی تھی۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ ہیئر کی وجہ سے ہی شبیر احمد کا شاندار کیرئر خطرے میں پڑ گیا۔ 1994ء میں  جنوبی افریریقہ کے بلے باز پیٹر کرسٹس نے ہیئر کے ایک فیصلے  پر اعتراض کیا ۔ساری دنیا نے دیکھا کہ یہ ایک  معمول اعتراض تھا مگر ہیئرکی  شکایت پر کرسٹس کی میچ ففیس کا 65فےصد کاٹ لیا گیا

۔ 2000ء میں ہیئرنے زمبابوے کے گرانٹ فلاور کو گیند تھرو پھینکنے کے لئے تین بار نو بال قرار دیا۔ ہیئرنے اپنے کیرئر کا سب سے بڑا ڈرامہ 1995ء میں  مرلی دھرن کے خلاف کیا۔ آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان  چل رہے ملبورن ٹسٹ میں  مرلی دھرن کے تین اوروں میں  غلط ایکشن کی وجہ سے ہیئرنے مرلی دھرن کو سات بار نو بال دیا

 رانا تنگا نے اس کی وی مفت کی اور ٹیم کو پولین واپس لے گئے ۔ جب ٹیم واپس لوٹی تو رانا تنگا نے مرلی دھرن کا اینڈ بدل دیااور ادھر موجود امپائر اسٹےوڈن کو مرلی کی کسی بھی  گیند میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی۔  ہیئر  نے تو مرلی کی مخا لفت کی حد ہی کر دی ۔اس نے اپنی  آٹو بائیوگرافی میں بھی مرلی کے خلاف لکھا۔ مرلی کو ہیئر نے Diabolical(جسے دیکھنا بھی اچھا نہ لگے اور جس کے بارے میں سوچ کر بھی غصہ آ جائے) کہا اسے نفرت کی حد نہیں تو اور کیا کہا جائے گا

امپائر کے طور پر ہیئرنے اپنے کیرئر کی شروعات 1992ء میں کی تھی۔ اور اپنے زندگی کے پہلے ٹسٹ میں ہی کئی متنازعہ فیصلے  دئے۔ اس ٹسٹ میں  انہوں نے ایل بی ڈبلیو کی حد کر دی

اپنے پہلے ہی ٹسٹ سے ان کے فیصلوں  پر تنازعہ کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ ان کے 76ویں یعنی  اوول ٹسٹ تک چلتا رہا۔ ان کے فیصلوں نے کئی کھلاڑیوں  کو مشکلمیں ڈال دیا اور کئی بار تو ایسا لگا کہ وہ ذاتی طور پر ان کھلاڑیوں  سے کوئی بدلہ لینا چاہ رہے ہوں

مرلی دھرن کی مخالفت کی تو انہوں نے ساری حدیں  پار کر دیں اور یہی  وجہ ہے کہ ہیئر کو اس دھمکی کا سامنا کرنا پڑا کہ اگر انہوں نے مرلی کے بارے میں مزید کچھ لکھاتو انہیں  اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ صرف مرلی ہی نہےں ہیئر نے نہ جانے کتنے کھلاڑیوں کو پریشان کیا ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات