|
کی وجہ سے بھی ہے
اگر عرفان کے ایک گیند باز کے طور
پر فلاپ رہنے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ٹیم ان کا بہت دنوں تک بچے
رہنا مشکل ہے۔عرفان پٹھان ایک بلے باز کے طور پر بیشک ہی کامیاب
ہورہے ہیں مگر گیند بازی میں فلاپ ہونے کی وجہ سے اب منیجمنٹ کی نظر
ان کی گیند بازی پر ٹک گئی ہے
کوالالمپور میں جاری ڈی ایل
ایف کپ کے پہلے دو میچ میں پٹھان کی گیند بازی اچھی نہیں رہی۔ دوسرا
وسیم اکرم کہے جانے والے پٹھان نے سہ رخی سیریز کے پہلے دو میچوں
میں6 اوور میں54 رن دےے ہیں اور انہیں صرف دو وکٹ ملا ہے
ویسٹ انڈیز کے خلاف دو اوور میں
پٹھان نے22 رن دئے جب کہ آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے صرف چار اوور
میں32 رن دے دئے۔ آسٹریلیا کے خلاف رد میچ کے بعد کپتان راہل دراوڑ
نے کہا کہ پٹھان کو اپنی گیند بازی بہتر کرنی ہوگی کیوں کہ ان کی کار
کردگی پر نظر رکھی جارہی ہے
دراوڑ نے کہا کہ گیند بازی میں ان
کو کافی جدو جہد کرنی پڑ رہی ہے۔ انہیں صحیح گیند ڈالنی ہوگی چاہے وہ
گیند بازی کی شروعات کررہے ہوں یا درمیان میں گیند بازی کررہے ہوں۔
ان کی گیند بازی کو لے کر ہماری پریشانی انہیں بھی پریشان کرسکتی ہے
ایک وقت میں ہندوستان کے سب
بہترین گیند باز کہلانے والے پٹھان ان دنوں تیسرے یا چوتھے نمبر کے
گیند باز بن گئے ہیں۔ ان کی خراب گیند بازی کا دور ویسٹ انڈیز میں
شروع ہوا جہاں انہوں نے چار میچوں میں29.83 کے مہنگے اوسط سے صرف6
وکٹ حاصل کیئے
ون ڈے میچوں کی سیریز میں انہیں ایک
میچ کے لئے باہر بھی بٹھایا گیا۔ ٹسٹ میچوں میں بھی انہوں نے بہتر
گیند بازی نہیں کی اور اسی وجہ سے مناف پٹیل اور ایس سری سنتھ سے
گیند بازی کی شروعات کرائی گئی۔66 ون ڈے میچوں میں109 وکٹ حاصل کرنے
والے عرفان پٹھان کا اسٹرائک گیند باز سے تیسرے نمبر کا گیند باز بن
جانا ٹیم کے لئے افسوس کا باعث ہے
عرفان کو سمجھنا ہوگا کہ کئی بہترین
گیند باز ٹیم میں جگہ بنانے کے لئے تیار ہیں انہیں یہ بھی دھیان
رکھنا ہوگا کہ ایک زمانے میں ٹیم کے سب سے اہم گیند باز مانے جانے
والے ظہیر خان آج ٹیم سے باہر ہیں۔ کاونٹی میں بہترین مظاہرہ کرنے کے
بعد بھی ظہیر کے لئے قومی ٹیم میں واپسی آسان نہیں ہے
آئندہ مہینے ہونے والی آئی سی سی
چمپئنز ٹرافی کے لئے بھی ظہیر خان کو ٹیم میں نہیں لیا گیا ہے۔ کچھ
لوگوں کو لگتا ہے کہ جب سے پٹھان کو بلے بازی میں تیسرے نمبر پر
بھیجا گیا ہے تب سے ان کی گیند بازی متاثر ہوئی ہے۔ وہ بلے باز کے
طور پر تو کامیاب ہورہے ہیں لیکن گیند بازی میں ان کی کار کردگی دن
بدن خراب ہوتی جارہی ہے
ٹیم منیجمنٹ کو اس بات کا خیال
رکھنا ہوگا کہ عظیم آل راونڈر کپل دیو چھٹے نمبر پر بلے بازی کرنے کے
باوجود بہترین گیند بازی بھی کرتے تھے
عرفان پٹھان کو بھی سمجھنا ہوگا کہ
پہلے وہ ایک گیند باز ہیں اس کے بعد ایک بلے باز۔ان کا پہلا کام گیند
بازی کرنا ہے البتہ یہ ان کا کمال کہا جائے گا کہ وہ عمدہ بلے بازی
بھی کر لیتے ہیں |