|
گل صاحب نے انڈین ہاکی کی کمان
سنبھالی ہے تب سے تو ٹیم کی کار کردگی اور بھی خراب رہی ہے
ٹیم کی کار کردگی سے اس بات کا پتہ
ہی نہیں چلتا کہ یہی وہ ٹیم ہے جس نے کئی مرتبہ اولمپک میں گولڈ میڈل
حاصل کیا ہے اور یہی وہ ٹیم ہے جس کا قومی کھیل ہاکی ہی ہے۔ اس بار
عالمی کپ ہندوستان کی ٹیم کی کار کردگی کیسی رہے گی
یہ تو وقت بتائے گا مگر اب تک جو
عالمی کپ ٹورنامنٹ منعقد ہوئے ہیں ان میں کل ملاکر ہندو ستان کا
ریکارڈ قابل ستائش نہیں ہے
عالمی کپ ہاکی کا انعقاد سب سے پہلی
بار1971 میں اسپین میں ہوا تھا۔ اس ٹورنامنٹ کے پول میچوں میں
ہندوستان کو ایک بھی شکست نہیں ملی۔ سیمی فائنل مقابلہ ہندو ستان اور
پاکستان کے درمیان ہوا۔ جس میں پاکستان کو جیت ملی۔ فائنل میں
پاکستان نے اسپین کو ہراکر ٹورنامنٹ پر قبضہ کیا
ہندو ستان نے کینیا کو ہراکر تیسری
پوزیشن حاصل کی۔ دوسرا عالمی کپ1973 میں ہالینڈ میں منعقد ہوا
پہلے عالمی کپ کی طرح ہی اس
بار بھی پول میچوں میں ہندوستان نے سبھی میچ جےتے۔ پول میچ میں
ہندوستان نے اسپین، کینیا اور جاپان کے خلاف جیت حاصل کی جب کہ نیوزی
لینڈ اور جرمنی کے ساتھ اس کا مقابلہ ڈرا رہا
سیمی فائنل میں ایک بار پھر ہندو
ستان اور پاکستان کا مقابلہ ہوا۔ اس بار ہندوستان کو جیت ملی
فائنل میں ہندوستان کا مقابلہ
میزبان ہالینڈ سے ہوا جہاں ہندوستان کو ہار ملی۔ جرمنی نے پاکستان کو
ہرا کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔1975 میں تیسرا عالمی کپ ملیشیا میں
منعقد ہوا۔ ےہ پہلا موقع تھا جب عالمی کپ ہاکی کا انعقاد ایشیا میں
ہورہا تھا
پاکستان اور ہندوستان کی
ٹیمیں اپنے اپنے پول میں ٹاپ پر رہیں۔ سیمی فائنل میں پاکستان نے
جرمنی کو بری طرح سے ہرایا جب کہ ہندوستان نے میزبان ملیشیا کو
ہرایا۔ ہندوستان نے فائنل میں پاکستان کو شکست دے کر پہلی بار عالمی
کپ خطاب پر قبضہ کیا۔1978 کا چوتھا عالمی کپ ارجنٹائنا میں منعقد
ہوا۔ اس بار ہندوستان کی کار کردگی خراب رہی اور اسے چھٹا مقام نصیب
ہوا۔ فائنل میں ہالینڈ کو شکست دے کر پاکستان نے خطاب پر قبضہ کیا
۔1982 میں پہلی بار عالمی کپ ہاکی
کا انعقاد ہندو ستان میں ہوا۔ ہندوستانی ٹیم کا خراب کھیل اپنے ملک
میں بھی جاری رہا اور اس بار اسے پانچویں پوزیشن نصیب ہوئی پاکستان
نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور فائنل میں جرمنی کو ہرا کر تیسری
مرتبہ خطاب پر قبضہ کیا۔1986 کا عالمی کپ انگلینڈ میں منعقد ہوا۔ ےہ
عالمی کپ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لئے کافی برا رہا۔
دونوں ٹیموں کا مقابلہ جب آپس میں
ہوا تو یہ آخری دو پوزیشن کے لئے تھا۔ جس میں پاکستان نے ہندوستان کو
ہرا کر گیارہویں پوزیشن حاصل کی جب کہ ہندوستان سب سے آخری یعنی12
ویں پوزیشن پر رہا۔ فائنل مقابلہ میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو ہرا کر
خطاب جیتا۔1990 میںعالمی کپ پہلی بار پاکستان میں منعقد ہوا
یہ پہلا ایسا موقع تھا جب
ہندوستان کو عالمی کپ میں شرکت کرنے کے لئے کوالیفائی میچوں کا سہارا
لینا پڑا۔ افسوس کی بات ےہ بھی رہی کہ پول میچوں میں ہندوستان کو ایک
میچ میں بھی کامیابی نہیں ملی۔ کل12 ٹیموں میں ہندوستان دسویں پو
زیشن پر رہا
ہالینڈ نے فائنل میں پاکستان کو ہرا
کر خطاب پر قبضہ کیا۔ پاکستان کے شہباز احمد کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ
کا خطاب ملا۔1994 کا عالمی کپ آسٹریلیا میں منعقد ہوا۔ یہ لگاتار
دوسرا ایسا موقع تھا جب ہندوستان کو کوالیفائی میچوں کے سہارے عالمی
کپ میں کھیلنے کا موقع ملا۔ مگر اس بار بھی ہندوستان کی کار کردگی
اچھی نہیں رہی اور اسے پانچویں پوزیشن ملی۔ فائنل مقابلہ پاکستان اور
ہالینڈ کے درمیان ہوا جس میں ٹائی بریکر میں پاکستان نے جیت حاصل کی
پاکستان کے شہباز احمد کو لگاتار
دوسری بار پلیئر آف دی ٹو رنامنٹ کا خطاب ملا۔1998 میں نو واں عالمی
کپ ہالینڈ میں منعقد ہوا۔1994 کے عالمی کپ میں پانچویں پوزیشن حاصل
کرنے کی وجہ سے ہندوستان کو اس بار ڈا ئرکٹ انٹری مل گئی۔ اس بار
ایشیا کی کوئی بھی ٹیم سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکی
گزشتہ چمپئن پاکستان کو پانچویں
پوزیشن ملی جب کہ ہندوستان کی ٹیم9 ویں نمبر پر رہی۔2002 کا عالمی کپ
ملیشیا میں منعقد ہوا۔ ہندو ستان کی پوزیشن اس بار بھی کافی خراب رہی
اور اسے10واں مقام ملا
پاکستان کی ٹیم پانچویں نمبر پر رہی
فائنل میں جرمنی نے آسٹریلیا کو ہرا کر خطاب جیتا۔ ہالینڈ کو تیسری
پوزیشن حاصل ہوئی۔ شروع کے تین عالمی کپ میں تو ہندوستان کا ریکارڈ
ٹھیک رہا۔ مگر اس کے بعد ہندوستانی ٹیم کی خراب کار کردگی کا جوسلسلہ
شروع ہوا ہے وہ اب تک جاری ہے |