|
ہے کہ اس سے آسٹریلیا کے خلاف پہلے
میچ میں جو غلطی ہوگئی وہ اس بار نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ کچھ ہی دنوں
پہلے ہندوستان کی ٹیم جب ویسٹ انڈیز کے دورہ پر گئی تھی تو اسے پانچ
ون ڈے میچوں کی سیریز میں4-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا
ہندوستان کی ٹیم ویسٹ انڈیز سے اس
کا بدلہ لینے کو بے قرار ہے۔ ڈی ایل ایف کپ کے پہلے میچ میں جب ویسٹ
انڈیز نے آسٹریلیا کے279 رنوں کا پیچھا کیا تو ایک وقت تو ایسا لگ
رہا تھا کہ ویسٹ انڈیز ےہ میچ آسانی سے جیت لے گا مگر اچانک بازی
پلٹ گئی اور ویسٹ انڈیز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستان کے خلاف
جیت حاصل کر کے ویسٹ انڈیز اس غم کو بھلانا چاہے گا
ویسٹ انڈیز اور ہندوستان کے درمیان ون ڈے کرکٹ کی شروعات1979 کے
دوسرے عالمی کپ کے دوران ہوئی تھی۔ اس عالمی کپ میں ان دونوں ٹیموں
کے دوران صرف ایک میچ کھیلا گیا تھا جس میں ویسٹ انڈیز کو کامیابی
ملی تھی اس کے بعد1982-83 میں ہندو ستان کی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کا
دورہ کیا تھا
اس دورے پر تین ون ڈے میچ کھےلے گئے
تھے جن میں سے دو میں ویسٹ انڈیز کو فتح ملی تھی جب کہ ایک میچ
ہندوستان نے جیتا تھا۔ شروع کے کچھ سالوں تک ویسٹ انڈیزسے میچ جیتنا
ہندو ستان کے لئے کافی مشکل تھا۔ اسی لیئے ان دونوں ملکوں کے
درمیان ون ڈے کرکٹ کے شروعات کے بعد لگ بھگ دس سالوں تک ہندوستان کو
بہت کم میچوں میں جیت ملی
بعد میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کچھ
کمزور پڑ گئی اور ہندو ستان کو جیت ملنے نصیب ہوئے۔ وےسے اعداو شمار
بتاتے ہیں کہ ابھی بھی کل ملاکر ویسٹ انڈیز کے خلاف ہندوستان کا
ریکارڈ بہتر نہیں ہے۔ اب تک کل ملا کر ان دونوں ٹیموں کے درمیان83 ون
ڈے میچ کھےلے گئے ہیں۔ جن میں ویسٹ انڈیز کو50 میچوں میں جیت ملی ہے
جب کہ ہندوستان نے صرف31 میچ جےتے ہیں۔ آسٹریلیا میں کھیلا گیا ایک
میچ ٹائی رہا جب کہ سنگا پور میں کھیلا گیا ایک میچ بغیر کسی نتیجے
کے ختم ہوگیا
ویسٹ انڈیز کے میدانوں پر تو
ہندوستانی ٹیم کا ریکارڈ بہت ہی خراب ہے۔ ویسٹ انڈیز میں ان دونوں
ٹیموں کے خلاف20 میچ کھےلے گئے ہیں۔ جن میں سے ہندوستان کو صرف پانچ
میں جیت ملی ہے جب کہ ویسٹ انڈیز نے15 میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے
نیوٹرل مقامات پر ان دونوں ٹیموں کا
ریکارڈ برابر ہے۔ نیوٹرل مقامات پر ان دنوں ٹیموں کے درمیان30 میچ
ہوئے ہیں جن میں سے دونوں کو14-14 میچوں میںجیت ملی ہے۔ ایک میچ ٹائی
رہا ہے جب کہ ایک کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔1983-84 میں جمشید
پور میں ویسٹ انڈیز نے آٹھ وکٹ کی نقصان پر333 رن بنائے تھے یہ ویسٹ
انڈیز کا ہندوستان کے خلاف ایک اننگ میں سب سے بڑا اسکور ہے۔ ہند
وستان کا یہ ریکارڈ325 رنوں کا ہے
اتنے رن ہندوستان نے2002-03 میں
احمد آباد میں پانچ وکٹ کے نقصان پر بنائے تھے۔ اسی میدان پر1993-94
میں ہندوستان کی پوری ٹیم صرف100 رن بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی جو کہ
ویسٹ انڈیز کے خلاف ہندوستان کا ایک میچ میں سب سے کم اسکور ہے۔ ویسٹ
انڈیز کا یہ ریکارڈ121 رنوں کا ہے۔ اتنے کم اسکور پر ویسٹ انڈیز کی
پوری ٹیم 1996-97 میں پورٹ آف اسپین میں آؤٹ ہوگئی تھی۔ 1988-89 میں
جارج ٹاون میں ڈیسمنڈ ہنس نے152 رنوں کی شاندار اننگ کھیلی تھی
یہ ویسٹ انڈیز کے کسی بھی
کھلاڑی کا ہندوستان کے خلاف بنایا گیا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔
ہندوستان کی طرف سے ےہ ریکارڈ سچن تندولکر کے نام ہے۔ تندولکر نے2001
میں ہرارے میں ناٹ آوٹ122 رن بنائے تھے۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے
ہندوستان کے خلاف اب تک19 سنچری اسکور کی جاچکی ہے۔ جب کہ ہندو ستان
کی طرف سے ویسٹ انڈیز کے خلاف13 سنچریاں بنی ہیں۔1993-94 میں کولکاتہ
میں انل کمبلے نے صرف12 رن دے کر ویسٹ انڈیز کے6 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا
تھا
یہ ہندوستان کی طرف سے ویسٹ
انڈیز کے خلاف سب سے اچھی بالنگ کار کردگی ہے۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے
ےہ ریکارڈ پیٹرک پیٹرسن کے نام ہے۔ پٹرسن نے1987-88 میں ناگپور میں29
رن دے کر ہندوستان کے6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا |