|
ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ شرم کرے،سلیکٹر شرم کریں،کوچ گریگ چیپل شرم کریں،کپتان شرم کرے یا پھر کھلاڑی شرم کریں اصلیت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی اس شرمناک کارکردگی پر شرم کرنے کو تیار نہیں ہے۔بڑے تام جھام کے ساتھ آسٹریلیا کے گریگ چیپل کو کوچ کی ذمہ داری یہ سوچ کر سونپی گئی تھی کہ وہ ہندوستانی ٹیم کو بھی آسٹریلیا جیسا بنا دیں گے ہندوستان میں جو لوگ چیپل کے مرید ہیں ،ان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں،اور جو کہتے ہیں کہ چیپل دور اندیش ہیں اور انڈین کرکٹ ٹیم کوخاص طور پرعالمی کپ کے لےے تیار کررہے ہیںویسے لوگ غلط فہمی کے شکار ہیں۔میچوں کے نتیجے اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ گریگ چیپل ٹیم کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کررہے ہیں۔آسٹریلیا کے کئی کھلاڑی یہ کہہ چکے ہیں کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گریگ چیپل اپنے زمانے کے بہترین بلے باز رہے ہیں مگر ایک کوچ کے طور پر ان میں بالکل ہی دم نہیں ہے۔چیپل نے آسٹریلیا کی جس لوکل ٹیم کے کوچ کی ذمہ داری سنبھالی اس نے کبھی کوئی اہم ٹورنامنٹ نہیں جیتا یہ باتیں ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے ان افسران کو بھی پتہ رہی ہوں گی جو ہر حالت میں چیپل کو ہی کوچ بنانا چاہتے تھے۔پہلی غلطی تو یہ کی گئی کہ اپنے ملک میں کئی عمدہ سابق کھلاڑی ہونے کے باوجود چیپل کو کوچ بنایا گیا اور دوسری اس سے بڑی غلطی یہ کی گئی کہ انہیں کچھ زیادہ ہی اختیارات دے دئے گئے۔چیپل کو لگا کہ ہندوستان کے بے وقوف لوگ انہیں کچھ زیادہ ہی ترجیح دے رہے ہیں تو انہوں نے اپنی من مانی شروع کر دی۔بھلا ہو کپتان راہل دراوڑ کا جو اللہ میاں کی گائے کی طرح چیپل کی ہر باتوں کو سنتے رہے اور ان کے ہر صحیح اور غلط فیصلے میں ہاں میں ہاں ملاتے رہے چیپل کو لگا کہ ہندوستان میں ان سے کوئی باز پرس کرنے والا ہے نہیں اس لئے انہوں نے جیسے چاہا کھلاڑیوں کو اپنی انگلی پر نچایا۔کھلاڑیوں کو پریکٹس اور ٹریننگ کے نام پر وہ سب کام کرنے پڑے جو فوج کرتی ہے۔کھلاڑیوں کی ٹریننگ کو دیکھ کر ایسا لگا کہ انہیں کہیں میچ کھیلنے نہیں بلکہ کسی ملک کے خلاف جنگ کرنے جانا ہے مگر ان ساری ٹریننگ اور تیاروں کا نتیجہ کیا نکلا صفر۔ٹیم ویسٹ انڈیز میں ہاری، اس کے بعد ملیشیا میں ہاری اور اب اس سے زیادہ شرمناک کیا ہو سکتا ہے کہ اپنے ملک میں منعقد چمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکی۔چیپل اپنی من مانی سے ٹیم کے ساتھ طرح طرح کے تجربے کر رہے ہیں۔ٹیم کی کارکردگی دن بہ دن خراب ہوتی گئی اور چیپل اپنا تجربہ کرتے رہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ کپتان راہل دراوڑ چیپل کی ان ساری من مانیوں میں ہاں میں ہاں ملاتے رہے ٹیم کی لوٹیا ڈوبتی رہی مگر انہوں نے اس بات کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ چیپل کے فیصلوں کی مخالفت کریں بلکہ انہوں نے بورڈ کے افسران سے اس کی شکایت کرنا بھی گوارہ نہیں کیا۔چیپل کے تجربوں کی وجہ سے کئی بلے بازوں کے فارم خراب ہوئے۔یہ بات کئی سابق کرکٹر بھی کہہ چکے ہیں اور اس میں پوری طرح سے سچائی بھی ہے کہ عرفان جیسے بہترین گیند باز کی گیند بازی کو خراب کرنے کی ذمہ داری چیپل کی ہے۔عرفان جب ہندوستان کی ٹیم میں شامل ہوئے تھے تو ایسا لگا تھا کہ ایک عرصہ کے بعد ہندوستان کو پھر ایک کپل دیو مل گیا ہے مگر عرفان کو بار بار ایک بلے باز کے طور پر استعمال کر کے چیپل نے پٹھان کی بلے بازی بھی خراب کر دی اور گیند بازی بھی اب ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا چیپل کی یہ من مانی جاری رہے گی ؟وہ ٹیم کے ساتھ ایسے ہی تجربے کرتے رہیںگے اور کوئی ان کی اس من مانی کو روکے گا نہیں۔آخر بورڈ چیپل کے اب تک کے کاموں کا تجزیہ کیوں نہیں کرتا۔یہ تو صاف طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ چیپل کی نگرانی میںٹیم انڈیا جیسی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اس کی بنیاد پر اس سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ اس ٹیم میں عالمی کپ جیتنے کا مادہ ہے۔دنیا بھر میں ٹیم انڈیا کا نام خراب کرنے میں چیپل تو اپنا رول نبھا ہی رہے ہیںکھلاڑی بھی پیچھے نہیں ہیں۔کھلاڑیوں کا دھیان کمائی پر زیادہ اور کھیل پر کم ہے۔ہر کوئی بس اسی دھن میں ہے کہ جلدی سے جلدی اور زیادہ سے زیادہ کمائی کر لی جائے۔کوئی ایر ٹیل کا کارڈ بیچ رہا ہے،کوئی ٹاٹا انڈی کام کا کارڈ اور موبائل بیچ رہا ہے، کسی کو موٹر سائکل بیچنے میں مزہ آ رہا ہے تو کوئی لال دنت منجن کا اشتہار کر رہا ہے۔ نئے پرانے سبھی کھلاڑی کمائی کا کوئی بھی ذریعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں لاکھوں اور کڑوروں میں ان کھلاڑیوں کی کمائی ادھر ادھر سے توہوتی ہی ہے بورڈ سے بھی ان کو لاکھوں روپئے ملتے ہےں۔اس کے بدلے یہ کھلاڑی ٹیم کو کیا دیتے ہیں ذلت اور رسوائی۔یہاں دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ ان کھلاڑیوں نے اپنے آپ کو ملک سے بڑا سمجھ لیا ہے ۔پتہ نہیں کیوں ان کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ انہیں ٹیم میں کھیلنے کا موقع دیکر ملک ان پر احسان کر رہا ہے وہ کھیل کر ملک پر احسان نہیں کر رہے ہیں ملیشیا میں ڈی ایل ایف کپ اور ہندوستان میں ہوئی چمپئنز ٹرافی میں ان کھلاڑیوں کی کار کردگی پر نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ اس دوران انہوں نے جتنی کمائی کی ہے اس کا دس فیصد بھی کھیل نہیں دکھایا ہے۔چمپئنز ٹرافی کی ہی بات کر لیں۔اس میں کل ملا کر بلے باز اور گیند باز دونوں ہی فلاپ رہے۔سال میں کڑوروں کمانے والے سچن تندولکر نے تین میچوں میں صرف 74رن بنائے۔ان کے علاوہ مہندر سنگھ دھونی نے 3میچوں میں86،کپتان راہل دراوڑ نے 3میچوں میں105،سریش رینا نے 3میچوں میں صرف32،ویریندر سہواگ نے3میچوں میں 91،اور یووراج سنگھ نے 2میچوں میں 54رن بنائے۔محمد کیف کو صرف ایک میچ کھیلنے کا موقع ملا جس میں انہوں نے 30رن بنائے گیندبازوں کی بات کریں تو اجیت اگرکرنے دو میچوں میں صرف دو،ہربھجن سنگھ نے تین میچوں میں صرف دو اورمناف پٹیل نے تین میچوں میں صرف چار وکٹ حاصل کئے۔سری سنتھ کو صرف ایک میچ کھیلنے کا موقع ملا جس میں اس نے دو وکٹ حاصل کئے
ویسے تو کل ملا کر سبھی کھلاڑیوں کی کارکردگی خراب رہی اور اگر کسی میچ میں بلے باز کچھ بہتر کھےلے بھی تو اس میچ میں گیند باز فلاپ ہو گئے اور گیند بازوں نے کچھ بہتر کھیل دکھایا تو بلے بازوں نے ان کی محنتوں پر پانی پھیر دیا۔کل ملا کر سوربھ گانگولی نے جس ٹیم کو ’’ٹیم انڈیا‘‘ کا نام دیا تھا اس میں فی الحال’’ ٹیم‘‘ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔گانگولی نے ٹیم میں جو جوش پیدا کیا تھا اس کی کمی صاف دکھائی دے رہی ہے اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ چیپل کے دبائو میں آکر ہی گانگولی کو ایک سیاست کے تحت ٹیم سے باہر کیا گیا ہے۔ چیپل کو اس بات کا اندازہ تھا کہ اگر گانگولی ٹیم میں رہے تووہ دراوڑ کی طرح گونگے اور بہرے بن کران کی من مانی نہیں دیکھتے رہیں گے۔ بورڈ کے افسران کو چاہئیے کہ وہ جلد سے جلد ٹیم کی حالت بہتر کرنے کے لئے کچھ کریں ورنہ ٹیم انڈیا اس غرق میں چلی جائے گی جہاں سے اس کا نکلنا مشکل ہو جا ئے گا |