|
15اکتوبر سے شروع ہونے والی دہلی ہالف میراتھن ریس میں قسمت آزمائی کرلیں ۔کپل دیو نے کہا کہ بھارتی ٹیم میں گنگولی کی واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا جبکہ بھارتی سلیکٹرز ان کو ایک سال قبل ہی یہ باور کراچکے ہیں کہ ان کو بھارتی کرکٹ ٹیم میں جگہ ملنا نہایت مشکل ہے
مگر گنگولی پھر بھی تگ ودو کررہے ہیں اور ان کو ابھی بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ٹیم کو ان کی ضرورت ہے ۔کپل دیو نے کہا کہ گنگولی نے بھارتی کرکٹ کے لئے لمبے عرصہ تک اپنی خدمات انجام دی ہیں مگر ہر کھلاڑی کے کیریئر کو اختتام پذیر ہونا ہوتا ہے
سابق بھارتی کھلاڑی نے کہا کہ ہر کھلاڑی چاہتا ہے کہ وہ ون ڈے کرکٹ میں دس ہزار سے زائد رنز بنائے مگر اس کا انحصار آپ کو دستیاب مواقعوں پر ہوتا ہے
کپل دیو نے کہا کہ گنگولی کے ٹیم سے اخراج کے بعد کئی حلقوں کی جانب سے ان کے خلاف منفی انداز میں بھی باتیں کہی گئیں مگر میں گنگولی کی قومی ٹیم کے لئے خدمات کو احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور ان کو ایک عمدہ کھلاڑی تسلیم کرتا ہوں
کپل دیو کا کہنا تھا کہ عروج و زوال بھارتی کرکٹ کا حصہ ہے ،آج اگر کرکٹ شائقین آپ کو سر پر بھٹارہے ہوتے ہیں تو کل وہ آپ کی طرف نظر بھر کے بھی نہیں دیکھتے ۔انہوں نے کہا کہ بلندی اور پستی بھارتی کرکٹ کلچر میں شامل ہے اور آپ کو ہر لمحہ پھولوں کے گلدستے یا پھر اینٹوں پتھروں کے لئے تیار رہنا چاہئے |