|
نہیں ہے
اگر فارم کے نظریے سے دیکھیں تو ہندوستان کی ٹیم زیادہ مشکلوں سے دوچار ہے۔ ہندوستان کی ٹیم کو جہاں اس بات کا فائدہ ہے کہ ٹیم میں سچن کی واپسی ہوگئی ہے اور عمدہ فارم میں بھی ہیں مگر ٹیم کے لےے فکر کی بات یہ ہے کہ اس کے کئی چوٹی کے بلے باز اچھی فارم میں نہیں ہیں۔ جے پور میں ایک لوکل میچ کے دوران حالانکہ مہندر سنگھ دھونی اور ویریندر سہواگ نے عمدہ بلے بازی کی مگر انگلینڈ کے خلاف ان کی کارکردگی کیسی ہوگی یہ دیکھنے والی بات ہوگی
کپتان راہل دراوڑ سمیت دھونی، یوراج، کیف اور ویریندر سہواگ ان دنوں خراب فارم سے گزررہے ہیں۔ اگر ان کھلاڑیو ںکی فارم میں سدھار نہیں ہوا تو ٹیم انڈیا کے لیئے مشکل ہوجائے گی۔ ویسے اپنا میدان ہونے کی وجہ سے پلڑا تو ٹیم انڈیا کا ہی بھاری ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم میں کافی اچھے کھلاڑی ہیں ہندوستان کے لےے سب سے بڑا مسئلہ فلنٹاف ہوں گے۔ فلنٹاف کی گنتی دنیا کے بہترین آل رائونڈر میں ہوتی ہے۔ اگر فلنٹاف کو سستے میں نہیںنپٹایاگیا تو وہ درد سر ثابت ہوسکتے ہیں
ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان ونڈے کرکٹ کی شروعات 1974میں ہوئی تھی۔اس سال پروڈینشیل ٹرافی کے نام سے کھیلی گئی سیریز میں ان دونوں ٹیموں کے درمیان دو ونڈے میچ کھیلے گئے تھے۔ان دونوں ہی میچوں میں ہندوستانی ٹیم کو شکست ہوئی تھی۔ان دونوں ٹیموں کے درمیان آخری سیریز 2005-06میں منعقد ہوئی تھی۔مذکورہ سیریزمیں چھ ونڈے میچ کھیلے گئے تھے جن میں سے پانچ میں ہندوستان کو کامیابی ملی تھی جب کہ ایک میچ انگلینڈ نے جیتاتھا
اب تک کل ملاکر ان دونوں ٹیمو ں کے درمیان57ونڈے میچ کھیلے گئے ہیں جن میںسے 26میں انگلینڈ کو کامیابی ملی ہے جب کہ 29میچ ہندوستان نے جیتے ہیں۔2میچوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ہندوستانی میدانوں پر ان دونوں ٹیموں کے درمیان 28ونڈے مقابلے ہوئے ہیں جن میں سے انگلینڈ نے 13میں کامیابی حاصل کی ہے جب کہ ہندوستان کو 15میچوں میں جیت ملی ہے۔1975کےپہلےعالمی کپ کے دوران لارڈز میں انگلینڈ کی ٹیم نے چار وکٹ کے نقصان پر 334رن بنائے تھے یہ ونڈے کرکٹ میں انگلینڈ کا ہندوستان کے خلاف ایک اننگ میں سب سے بڑا اسکور ہے
۔2002میں بعد میں بلے بازی کرتے ہوئے یوراج سنگھ اور محمد کیف کی شاندار اننگ کی بدولت ہندوستان نے 8وکٹ کے نقصان پر 326رن بناکر جیت حاصل کی تھی۔یہ ہندوستان کاانگلینڈ کے خلاف ایک اننگ میں سب سے بڑا اسکور ہے۔1975میں لارڈز کے تاریخی میدان پر ڈینس ایمس نے شاندار 137رن بنائے تھے۔یہ انگلینڈ کے کسی بلے باز کی طرف سے ہندوستان کے خلاف بنایاگیا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے
ہندوستان کی طرف سے یہ ریکارڈ نوجوت سنگھ سدھو کے نام ہے۔سدھونے 1992-93میں گوالیار میں ناٹ آؤٹ 134رن بنائے تھے۔2002میں لارڈز میں مارکس ٹریسکوتھک اور ناصر حسین نے دوسری وکٹ کے لےے 185رنو ں کی شراکت کی تھی۔ یہ انگلینڈ کی طرف سے ہندوستان کے خلاف کسی بھی وکٹ کے لےے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ ہے
ہندوستان کی سے یہ ریکارڈ 192رنوں کا ہے۔2002-03میں کولمبو میں وریندر سہواگ اور سوروبھ گانگولی نے پہلی وکٹ کے لےے اتنے رنوں کی شراکت کی تھی۔آشیش نہرا کے نام ہندوستان کی طرف سے انگلینڈ کے خلاف سب سے بہتر گیند بازی کرنے کاریکارڈ ہے
۔ 2002-03میں ڈربن میں نہرا نے صرف23رن دے کر انگلینڈ کے چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔انگلینڈ کی طرف سے یہ ریکارڈ رونی ایرانی کے نام ہے۔ انہوںنے 2002میں اوول میں 26رن دے کر 5پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا |