|
آغاز سے لےکر اب تک بالی وڈ میں مختلف
ملکوں کے اداکار آکر کام کرتے رہےہیں
یہاں تک ابتداہی
میں بیشتر بڑے بڑے اداکار ہندو ہی نہیں
بلکہ یہودی اور مسلمان تھے
لیکن اب بالی وڈنےمسلمانوں
کوبھارتی سماج میں اجنبی مخلوق بنا کر
رکھ دیا ہے اور اسکے قوم پرست فلمسازوہدایت
کاروں نے انتہاپسندوں کی رائے عامہ اور اپنی فلموں کو
انکی نظروں میں مقبول بنانے کےلئے بھارت
کی سب سے بڑی اقلیت کا سماجی مستقبل دائو
لگا دیاہے
بالی وڈ کے مسلمان نہ دفتر جاتے
ہیں
اور نہ ہی انہیں کسی
حسینہ سے محبت ہوتی ہے انکے چہرے مسکراہٹ کی بجائے ہر لمحےلڑمرنے کی
وحشت لئے ہوتے ہیں
روائتی طور پر ممبی کی فلم نگری نے
مسلمانوں کو رحیم چاچائوں اورنوابوں کے
روپ میں پیش کیاجاتا
ہےجو پان چباتے ہوئے اپنا وقت اور پیسہ کوٹھوں جو انہٰی کی قوم کی
بہو بیٹیوں سے
بھرتے رہتے ، پر لٹاتے رہتے تھے
جبکہ خواتین ”امی جان” اور
کمسن رقاصاؤں کے روپ میں
نوابوں اور امیرزادوں کو خوش کرنے
میں لگی رہتی تھیں
دنیا میں سب سے زیادہ
فلمیں ریلریز
کرنے والی انڈسٹری نے بیسویں صدی میں بھی اپنا وہ
رجحان تبدیل نہیں کیا گو کہ اس نے
جدید اطوار اپنا لیئے ہیں
آج کی بھارتی فلم کا مسلمان تشدد پسند ، جہادی اور ہندوستان کے
ٹکڑے کرنے کی آرزوہرلمحہ دل میں بسائےرکھنے والاہے جو بھارت کو اپنا وطن
نہیں محض ایک میدان
جنگ سمجھتا ہے جس میں اسے ہرقیمت
پر جیت کر اپنےاصل گھر
پاکستان جانا ہے
ایم ایس ساتھےوو ”گرم
ہوا”بناکربالی وڈ میں مسلمانوں کو زیرِ
بحث لانےوالے پہلے ہندوستانی فلمساز بن گئے
فلم کا موضوعتقسیم ہند کے وقت ایک
مسلمان گھرانے پر آنے والی مصیبتیں تھیں
ایک طویل وقفے بعد 1991میں
”حنا” ریلیز کی گئی جس
کامرکزی خیال ایک عشقیہ
کہانی
تھا
ایک ہندو نوجوان(رشی کپور)آزاد
کشمیر پاکستان کی مسلمان لڑکی(زیبا بختیار)کے
عشق میں گرفتار ہوجاتا ہے
فلم میں کسی قسم کے متنازعہ پہلو پر ہاتھ
ڈالنے کی کوشش نہیں کی گئی
اسکے 6 برس بعد اس موضوع پر فلموں کا سیلاب امنڈ
آیااور 1997سے اب تک 25کے قریب ایسی
فلمیں ریلیز
کی گئی ہیں جن میں
بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلمانوں کو
موضوع بنایا گیا ہے
ان میں سرفروش، ماں تجھے سلام، پکار،
غدر، غلام مصطفی، بارڈر، ہندوستان کی قسم، مشن
کشمیر،
فِضا،16دسمبر،اعلان،دل سے،ہےجیس نمایاں
فلمیں ہیں جن میں بلاواسطہ مسلمانوں اور پاکستان کو بھی
فلمایا گیا ہے
جبکہ ایسی فلموں کی تعداد انگنت ہے جن
میں کوئی نہ کوئی مسلم کردار پیش کیا گیا
ان تمام کرداروں میں ایک
قدر مشترک ہےکہ انکا مسلمان ان پڑھ،
لاابالی طبیعت کا،جلد بازاور تشدد
کی طرف مائل ہے
امریکہ کی سٹین
فورڈ یونیورسٹی سے پی
ایچ ڈی کی ڈگری لینے
والے بھارتی دانشورامیت ایس
رائےایک ویب سائٹ
مضمون میں بالی وڈ میں
مسلمانوں کی کردار نگاری کے بارے میں
کہتے ہیں ۔۔ یہ
رجحان ہندو سماج کے مسلمانوں کی انفیکشن
سمجھنے کا نتیجہ ہے جو اب بالی وڈ
میں
نمودار ہورہا ہے
متعدد بھارتی فلمیں ایسی
ملیں گی جن میں مسلمان کرداروں
کو ایسے حالات میں
لاکھڑا کیا جاتا ہے کہ وہ بھارت سے اپنی
وفاداری کا اعلان کریں اور باآواز
بلنداسے اپنا ملک تسلیم کریں
تاہم یہ رجحان صرف مسلمان
اقلیت کے لئے دکھایا
جاتا ہے۔ کسی مسیح یا
پارسی کردار کو ان حالات سے
دوچار نہیں دکھایا جاتا
اس بارے میں رائے لکھتے
ہیں ۔۔
بالی وڈ کی فلمیں ہندو قوم
پرست سماج کی اس لاشعوری خواہش کااظہار ہیں
جس میں وہ ہندوستان کو ایسا
میدان جنگ بنانا چاہتے ہیں
جہاں اقلیتوں ، بالخصوص ملسمان،بار بار
اس سے اپنی وفاداری کا اظہار کریں
جبکہ مسیح ہندوطرز کے نام رکھے
ہوئے، اپنی نئی نسل کی شادیاں ہندوئوں سے
ان کے انداز میں کرتے اور سماج
میں شرافت سے رہتے ہوئے دکھائے جاتے
ہیں
اس بارے میں بالی وڈ کے مسلمانوں کے خلاف
مخاصمت کے احساس سے باہر کیوں نہیں آپایا؟
اس بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ
ہندوستانی سماج تقسیم کے ”سانحہ”
سے باہر نہیں آیا اور اسی
جذبے کے تحت فلموں میں اس کا سارے کا
ساراسبب ہمیشہ مسلمانوں کو جبکہ
ہندوؤں کو معصوم اور سادہ لوح دکھایا
جاتا ہے
اگرچہ بالی وڈ کی تاریخ
میں اور اسے اس مقام تک پہنچانےمیں
مسلمان اداکاروں اور ہدایتکاروں نے
ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے اور دلیپ
کمار سے لےکرشاہ رخ اور زید خان تک متعدد
ادکاروں نے سپرہٹ فلمیں دیں اور خان آصف
مغلِ اعظم جیسا شاہکار تخلیق
کر کے بالی وڈ میں امر ہو گئے
لیکن ان کے آباؤاجداد
اور ہم مذہبوں کو دنیا کی دوسری بڑی
فلم انڈسٹری میں
آ ج بھی اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتااورسماج کے ایسے
طبقے کی صورت میں سکرین
پر لایاجاتا ہے جو وہاں رہتے ہوئے
نہ تو ریاستی نظام میں
فٹ ہوتے ہیں اور نہ ہی ہندو سماج میں
اپنے لئے جگہ بنا پاتے ہیں
اسکے برعکس خود کو قائم رکھنے کے لئے ”محسنوں” کو ہی ڈبوناچاہتے
ہیں
|