|
انجام دے رہے ہیں۔ بھارت یاترا سے قبل
طارق
جیکسن نے کہا کہ آجکل ون مین شوز کی جگہ میوزیکل کنسرٹس نے لے لی ہے جن
میں کامیڈی اور کمپیئرنگ پر توجہ نہیں دی جاتی گلوکار حضرات خود ہی
سارے کام سنبھال لیتے ہیں جس کی وجہ سے کامیڈی اور خصوصاً ون مین شوز
زوال پذیری کا شکار ہیں
طارق جیکسن نے بتایا کہ میرا اصل نام طارق محمود
ہے لیکن مائیکل جیکسن کی پیروڈی کرنے کی وجہ سے میرا نام طارق جیکسن
مشہور ہو گیا ویسے بھی میری شکل مائیکل جیکسن سے ملتی تھی لیکن اب میری
شکل کوثر نیازی سے ملتی ہے
طارق جیکسن نے انکشاف کیا کہ مجھے دلدار پرویز
بھٹی نے متعارف کروایا معین اختر سے بہت زیادہ متاثر ہوں ان کو دیکھ
دیکھ کر اور ان کے قریب رہ کر کامیڈی سیکھی ہے اور وہ میرے استاد ہیں
اس کے علاوہ عمر شریف اور انور مقصود کے ساتھ پرفارم کر چکا ہوں
طارق جیکسن نے کہا کہ میں ناصرف پاکستان بلکہ
بیرون ممالک میں بھی پرفارم کر چکا ہوں 1981ءمیں پہلی مرتبہ دبئی شو
کرنے کے لئے گیا تھا۔ اس شو میں عمر شریف، حمیرا چنا، احمد جہانزیب (جو
اس وقت انتہائی کم عمر تھے) بلوچی گلوکار سلمان شاہ اور افراہیم نے
پرفارم کیا اور میری پرفارمنس کو بھی شائقین نے بے حد پسند کیا
ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے طارق جیکسن نے کہا
کہ ایک مرتبہ عمر شریف شو کرنے دبئی گیا پہلی پرفارمنس کے بعد رات کو
ہوٹل کے کمرے میں ایک خاتون کا فون آیا خاتون میری تعریفیں کرنے لگیں
اور کہا کہ آپ بہت اچھا پرفارم کرتے ہیں میں آپ کی بہت مداح ہوں ، کیا
آپ مجھے ہوٹل کی لابی میں مل سکتے ہیں میں نے ایک مداح کے طور پر خاتون
کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں آپ سے مل سکتا ہوں لہٰذا میں ہوٹل کی
لابی میں چلا گیا اور ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا وہاں اچانک مجھے
عمر شریف نظر آئے اور مجھے پوچھنے لگے کہ تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو
چلو اوپر کمرے میں جاو یہ دبئی ہے پاکستان نہیں
لہٰذا میں کمرے میں اوپر آ گیا اگلے روز پھر
خاتون کا فون آیا اور انہوں نے مجھے لابی میں ملنے کا کہا میں پھر چلا
گیا وہاں پھر مجھے عمر شریف ملے اور مجھے ڈانٹنے لگے میں پھر کمرے میں
آ گیا تیسرے روز پھر ایسا ہوا خاتون کا فون آیا میں لابی میں گیا لیکن
سامنا عمربھائی سے ہو گیا پھر وہ ہنسنے لگے اور مجھے اپنے کمرے میں
بلایا بعد میں پتہ چلا کہ خاتون کی آواز میں عمر بھائی فون کرتے تھے ا
ور مجھے بلا کر خود بھی لابی میں چلے جاتے تھے اس بات پر گروپ میں شامل
تمام فنکار بہت لطف اندوز ہوئے
طارق جیکسن نے کہا کہ اچھی اور معیاری تفریح
کیلئے بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے میں نہیں چاہتا کہ کوئی ہم پر تنقید کرے
اور کہے کہ آپ یہ کیا بول رہے ہیں
میں نے ایک انگلش آئٹم پر ڈیڑھ سال تک ریسرچ کی
ہے اس کے علاوہ میں مختلف کیبل چینلز کو مانیٹر کر کے ایک زبردست آئٹم
تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہوں طارق نے کہا کہ میں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے
حادثے کو دیکھ کر ایک ہنسی کا آئٹم تیار کیا ہے جس کو عوام بے حد پسند
کرتے ہیں اپنے مستقبل کے ارادوں کے بارے میں طارق جیکسن نے کہا کہ
پیروڈی گانوں کی کیسٹ کرنا چاہ رہا ہوں اور اپنی لائف پر ڈاکومنٹری
بنانا چاہتا ہوں جس کا پیچ ورک شروع کر چکا ہوں
طارق نے کہا کہ جب میں پرفارم کر رہا ہوتا ہوں
تو میری مکمل توجہ اپنے آئٹم پر ہوتی ہے لوگ ہنستے ہیں تو خوشی ہوتی ہے
لیکن اگر نہ ہنسیں تو بھی توجہ آئٹم پر ہی رہتی ہے اب تک نوازشریف اور
بینظیر بھٹو کے سامنے پرفارمکر چکا ہوں
طارق جیکسن نے کہا کہ اس وقت کامیڈی اور ون مین
شو زوال پذیر ہیں کیونکہ میوزیکل کنسرٹس اور ڈانس گروپ بہت زیادہ ہو
گئے ہیں بے حیائی زیادہ ہو گئی ہے لیکن میں اچھے انداز میں معیاری
تفریح دینے کا قائل ہوں اور ایسے آئٹم کرتا ہوں جو پوری فیملی دیکھ سکے
طارق نے بتایا کہ ان دنوں بھارتی ٹی وی چینل
سٹار ون کے معروف پروگرام گریٹ انڈین لافٹر چیلنج کمپیٹیشن میں پرفارم
کر رہا ہوں اس پروگرام میں بھارتی اداکار اور کامیڈین شیکھر ثمن اور
سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو جج کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔سنا ہے کہ اس
پروگرام میں شیکھر ثمن طارق جیکسن کی پرفارمنس سے کافی متاثر ہوئے اور
شیکھر نے طارق جیکسن کی پرفارمنس پر ان سے ناانصافی بھی کر دی جس پر
نجوت سنگھ سدھو نے ان کے اس فیصلے پر واک آوٹ کر دیا جس کے بعد طارق
جیکسن کی پرفارمنس کو دیکھتے ہوئے انہیں پروگرام کے سیمی فائنل کے لئے
کوالیفائی کرنا ہی پڑا
طارق جیکسن اس پروگرام میں شرکت کے لئے
بھارت میں ہیں دیکھتے ہیں کہ طارق کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں ویسے طارق
جیکسن کا کہنا ہے کہ اس کی تمام دعائیں اس وقت پوری وہ گئیں جب اس کا
نام بھارت میں ایک پاکستانی آرٹسٹ کے طور پر لیا گیا |