|
ناطے ہندووں میں خاصی قدر و منزلت کے مالک
ہیں۔انہیں خیرات دینا آنے والی بلاوں کو ٹالنے کا ذریعہ سمجھتا جاتا
ہے
ہندوستان میں ہیجڑوں کے لئے ایک دوسری اصطلاح ”کنار“ بھی مستعمل
ہے۔ اور ہیجڑے اسے زیادہ مودب اور بہتر خیال کرتے ہیں۔ جبکہ ”چھکا“
بھی ایک اصطلاح ہے جو بالعموم تضحیک کے لئے بولی جاتا ہے
تامل ناڈو
میں انہیں ”اروانی“یا ”ارووانی“ کہا جاتا ہے جبکہ ”کوٹھی“یا ”کوٹی“
بھی ہندوستان میں مروج ہیں۔ کولکتہ میں انہیں ”درانی“ ، کوچین میں
”میناکا“ نیپال میں ”میٹی“ پکارا جاتا ہے
پاکستان میں ہیجڑوں کے لئے
”خُسرہ“ اور ”زنانہ“ کی اصطلاحیں عام ہیں۔ تاہم بالی وڈ میں جہاں
سماج کے ہرکردار اورپہلو پر کئی فلمیں بنی ہیں ہیجڑے فلمسازوں کی نظر
میں شرف مقبولیت حاصل نہیں کر پائے۔ اور اس بات کا منہ بولتا ثبوت یہ
کہ بالی وڈ کی تاریخ میں صرف دو فلمیں مکمل طور پر ہیجڑوں کے گرد
گھومتی ہیں اور جن میں ان کا طرز رہن سہن فلمایا گیا ہے
یہ
ہدایتکارہ کلپنا لجمی کی ”درمیان“ اور مہیش بھٹ کی ”تمنا“ ہیں۔ ان کے
علاوہ ”بمبئے(1995)“، ”ہم آ پ کے ہیں کون(1994)“، ”لاوارث(1981)“،
”کنوارا باپ(1974)“، ”سٹرک(1991)“ اور ”پیچ تھری(2004)“ میں جزوی طور
پر ان کے حوالے ملتے ہیں
ان کے علاوہ ہندوستان میں ہی بعض دستاویزی
فلمیں بھی بنائی گئی ہیں جن میں ہدایتکار ششی کپور کی ”دی بالی وڈ
سٹوری: انڈین سینما“ ، ”بمبئی کے ہیجڑے“ اور ”خدا کے روبرو
کمزور“(Trembling Before God)نمایاں ہیں
مہیش بھٹ کی ”تمنا“ ایک سچی
کہانی پر مبنی ہے ۔ اس میں مرکزی کردار پاریش راول نے ادا کیا ۔ جبکہ
مہیش کی بیٹی پوجا بھٹ فلم کا دوسرا اہم ترین کردار ہیں۔ ”تمنا“ کی
کہانی 1975ءمیں ممبئی کے ایک گاوں ماہیم میں رہنے والے ایک ہیجڑے
”ٹِکو“(پاریش راول)کی ہے۔ ٹِکو ایک لاوارث بچی، تمنا(پوجا بھٹ)،کو
گود لے لےتا ہے اورفلم میں اسے درپیش مسائل کا تذکرہ ہے
فلم کا قابل
ذکر پہلو اس میں دکھائے جانے والے ہیجڑے کا غیر روایتی تصور ہے۔ ٹِکو
روزمرہ زندگی میں لنگی اور کرتا پہنتا ہے جبکہ ہیجڑے بالعموم زنانہ
لباس میں نظر آتے ہیں۔ اسکے بال بھی شانوں سے قدرے بلند ہیں جو
ہےجڑوں میں ”چھوٹے “ سمجھے جاتے ہیں اور قابل قبول نہیں ہوتے۔ اگر
کسی ہےجڑے کے بال چھوٹے ہیں تو یہ سمجھتا جاتاہے کہ کسی کام کی سزا
کے طور پر ان کے بال کاٹ دیئے گئے
”تمنا“ کا ٹِکو اےسے علاقے میں رہتا
ہے جہاں مردوں کی اکثریت ہے۔ اسکی شخصیت کا یہ پہلو بھی غیر روایتی
ہے۔ عام طور پر برصغیر پاک و ہند کے سماج میں ہیجڑوں کو عام میں
زندگی میں قبول نہیں کیا جاتا۔ اسلئے وہ اپنے مخصوص علاقوں میں رہتے
ہیں۔ روایت کے برعکس ٹِکو روزی کمانے کے لئے بھی ناچتا گاتا نہیں ۔
بلکہ اداکاراوں کے میک اپ آرٹسٹ کی حیثیت سے ملازمت کرتا ہے
تاہم
فلم کے اختتام کے قریب ٹِکو کی زندگی ایک نیا موڑ لیتی ہے اور ہر
راستہ بند ہو جانے کے بعد وہ مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے عورتوں
کا لباس پہن کر ناچ گانا شروع کر دیتا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ ہیجڑوں کے
بارے میں روایتی تصور کو بھی پوری طرح فلمایا گےا ہے
ان میں تمنا پر ٹِکو کے ہیجڑوں ہونے کا انکشاف اہم ترین منظر ہے۔ جس کے بعد وہ نہ صرف
ٹِکو بلکہ خود سے بھی نفرت کرنے لگتی ہے۔ یہ سوچ کر کہ وہ ایک ہیجڑوں
کے ہاتھوں پلی بڑھی ہے۔ ہندو سماج میں اگرچے ہےجڑوں کو مقدس شمار کیا
جاتا ہے لےکن اس تقدس کے پہلو بہ پہلو ان کے بارے میں ایک خوف بھی
لوگوں کے دلوں میں بیٹھا ہے۔ علاوہ ازیں فلم میں روایتی ہےجڑوں کا
ایک گروہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ جو وقتاََ فوقتاََ ٹِکو کے پاس آکر
اسکے عام انسانوں کی سی زندگی گزارنے پر تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ مہینش بھٹ نے پہلی مرتبہ ہےجڑوں کو
مثبت اور محبت کرنے کے لائق مخلوق کے روپ میں سماج کے سامنے لایا۔
دوسری طرف ”درمیان“ کی کہانی 40ءکے عشرے کی ایک فلمی ہےروین ”ممتاز
بےگم(کرن کھیر)“ پر مبنی ہے۔ وہ سےنما کی ملکہ ہے
لیکن یہ انکشاف
اسکی ذات کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے کہ اسکے ہاں جنم لےنے والا اکلوتا
بیٹا ”اِمی“ ہیجڑا ہے۔ فلم نگری میں اپنے شایان شان تاثر قائم رکھنے
کے لئے وہ اِمی کو لوگوں کی نظروں سے بچا کر رکھتی ہے۔ حتیٰ کہ اس سے
والدہ کا رشتہ چھپانے کے لئے وہ اِمی کو اسے ”آپا“ پکارنا بھی سکھاتی
ہے
وقت کے ساتھ ساتھ فلمی بادشاہت اور اپنا محبوب ”اِندر(شہباز
خان)“ ممتاز کے ہاتھوں سے نکل کر ”چترا(تبو)“ کی طرف جانے لگتے ہیں۔
اےسے میں اِمی اسے سہارا دیتا ہے
چمپا نامی ہیجڑوں کا ایک گروُ
وقتاََ فوقتاََ ممتاز کے پاس آ کر اِمی کو لےنے کا مطالبہ کرتا ہے مگر
وہ مسلسل انکار کئے رہتی ہے۔ بالاخر اِمی ایک لاوارث بچہ گود لے لےتا
ہے۔ اور انہیں جینے کی ایک امید نظر آنے لگتی ہے
اب کی بار چمپا اس بچے کے پیچھےپڑ جاتا
ہے۔ آخر کار وہ اسے چھین کر بچے کی ہیجڑوں میں شمولیت کی رسم کرنے کے
قریب ہوتا ہے کہ اِمی جان کا خطرہ مول لیتے ہوئے اسے بچا کر چترا اور
اِندر کے حوالے کر دیتا ہے ۔ اور خود اپنی ماں کے پاس چلا جاتا ہے
بالعموم بالی وڈ میں ہےجڑوں کو فلم میں مزاح پےدا کرنے کے لئے شامل
کیا جاتا ہے
اکثر وبیشتر مزاحیہ اداکار ہی عورتوں کا سا لباس پہن
کر شائقین کو ہنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ممبئی فلم انڈسٹری میں پہلی
بار ہدایتکار محمود نے فلم ”لاوارث(1981)“ میں ہیجڑوں پر ایک گیت
فلمایا۔ اور اس میں اداکاری کی امیتابھ بچن نے جبکہ گیت کے بول تھے
”میرے انگنے میں تمہارا کیا کام ہے“۔ فلم ”سٹرک “ میں بھی جزوی طور
پر ہیجڑوں کا حوالہ دیا گیا ہے
|