Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Wednesday, 12 July 2006 18:53 (PST)اشاعت

نیو جنریشن ہی فلم انڈسٹری کی ضمانت ہے ، بگا

مشفق یونس کا  میوزک ارینجرساحر علی بگا سے انٹرویو

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی شٹل کو متعدد خادثات پیش آ چکے ہیں

تقسیم ہند کے بعد محدود وسائل اور مخدوش حالات کے باوجود پاکستان فلم انڈسٹری میں بے شمار نامور موسیقار پیدا ہوئے جن میں ماسٹر عبداللہ، خواجہ خورشید انور، نثار بزمی، ماسٹر عنایت، ایم اشرف، بخشی وزیر جیسے متعدد بڑے نام شامل ہیں۔

 پاکستان فلم انڈسٹری کے یہ سپوت ناصرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی مقبول رہے بلکہ ان کی دھنوں کو بھارت میں کاپی کر کے موسیقاروں اور گلوکاروں نے نام اور پیسہ بنایا۔ فن موسیقی کے حوالے سے زرخیز لالی وڈ میں ان دنوں ایک نوجوان موسیقار ساحر علی بگا اپنے سر بکھیر رہا ہے اور قسمت کے دھنی اس موسیقار کو اللہ نے انتہائی کم عمری میں پاکستان اور بھارت میں یکساں طور پر مقبول کر دیا ہے بلکہ موسیقی کے بعض بڑے ساحر علی بگا کو پاکستانی اے آر رحمن بھی قرار دیتے ہیں

ساحر علی بگا بنیادی طور پر میوزک ارینجر ہیں اور ان کے ارینج کردہ میوزک سے پاکستان کے متعدد ٹاپ سنگرز شہرت حاصل کر چکے ہیں آیئے لالی وڈ کے اس نوجوان ہر دلعزیز موسیقار سے بے تکلف ملاقات کرتے ہیں

ساحر علی بگا نے کہا کہ سب سے پہلے میں ”اردو سروس جرمنی“ کا مشکور ہوں کہ مجھے اس قابل سمجھا اور مجھے انٹرویو کے لئے منتخب کیا

بگا نے کہا کہ میں اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے کیونکہ اس نے مجھے برصغیر کی 3 ایسی گلوکاراوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا ہے جن کا پوری دنیا میں نام ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لئے کسی آسکر ایوارڈ سے کم نہیں یہ ایک ریکارڈ ہے جو اب دوبارہ کسی کے پاس نہیں جا سکتا

انہوں نے بتایا کہ میں نے انتہائی کم عمری میں ملکہ ترنم نور جہاں کے لئے میوزک ارینج کیا اور انہوں نے مجھے پاس بلا کر میرا ماتھا چوما اور شاباش دی اس کے بعد لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے کے لئے میوزک کمپوز اور ارینج کیا ان کے لئے بھارت میں غزلوں کا البم ریکارڈ کیا جس میں پاکستانی غزل گائیک غلام علی نے بھی گایا ہے

لتا جی اور آشا نے ممبئی سٹوڈیوز میں جب میرا کام دیکھا تو دونوں نے مجھے شاباش دی ان کے یہ الفاظ میرے لئے ناقابل فراموش ہیںکہ پاکستان میں بڑے اچھے موسیقار ہیں لیکن اتنی کم عمری میں اتنا اچھا کام کرنے والے بہت کم ہیں

ساحر علی بگا نے کہا کہ ویسے تو میں کافی عرصہ سے کام کر رہا تھا مگر مجھے شہرت، جواد احمد کے گائے گیت ”اوکیندی اے سیاں میں تیری آں“ سے ملی اس گیت کے بعد اللہ کا خاص کرم ہوا اور پاکستان کے تمام بڑے سٹارز نے کام کے لئے مجھے منتخب کیا ان میں ابرار الحق، ملکو، فریحہ پرویز، شازیہ منظور، رحیم شاہ، فریحہ پرویز، ظفر عباس، نعمان، عامر غلام علی وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ بھارت میں سندھی چوہان سونونگم، چتراچنائی، ایلکا، کمارسانو بھی میری کمپوزیشنز ریکارڈ کرا چکے ہیں انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ جب بھی کسی کے لئے کوئی طرز بناوں تو اس میں کوئی کمی نہ رہ جائے جب تک خود مطمئن نہیں ہوتا گلوکار کو گانے کے لئے نہیں کہتا

پاکستان فلم انڈسٹری کے بحران بارے ایک سوال کے جواب میں ساحر علی بگا نے کہا کہ انڈسٹری بحران کا شکار ہے اور بعض لوگ ابھی بھی یہ بحران مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں۔ میں انڈسٹری کے بڑوں سے اپیل کرتا ہوں کہ مل کر انڈسٹری کی بہتری کے لئے کوشش کریں آج بھی عوام اچھی اور معیاری تفریحی فلمیں دیکھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں اس کی مثال کوئی تجھ سا کہاں، یہ دل آپ کا ہوا، مجاجن وغیرہ ہیں اگر اچھی چیز ہو گی تو خریدار ضرور آئیں گے

 بگا نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انڈسٹری کے بحران کی وجہ یہ ہے کہ نئے ٹیلنٹ کو سراہا نہیں گیا کسی کو آگے نہیں آنے دیا گیا اگر چند لوگ سامنے آئے بھی ہیں تو وہ ان کی اپنی ہمت تھی کسی سینئر نے اس کی رہنمائی نہیں کی کسی نے ان کا ہاتھ نہیں پکڑا ہمیں چاہئے کہ نئے لوگوں کو آگے آنے کا موقع دیں نیو ٹیلنٹ کو پروموٹ کریں

نیوجنریشن ہی انڈسٹری کی بقاکی ضمانت ہے۔نئےلوگ ہی انڈسٹری کو سنبھالا دیں گے

بھارت میں نئے لوگوں کو مواقع ملتے ہیں وہ آگے آ جاتے ہیں عوام پسند کرتے ہیں اور پھر وہ لوگ بھی بہتر سے بہتر کام کی جستجو کرتے ہیں لیکن پاکستان میں چند لوگوں کا ٹولہ ہے جو ایک مافیا کی طرح انڈسٹری پر چھایا ہوا ہے اور وہی نئے لوگوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں

بگا نے کہا کہ میں پاکستان کی خدمت کر رہا ہوں اور نئے ٹیلنٹ کو پروموٹ کر رہا ہوں ایک مشن کے طور پر میں لوگوں کو سامنے لا رہا ہوں میری طرف سے نیو ٹیلنٹ کو کھلی آفر ہے وہ مجھ سے ملیں انشاءاللہ ان کو ہر طرح سے بہتر گائیڈ کروں گا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی شعبے میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ایک سے بڑھ کر ایک گلوکار موسیقار موجود ہے انہوں نے کہا کہ نیو جنریشن اپنا لوہا ضرور منوائے گی چاہے اس کیلئے مزید چند سال لگ جائیں مگر میں چاہتا ہوں کہ چند سال مزید ضائع نہ کریں اور انڈسٹری کو بحران سے نکالیں کیونکہ اگر انڈسٹری زندہ رہے گی تو ہزاروں لوگوں کے گھروں کے چولہے جلیں گے

بگا نے کہا کہ شان کی فلم کشمیر کا میوزک مکمل کر لیا ہے اس فلم کا گیت ”پھر چھائی ہے رت ساون کی“ بہترین گیت ہے اس کے علاوہ معمر رانا کی ڈائریکشن میں بننے والی فلم جنگ کا میوزک تیار کر رہا ہوں دونوں فلموں کا میوزک میرے کیرئیر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں بگا نے کہا کہ معمر رانا کی فلم جنگ کے سارے گیت پہلی مرتبہ ملک کے پوپ سنگرز نے گائے ہیں وہ یہ گیت گانا نہیں چاہتے تھے مگر جب میں نے ان کو گیت سنائے تو انہوں نے کہا کہ یہ گیت صرف ہم ہی گائیں گے انہوں نے کہا کہ فلم کے پروڈیوسر محمد سلیم بہت قابل اور محنتی آدمی ہیں جو نئے لوگوں کو پروموٹ کرتے ہیں

انڈسٹری کو ان جیسے پروڈیوسرز کی اشد ضرورت ہے۔پاک بھارت ثقافتی تعلقات کے بارے ایک سوال کے جواب میں بگا نے کہا کہ دونوں ملکوں میں ہر جگہ پر مقابلے کی فضا ہے لیکن جب تک ہم ادھر نہیںجائیں گے وہ ادھر نہیں آئیں گے ایک دوسرے سے بہتر کام نہیں کر سکیں گے انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں اور اس بات پر ہمیں فخر کرنا چاہیے بے ہودہ کام کرنے کی ضرورت نہیں وقار کے ساتھ اچھا معیاری اور صاف ستھرا کام کرنا چاہیے ہمارے میوزیشنز بھارتی میوزیشنز سے بہتر ہیں وہ ہم سے کئی شعبوں میں کمزور ہیں لیکن اپنے آپ کو منوانے کیلئے سخت محنت کی ضرورت ہے بگا نے انکشاف کیا کہ وہ برصغیر کی معروف گلوکارہ لتا جی سے ان کی آخری غزل البم ریکارڈ کروا رہے ہیں اس کے بعد لتا جی نے غیر فلمی میوزک چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے

 اس غزل البم کے شاعر احمد انیس ہیں جبکہ آشا بھوسلے اور غلام علی بھی اس البم میں غزلیں ریکارڈ کروا رہے ہیں

بگا نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ شہنشاہ غزل مہدی حسن کے گیت یو کے میں سنفیونک میوزک میں ریکارڈ کروں۔ ویسے اب تک میں ان کے 2غزل البم ریکارڈ کرچکا ہوں جو ابھی ریلیز نہیں ہوئے ساحر علی بگا نے بتایا کہ روکلاہوں کے میری میوزک گروپ اور راحت فتح علی خاں کا فیوژن کیا ہے جو ایک نئی چیز ہے اور سننے والوں کو ضرور پسند آئے گی

انہوں نے بتایا کہ میں ذاتی طور پر بطور گلوکار مہدی حسن ‘ سلامت علی خاں‘ روشن آراءبیگم‘ نور جہاں‘ فریدہ خانم غلام علی طفیل نیازی کو پسند کرتا ہوں جبکہ موسیقاروں میں خواجہ خورشید انور‘ نثار بزمی ‘ ماسٹر عبداللہ‘ رشید عطرے‘ ناشاد‘ وزیر علی اور نصرت فتح علی خاں سے متاثر ہوں

 آخر میں بگا نے کہا کہ میری دعا ہے کہ پاکستان سلامت رہے کیونکہ اگر پاکستان ہے تو انڈسٹری ہے ہم ہیں سب کچھ ہے ہمیں چاہیے کہ پاکستان کی بہتری کیلئے اپنے اپنے حصے کا کام ضرور کریں

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات