Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 14 July 2006 19:26 (PST)اشاعت

ایران میں انقلاب اسلامی کے بعد فلمسازی میں اضافہ ہوا

باسط اعجاز

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد فلم سازی میں اضافہ ہوا اور ایران نے متعدد ایوارڈ جیتے

فلمسازی کا باقاعدہ آغاز 20ویں صدی کے پہلے چوتھائی حصے میں ہوا آج یہاں ہر سال 20 کے قریب نئے ہدایتکار اپنے کیرئیر کا آغاز کرتے ہیں اور ان میں اکثریت خواتین کی ہے

 1979میں اسلامی انقلاب کے بعد کے دو عشروں میں حیرت ناک انداز

میں خواتین کی اس قدر زیادہ تعداد فلمسازی میں آئی کہ مغرب کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

اس حوالے سے ہدایتکارہ اور سکرین رائٹر رخشان بنی اعتماد حیثیت رکھتی ہیں

 رخشان 1954 میں تہران میں پیدا ہوئیں ان کے شوہر جہانگیر کو ہسار بھی فلمساز جبکہ بیٹی بارن کوہساری اداکارہ ہیں۔ رخشان نے فلم ڈائریکشن میں بی اے کی ڈگری لی اور دستاویزی فلموں سے کیرئیر کا آغاز کیا ۔ جبکہ 1987 میں Off the Limitsکے نام سے ایک مکمل فلم تیار کی۔ سماجی اور نسوانی مسائل رخشان کا پسندیدہ موضوع ہیں ان کی بیشتر فلموں میں خواتین ہی مرکزی کردار ادا کرتی ہیں

رخشان نے اپنی فلم The blue Veiledسے 1995 میں لوکارنو فیسٹیول میں ایوارڈ بھی حاصل کیا

رخشان کی کامیابی آج کی بیشتر ایرانی ہدایتکاروں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوئی

 نیکی کریمی متعدد ایوارڈ لینے والی ایک اور ہدایتکارہ ہیں۔ کریمی 10 نومبر 1971 کوتہران میں پیدا ہوئیں اور 20فلموں میں اداکاری کرنے کے بعد ہدایتکاری کے کیرئیر کا آغاز کیا۔ 20 فلموں میں سے 6 فلموں میں کریمی کو بہترین اداکارہ کا اعزاز دیا گیا

 کریمی جنہیں بچپن سے ہی فلمیں دیکھنے کا شوق تھا، نے ہدایتکاری کا آغاز 2003 میں فلم To have or not to haveسے کیا۔ 2005 میں ان کی فلم One Nightکو کینز فلم فیسٹیول کے لئے نامزد کیا گیا۔ جبکہ 2006 میں ان کی فلم Escapeکے سکرپٹ نے روٹردیم فیسٹیول میں اول انعام حاصل کیا

ان کے علاوہ بھی کریمی متعدد قومی اور بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ ان کے علاوہ سمیرا مخملباف ایران کی نوجوان اور باصلاحیت ترین ادکارہ ہیں جنہوں نے دنیا کی کم عمر ترین فلم ہدایتکار ہونے کا اعزاز بھی حاصل کر رکھا ہے۔15 فروری 1980 کو تہران ہی میں پیدا ہونے والی سمیرا نے محض 17 برس کی عمر میں پہلی فلم ڈائریکٹ کی۔ The Appleکے علاوہ سمیرا ”دی بلیک بورڈ”، ”گاڈ کنسٹرکشن اینڈ ڈسٹرکشن”اور ”ایٹ فائیو ان دی آفٹرنون” نامی فلمیں ڈائریکٹ کر رکھی ہیں اور ان سے 17 بین الاقوامی ایوارڈ لے چکی ہیں

واضح رہے کہ سمیرا کے والد محسن مخملباف مشہور ہدایتکار اورمصنف ہیں۔ لیلیٰ حاتمی ایک اور ایوارڈ یافتہ ایرانی اداکارہ ہیں۔ 1972 میں تہران میں پیدا ہوئیں

 لیلیٰ کی والدہ اداکارہ جبکہ والد فلم ڈائریکٹ ہیں۔ اب تک لیلیٰ نے 14 فلموں میں کام کیا ہے۔ ان میں سے ”لیلیٰ ”سے انہیں 15 ویں فجر فلم فیسٹیول میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ملا۔ 2002 میں مونٹریل ورلڈ فلم فیسٹیول میں وہ فلم ”ڈیزرٹڈ سٹیشن” سے بہترین اداکارہ قرار پائیں۔ 22 سالہ پیگاہ آہنگرانی بھی ایران کی ایوارڈ یافتہ اداکارہ ہیں

ہدایتکار جوڑی کی بیٹی پیگاہ نے فلمی کیرئیر کا آغاز 1991 میں ”دا سنگنگ کیٹ” سے کیا۔ 1999 میں دوسری فلم ”دا گریل ان دی سنیکر” سے 23 ویں انٹرنیشنل قاہرہ فلم فیسٹیول اور 14ویں اصفہان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہترین اداکارہ کے اعزاز حاصل کئے

شہرہ اغداشلو اکیڈمی ایوارڈ کے لئے نامزد ہونے والی واحد ایرانی اداکارہ ہیں۔ شہرہ آج کل امریکا میں مقیم ہیں اور متعدد ہالی وڈ فلموں میں کام کر رہی ہیں۔ تاہم بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی۔ ان کے مریم کیشورز، تہمینہ میلانی، یاسمین مالک نصر ایران کی دوسری قابلِ ذکر خواتین ہیں۔ 46 سالہ تہمینہ اپنی فلم ”ٹو ویمن” سےایوارڈ لے چکی ہیں اور اب تک 8 فلمیں بنا چکی ہیں۔ جبکہ یاسمین بھی متعدد انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں

ایران فلم انڈسٹری کا مستقبل بھی تاریک نہیں ہے کہ وہاں حنا مخملباف جیسی کم تخلیقی اور باصلاحیت فلمساز اور ہدایتکار خواتین موجود ہیں

حنا سمیرا کی چھوٹی بہن ہیں اور ان کی پہلی شارٹ فلم ”لذتِ دیوانگی” لوکارنو فلم فیسٹیول میں دکھائی جا چکی ہے جو انہوں نے 8 برس کی عمر میں بنائی تھی

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات