|
اور اشوک کمار کے ساتھ ان کے گیت انہتائی مقبول ہوئے۔30 اور 40
کے عشرے کی ابتدا میں جن دو اسٹوڈیوز نے ہندوستانی سینما پر اپنے
گہرے اثرات ثبت کئے ان میں پونا کی پربھات فلم کمپنی اور کلکتہ
کے نیو تھیٹر شامل ہیں
عالم آرا، کی
ریلیز نے دھوم مچادی
موخر الذکر اسٹوڈیو کی موسیقی کی شکل وصورت بال گندھروا کے
گندھرواناٹک منڈلی نے ڈھالتے ہوئے دو بڑے موسیقار
گووندراواورماسٹر کرشناراو مہیا کئے
کلکتہ کا نیو تھیٹر ماقبل تقسیم ہندوستان کے بڑے ترین
بینرز میں سے ایک تھا پربھات کے برعکس اس کے تعلیم یافتہ عملے نے
سینما کو اب کی حیثیت دی اور پورے ملک سے تخلیقی اور باصلاحیت
ترین افراد کو اپنی طرف کھینچ کر سٹوڈیو دور کی عمدہ ترین فلمیں
تیار کیں
آرسی بورال، پنکج ملک اور تمربرن جیسی سورما نیو تھیٹر میں کام
کرتے تھے اور سینما میں رابندرناتھ سنگیت کار کو متعارف
کرایا۔تاہم یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ کندن لعل سہگل تمام
گلوکارہیروز میں سے باصلاحیت ترین تھے۔ سکول سے بھاگ جانے کے بعد
سہگل نے پہلے ریلوے میں ٹائم کیپر کی ملازمت کی اور بعدازاں ٹائپ
رائٹر کمپنی میں سیلز مین کی نوکری کی
اسی دوران سہگل کو بی این سریکار نے انہیں نیو تھیٹرز میں شامل
کر لیا۔ سہگل کی پہلی فلم 1932میں ”محبت کے آنسو” کے نام سے
ریلیز ہوئی۔ تاہم دو برس بعد 1934میں ”چندی داس” نے انہیں ایک
فلمی ستارہ بنا دیا۔ اگلے ہی برس، 1935میں، سہگل کی وہ فلم ریلیز
ہوئی جس نے ان کے کردار کا تعین کردیا۔ فلم تھی پی سی بروا کی
”دیوداس”۔ ”دیوداس” سہگل کےلئے انتہائی کامیاب رہی اور انہیں
شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا کہ سہگل نے المیہ اور بد قسمت ہیرو
کے کردار کو امر کر دیا تھا
سوچوں میں گم اسکی نظروں ،بالوں کی لٹوں، اور بیک وقت محبت و
مایوسی سے بھری آواز نے پورے ہندوستان کو پاگل کر دیا
لوگ جوق در جوق سہگل کے منہ سے ”بالم آئے بسو مورے من میں”اور
”دکھ کے دن اب بیتت ناہیں”سننے کے لئے آنے لگے
سہگل کی بے مثال کامیابی کو دیکھتے ہوئے نیو تھیٹرز کے ایک حریف
سٹوڈیو ساگر مووی ٹون نے سہگل کے جواب میں اپنا ایک ہیرو متعارف
کرایا
اگرچہ سریندر ناتھ اپنی جگہ مشہور شخصیت تھے مگر وہ کسی طرح بھی
سہگل نہ بن سکے
|