|
یاسمین مہیووک نے لکھا ہے کہ 1951 میں ”محبت اور دوستی” کے بعد
افغانستان میں تیار ہونے والی فلموں کی تعداد چالیس سے زائد نہیں ہے
تاہم 60 کا عشرہ افغان فلم انڈسٹری کے لئے قدرے خوشحال رہا کہ اس
دوران ظاہر شاہ نے ”افغان فلمز” کے نام سے فلمسازی کا قومی ادارہ
قائم کیا۔ جس نے دستاویزی فلموں کے ساتھ ساتھ بعض فیچر فلمیں بھی
تیار کیں جن میں ”مزار”، ”مجرم”اور ”مہاجرپرندے” جیسی پروڈکشنز شامل
ہیں
افغان فلمز سے متاثر ہو کر چند ایک مزید سٹوڈیو قائم ہوئے جن میں
نذیر فلمز، شفق فلمز اور آریان فلمز قابلِ ذکر ہیں۔ تاہم 1979 میں
روسی حملے نے افغان فلم انڈسٹری پر کاری ضرب لگائی اور فلموں پر سنسر
کی سخت ترین پابندیاں عائدکرتے ہوئے پروپیگنڈا فلمز کو ترویج دی جانے
لگی
اس سے بھی گہرا زخم 1996 میں برسراقتدار آنے والے طالبان سے لگا۔
انہوں نے فلمسازی کے ساتھ ساتھ فلم بینی کو بھی غیر اسلامی قرار دے
دیا اور ملک میں قائم تمام سینما اور تھیٹرز کی اینٹ سے اینٹ بجا دی
گئی۔ افغان فلم ایڈیٹر محمد افضل کے مطابق طالبان نے دو ہفتوں کی
منظم مہم کے بعد تمام فلموں کے ریکارڈ ضائع کر دیے اور ظلم و ستم سے
بچنے کے لئے فلمسازوں اور اداکاروں کو ملک سے راہ فرار اختیار کرنا
پڑی۔تاہم خطے کی غیر مستحکم صورتحال نے افغان معاشرے میں بہتری کی
امیدیں بھی دغدار کر دی ہیں
اس طرح اسکی فلم انڈسٹری بھی آگے نہیں بڑھ سکی۔ ایک طرف اسلامی
انقلاب کے بعد کا ایرانی سینما کو اساسی تبدیلیوں سے گزرنا پڑا اور
اب بھی اگرچہ بیرونی دنیا میں انکی فلمیں قابل ذکر مقام رکھتی ہیں
لیکن داخلی حوالے سے ایرانی فنکاروں کو پابندیوں کا سامنا ہے
دوسری طرف ترکمانستان ، ازبکستان اور تاجکستان کی فلمی صنعتیں بھی کئ
عشروں سے روسی اشتراکیت کے زیرِ تسلط ہیں ۔ اشتراکیت کے بعد یہ
صنعتیں مالی بحران کا شکار ہو گئیں اور نئی آنے والی حکومتیں نے
انہیں توجہ کے لائق نہ سمجھا۔ تقسیم نے برصغیر میں فلمسازی پر اپنے
اثرات مرتب کئے
یاسمین نے لکھا افغانستان میں برسرِ اقتدار آنے والی نئی انتظامیہ
فلم انڈسٹری کو فروغ دینے میں پرجوش دکھائی دیتی ہےاور مالی بحران کے
باوجود مقامی فلمسازوں کو قدرے آزادی ہے۔ اب وہ اپنے کام پر ایرانی ،
ہندوستانی ، روسی اور امریکی فلموں کے اثرات کے اظہار میں قدرے آزاد
ہیں
بلکہ دوسری صنعتوں کےساتھ کو پروڈکشن بھی کر رہے ہیں ۔ فلم ”اسامہ”
کے ہدایتکار صدیق بروک کا کہنا ہے کہ ان کی فلم ایرانی جاپانی اور
آئرش فلمسازوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہ ہوئی۔ ایسی ہی ایک مثال فلم
” شکستم” ہے جو افغانی اور بھارتی فلمسازوں کی مشترکہ کوشش ہے۔ مضمون
نگار نے لکھا کہ نئے افغان فلمسازوں کو پوری طرح احساس ہے کہ وہ
”متحرک تصاویر” کو اپنے ملک کی بہتری کے لئے استعمال کر سکتے ہیں
ایک ایسے ملک میں جہاں ٹی وی اور ریڈیو بھی اپنے ابتدائی دور میں ہے
فلم انڈسٹری کے پاس نایاب موقعہ ہے کہ وہ لوگوں میں شعور بیدار کرنے
کا ذریعہ بنے
اہم ترین پہلو یہ کہ افغان فلمیں اپنے شہریوں کی زندگیوں کا عکس بن
سکتی ہیں جس میں وہ تمام حالات بیان کئے جا سکتے ہیں اس سخت
جان قوم نے اپنے اوپر چند سالوں سے جھیلے ہیں
|