|
موصول ہو چکے ہیں اور اب وہ پہلے اس فلم کو خود دیکھیں گے
اس کے بعد فلم کی نمائش کی اجازت دی جائے گی۔
فلم 19مئی کو نمائش کے لئے سنیما گھروں میں پیش کی جانی تھی اور
اسے سینسر بورڈ کی اجازت بھی مل چکی تھی
ممبئی میں اس فلم کی نمائش کے خلاف پہلے صرف رومن کیتھولک احتجاج
کر رہے تھے لیکن اب ممبئی کے مسلمانوں کی مذہبی تنظیمیں اس
احتجاج میں شامل ہو چکی ہیں
رضا اکیڈمی کے صدر سعید نوری کا کہنا ہے کہ اسلام میں حضرت
عیسی کو پیغمبر مانا جاتا ہے
فلم میں جو کچھ دکھایا گیا ہے اس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو
ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس لیئے سنی جمعیتہ العلماء اور رضا اکیڈمی نے
اس فلم کی نمائش پر پابندی کے لیئے ممبئی کے پولس کمشنر اے این
رائے سے ملاقات کر کے انہیں ایک میمورنڈم پیش کیا تھا
سعید نوری کا کہنا تھا کہ اگر فلم کو فکشن کہا جائے اور اس میں
سے ہیرو کے نام کو بدل دیا جاتا ہے تو ان کی تنظیم کو کسی طرح کا
اعتراض نہیں ہو گا کیونکہ اس طرح کی کہانیوں پر مبنی فلمیں بنتی
رہتی ہیں لیکن خیال کی آزادی کی آڑ میں مذہبی جذبات کو ٹھیس
پہنچانا جائز نہیں ہے
انہوں نے حکومت کے فیصلہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بروقت
بتایا۔ متنازعہ فلم ’دی ڈا ونچی کوڈ‘ کے خلاف ممبئی میں کئی دنوں
سے مظاہرے جاری ہیں۔ گزشتہ روز آزاد میدان میں آل انڈیا کرسچن
کاونسل، رومن کیتھولک فورم، اور کیرلا کیتھولک ایسوسی ایشن نے
ایک مظاہرہ کیا جب کہ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ابراہام
متھائی کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ بڑے پیمانے پر عیسائی
مذہب کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے
ایک کے بعد ایک فلمیں منظر عام پر آرہی ہیں پہلے ’دی ڈا ونچی
کوڈ‘ پھر ’ٹِکل مائے فنی بونز‘ اور اب ’سیکرڈ ایول‘ جس میں ایک
’نن‘ کو چڑیل بتایا گیا ہے
ابراہام نے حکومت کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت نے
ان کے جذبات کی قدر کی اور صحیح وقت پر فیصلہ لیا
|