Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Wednesday, 17 May 2006 16:11 (PST)اشاعت

فلم سے جذبات مجروع ہوئے، عیسائی ،مسلم کمیونٹیز

 

فلم کی وجہ سے مذہبی جذبات مجروع ہوئے ، مسلم ، عیسائی کمیونٹیز

فلم ’دی ونچی کوڈ‘ کی نمائش پر عیسائیوں اورمسلمانوں کے اعتراض کے بعد بھارتی حکومت نے کچھ عرصہ کے لیئے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات پریہ رنجن داس منشی نے بتایا ہے کہ انہیں اس فلم کے خلاف تقریباً تین سو زائد خطوط

 موصول ہو چکے ہیں اور اب وہ پہلے اس فلم کو خود دیکھیں گے اس کے بعد فلم کی نمائش کی اجازت دی جائے گی۔

فلم 19مئی کو نمائش کے لئے سنیما گھروں میں پیش کی جانی تھی اور اسے سینسر بورڈ کی اجازت بھی مل چکی تھی

ممبئی میں اس فلم کی نمائش کے خلاف پہلے صرف رومن کیتھولک احتجاج کر رہے تھے لیکن اب ممبئی کے مسلمانوں کی مذہبی تنظیمیں اس احتجاج میں شامل ہو چکی ہیں

 رضا اکیڈمی کے صدر سعید نوری کا کہنا ہے کہ اسلام میں حضرت عیسی کو پیغمبر مانا جاتا ہے 

فلم میں جو کچھ دکھایا گیا ہے اس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس لیئے سنی جمعیتہ العلماء اور رضا اکیڈمی نے اس فلم کی نمائش پر پابندی کے لیئے ممبئی کے پولس کمشنر اے این رائے سے ملاقات کر کے انہیں ایک میمورنڈم پیش کیا تھا

سعید نوری کا کہنا تھا کہ اگر فلم کو فکشن کہا جائے اور اس میں سے ہیرو کے نام کو بدل دیا جاتا ہے تو ان کی تنظیم کو کسی طرح کا اعتراض نہیں ہو گا کیونکہ اس طرح کی کہانیوں پر مبنی فلمیں بنتی رہتی ہیں لیکن خیال کی آزادی کی آڑ میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا جائز نہیں ہے

انہوں نے حکومت کے فیصلہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بروقت بتایا۔ متنازعہ فلم ’دی ڈا ونچی کوڈ‘ کے خلاف ممبئی میں کئی دنوں سے مظاہرے جاری ہیں۔ گزشتہ روز آزاد میدان میں آل انڈیا کرسچن کاونسل، رومن کیتھولک فورم، اور کیرلا کیتھولک ایسوسی ایشن نے ایک مظاہرہ کیا جب کہ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ابراہام متھائی کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ بڑے پیمانے پر عیسائی مذہب کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے

ایک کے بعد ایک فلمیں منظر عام پر آرہی ہیں پہلے ’دی ڈا ونچی کوڈ‘ پھر ’ٹِکل مائے فنی بونز‘ اور اب ’سیکرڈ ایول‘ جس میں ایک ’نن‘ کو چڑیل بتایا گیا ہے

ابراہام نے حکومت کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت نے ان کے جذبات کی قدر کی اور صحیح وقت پر فیصلہ لیا

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات