Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Thursday, 25 May 2006 21:25 (PST)اشاعت

رکشے والا ، خود ہیرو ، ہدایتکار، اور فلمساز بھی

باسط اعجاز

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

بھارت میں ایسے رکشے بھی عام ہیں جنہیں انسان کھینچتے ہیں

لکھنئو کے نواحی علاقے شاہجہان پور میں وقار خان کے رکشے میں سفر کرنےوالی سواریوں نے کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ وہ مستقبل کے کسی فلم ہدایتکار کے ساتھ محو سفرہیں

تاہم وقار نے ثابت کر دیا ہے کہ خالی جیبوں

سے دیکھے جانے والے بڑے بڑے خواب محنت سے سچ ہو سکتے ہیں

وقار خان کا تعلق کللکتہ کے علاقے شاہجہاں پور سے ہے اور وہ ہیرو بننے کا خواب پورا کرنے کے لئے ممبئی پہنچا۔اور وہاں رکشہ چلا کر فلم کے لئے پیسے جوڑنے لگا

تاہم اس کام میں زیادہ آمدن نے دیکھ کر اس نے رکشوں کی خرید و فروخت کا کام شروع کر دیا

اور بالاخر 16 سال کی محنت کے بعد اس نے60 لاکھ روپے جمع کر لیے اور ”پیار نہ کرنا” ریلیز کر دی جس کا وہ فلمساز ہے، ہدایتکار بھی اوراسمیں اداکاری بھی کی ہے

تاہم یہ ساری رقم اس کی اپنی کمائی ہوئی نہیں ہے

خان کا کہنا ہے کہ اسکے ساتھی کم وبیش 150 رکشہ ڈرائیوروں نے بھی اس کی مقدور بھر مدد کی جبکہ بینکوں نے اسے فلم کے لئے قرض دینے سے صاف انکار کر دیا

 39 سالہ وقار نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ جلد از جلد ان تمام لوگوں کی رقم لوٹا دے گا

فلمی مبصرین کا کہنا ہے کہ وقار خان کی فلم کو ”معقول” کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اور باکس آفس کی خبریں بھی ہیں کہ لوگ خان کی فلم سانو،ادتنارائن اور شریہ گوشل کی خدمات حاصل کی گئی ہیں

وقار کا کہنا ہے کہ اس کا خواب فلمی ہیرو بننا تھا اور یہ پورا ہو گیا ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات