|
سے دیکھے جانے والے بڑے بڑے خواب محنت سے سچ ہو سکتے ہیں
وقار خان کا تعلق کللکتہ کے علاقے شاہجہاں پور سے ہے اور وہ
ہیرو بننے کا خواب پورا کرنے کے لئے ممبئی پہنچا۔اور وہاں رکشہ
چلا کر فلم کے لئے پیسے جوڑنے لگا
تاہم اس کام میں زیادہ آمدن
نے دیکھ کر اس نے رکشوں کی خرید و فروخت کا کام شروع کر دیا
اور بالاخر 16 سال کی محنت کے
بعد اس نے60 لاکھ روپے جمع کر لیے اور ”پیار نہ کرنا” ریلیز کر
دی جس کا وہ فلمساز ہے، ہدایتکار بھی اوراسمیں اداکاری بھی کی ہے
تاہم یہ ساری رقم اس کی اپنی کمائی ہوئی
نہیں ہے
خان کا کہنا ہے کہ اسکے ساتھی کم وبیش 150 رکشہ
ڈرائیوروں نے بھی اس کی مقدور بھر مدد کی جبکہ بینکوں نے اسے فلم
کے لئے قرض دینے سے صاف انکار کر دیا
39 سالہ وقار نے اس عزم کا
اظہار کیا ہے کہ وہ جلد از جلد ان تمام لوگوں کی رقم لوٹا دے گا
فلمی مبصرین کا
کہنا ہے کہ وقار خان کی فلم کو ”معقول” کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔
اور باکس آفس کی خبریں بھی ہیں کہ لوگ خان کی فلم سانو،ادتنارائن اور شریہ گوشل کی خدمات
حاصل کی گئی ہیں
وقار کا کہنا ہے کہ اس کا خواب
فلمی ہیرو بننا تھا اور یہ پورا ہو گیا ہے
|