|
لئے فیملیز ایک بار پھر سینماوں میں آنے پر مجبور ہو گئی ہیں
مشرف کو میرا کا کام ’پسند‘ آیا
ریما خان نے 2006ء میں اپنی فلم جس کو ریما خان نے خود ڈائریکٹ
کیا نے فلم انڈسٹری کو کسی حد تک سہارا دیا ہے اور انڈسٹری میں
فیملیز کے موضوع پر مبنی فلمیں بنانے کا رجحان زور پکڑ گیا، ریما
کے کریڈٹ پر اس وقت چار ایسی فلمیں ہیں جس کی کہانی اور سکرپٹ سے
ریما خود مطمئن ہیں، یہ فلمیں بدمعاشی اور عریانی سے بالکل پاک
اور گھریلو موضوعات پر مبنی ہیں
ریما خان کی ایک بار پھر فلم انڈسٹری میں اینٹری سے بعض
اداکارائیں سہم سی گئی ہیں کیونکہ اب مقابلے کی فضا انڈسٹری میں
نظر آئے گی اور معیار سے گرا کام ہونے کی بجائے معیاری کام سراہا
جائے گا۔7سال کے طویل عرصے کے بعد شان کے ساتھ ہدایتکار رونق علی
رونقی کی فلم ”ون ٹو کا ون“ سائن کر کے ریما خان کے چرچے انڈسٹری
میں ہونے لگے ہیں اگر یوں کہا جائے کہ ریما نے ہیروئنز کی نیندیں
اڑا دی ہیں تو غلط نہ ہو گا
جب ریما خان سے رابطہ کیا گیا تو ریما خان کا کہنا تھا کہ میں نے
ڈائریکشن نہیں چھوڑی لیکن عوام کے پرزور اصرار پر فیملی موضوع پر
بننے والی فلمیں ضرور کروں گی
ریما خان کے بقول وہ بدمعاش اور بیہودگی پر مبنی فلموں کو کبھی
نہیں کریں گی صرف ان فلموں کو ترجیح دیں گی جن کا موضوع گھریلو
اور سوشل مسائل پر مبنی ہو گا۔ ریما خان نے فلم ”کوئی تجھ سے
کہاں “ کی فقید المثال کامیابی کے بعد اپنی دوسری فلم پر بھی کام
شروع کر رکھا ہے لیکن وہ اس فلم کو جون میں شروع کرنے کا ارادہ
رکھتی ہیں جس کا سکرپٹ حتمی مراحل میں ہے۔ اور وہ اس فلم کو ایک
دو سپیل میں مکمل کرنا چاہتی ہیں
اس کے ساتھ ریما خان نے فیملی پر بننے والی فلموں جن کا
سکرپٹ معیاری اور جاندار تھا کو سائن کرلیا ہے جن میں ”دلہن بنتی
ہیں نصیبوں والیاں“ ، ”عورت ایک کھلونا“ اور ”عورت پاوں کی جوتی
نہیں“ شامل ہیں۔”عورت ایک کھلونا“ اور ”دلہن بنتی ہیں نصیبوں
والیاں“ میں ریما نے اپنا کام مکمل کروا لیا ہے جبکہ ” ون ٹو ون“
میں وہ شان کے ساتھ کام میں مصروف ہیں
ریما خان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا رہا ہے کہ
ریما کی فلم”کوئی تجھ سا کہاں“ کو پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں
کسی خاتون اول نے کسی آرٹسٹ کو اتنی پذیرائی اور عزت دی ہو کہ اس
کی فلم کو دیکھنے کے لئے اس کو باقاعدہ دعوت دی گئی ہو
ریما کی فلم کوئی تجھ سا کہاں کو خاتون اول بیگم صہبا مشرف سمیت
بہت سے فوجی افسروں کی بیگمات نے دیکھا اور فلم کی تعریف کی ،
خاص کر ریما، معمر رانا اور ندیم کے کام کو سراہا
بیگم صہبا مشریف کو اتنی معیاری اور اچھی فلم بنانے پر شاباش دی
اور کہا کہ اسی طرح سے فلم انڈسٹری کے لئے کام کرتی رہو۔ ریما
خاتون اول بیگم صہبا مشرف کی طرف سے ملنے والی حوصلہ افزائی پر
بہت خوش ہیں اور ان کی مسرت قابل دید ہے
ریما خوش کیوں نہ ہو ریما کے لئے یہ کسی اعزاز سے کم نہیں
ہے کہ ملک کی خاتون اول کی طرف سے اس کے لئے یہ الفاظ کہے جا رہے
ہیں
سینما گھروں میں فیملیز کو واپس لانا ریما کے کریڈٹ پر جاتا ہے
اور ریما اس کریڈٹ کو لینے کے لئے فیملیز فلمیں کرنے پر ایک بار
پھر آمادہ ہوئی ہیں۔ بیگم صہبا مشرف کی طرف سے دی گئی تقریب میں
فوجی افسروں کی بیگمات نے ریما سے ان کے بالوں اور سکن کے بارے
میں پوچھتی رہیں کہ آپ کے بال اور سکن اتنی خوبصورت اور تروتازہ
کیسی ہیں، اور خوبصورتی کا راز کیا ہے؟ ریما اس موقع پر ان کو
ٹوٹکے بتاتی رہیں
ریما خان کا کہنا تھا کہ خاتون اول اور فوجی افسران کی بیگمات نے
تین گھنٹے تک میرے ساتھ بیٹھ کر میری فلم دیکھی اور پازیٹو
ریمارکس دیئے جس سے میری ہمت اور بندھی اور یہ میرے لئے کسی
اعزاز سے کم نہیں ہے
|