|
بھی عائد کیے جائیں گے
ہفت روزہ ”پلس “کی
رپوٹ کے مطابق یہ اقدام عوامی شکایات کے پیش نظر اٹھایا جارہا ہے
اور جلد اس سلسلہ میں مسودہ قانون صوبائی اسمبلی میں پیش کردیا
جائیگارپورٹ کے مطابق لاہور کے تھیٹر میں نیم عریاں رقص بازار
حسن سے آنے والی رقصاؤں کی وجہ سے شروع ہوا اسٹیج پر رقص کرتی
”فنکارہ“ہال میں موجود ”تگڑی آسامی “دیکھتی اشاروں میں
”معاملات“طے ہوتے ہیں اور وقفے کے دوران دلال اس آسامی کو پھانس
لیتا ہے اور ڈرامہ ختم ہونے پر ”فنکارہ“تماش بین کے بستر کی زینت
بننے کے لیے اس کی گاڑی میں چلی جاتی ہے
بعض اداکارائیں احتیاط کے طور
پر تھیٹر سے اپنی گاڑی میں نکلتی ہیں اور کسی ویران جگہ پر تماش
بین کی گاڑی میں شفٹ ہوجاتی ہیںیہ ”فنکارائیں“کون ہیں؟کہاں سے
آئی ہیں؟اس کے بارے میں تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں
بازار حسن میں پابندیوں پر اس
طبقے نے آبادیوں کا رخ کیا اور آج وہ اسٹیج پر قابض ہوچکی ہیں
جہاں وہ نہ صرف تھیٹر میں آنے والے شائقین کو متاثر کرتی ہیں
بلکہ کیبل نیٹ ورک کے ذریعے فحش جگت بازی اور نیم عریاں رقص اب
گھر گھر پہنچ چکے ہیں‘ اس وقت
تھیٹر پر بہت ساری نامور فلمی اداکارائیں بھی کام کررہی ہیں جن
میں نرگس‘دیدار‘خوشبو‘چاندنی‘حنا شاہین‘لیلی اورمیگھا وغیرہ شامل
ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ تھیٹر میں فحاشی کی ذمہ دار وہ غیر
معروف لڑکیاں ہیں جو عریاں رقص کی وڈیوز تیار کرواتی ہیں اور
مارکیٹ میں ڈیمانڈ بڑھنے پر تھیٹر پر آجاتی ہیں
اداکارہ خوشبو کا کہنا ہے کہ تھیٹر میں ایکٹینگ ختم ہوچکی ہے اور
اس کی جگہ جگت بازی نے لے لی ہے جس کی وجہ سے فنکار بھی مجبور
ہیں‘میں بنیادی طور پر ایک فنکارہ ہوں مگر مجھے تھیٹرپرمحض ایک
شو پیس بناکر رکھ دیا گیا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج کے
تھیٹر میں سکرپٹ اور ڈائریکشن ختم ہوچکی ہے یہ بڑے دکھ کی بات ہے
کہ ایک فنکارہ کو اسٹیج پر محض طوائف کے طور پر ہی پیش کیا جاتا
ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہی سکرپٹ پر40ہزار مرتبہ ڈرامہ کیا
جائے گا تو یقینا بوریت محسوس کریں گے
ادکارہ نرگس نے کہا کہ موجودہ
تھیٹر کو تھیٹر نہیں کہا جاسکتا اس کی بنیادی وجہ شائقین کا رویہ
ہے کیونکہ اگر ہم لوگ پرفارمنس کریں تو اسے پسند نہیں کیا
جاتالوگ صرف جگتیں سننے اور رقص دیکھنے کے لیے تھیٹر ز میں آتے
ہیں ان کا کہنا ہے کہ نیم عریاں رقص اور مجرے غیرمعروف لڑکیاں
کرتی ہیں اور بدنام نامور فنکارائیں ہوتی ہیں ایک
سوال پر نرگس نے کہا کہ غیرمعروف لڑکیاں بعض اوقات راتوں رات
شہرت کے لیے اسٹیج پر اپنے کپڑے اتارنے سے بھی گریزنہیں کرتیں ان
پر پابندی لگتی ہے مگر چند دنوں یا ہفتوں کے بعد وہ پھر اسٹیج پر
ہوتی ہیں اس سلسلہ میں قانون سازی کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی
اداکار یا ادکارہ قواعدوضوابط کی خلاف ورزی کرئے تو اس پر نہ صرف
ایک لمبے عرصے کے لیے پابندی عائد کی جائے بلکہ اس پر بھاری
جرمانہ بھی عائدکیا جائے
اب صورتحال یہ ہے کہ اگر کسی
ادکار یا اداکارہ پر لاہور میں پابندی لگتی ہے تو وہ کسی دوسرے
شہر میں جاکر ڈرامہ کرنے لگتا ہے ۔ تھیٹر کو ہمیشہ سے ادکاری کی
تربیت گاہ سمجھا جاتا رہا ہے ۔اسی لیے ماضی میں ہر فنکار کی
خواہشہوتی تھی کہ وہ سٹیج پر ضرور کام کرے،محمد قومی خاں،عثمان
پیر زادہ ،افضال احمد‘ ثمینہ احمد،ثمینہ پیرزادہ ،صبا
پرویز،مسعود اختر ،اورنگزیب لغاری ،منور سعید اور محمود اسلم
جیسے درجنوں فنکار تھیٹر پر ضرور کام کرتے تھے
اس دور میںتھیٹر تفریح کے ساتھ
ساتھ فیشن بھی تھی یہی وجہ کہ کمرشل تھیٹر کے ساتھ ساتھ رفیع پیر
تھیٹر اور اجوکا تھیٹر جیسے نان کمرشل گروپوں کو بھی مقبولیت
حاصل ہوئی۔مگر یہ دونوں گروپ محض اشرافیہ کے نمائندے بن کر رہ
گئے اور عام آدمی کی تفریح کے لیے کوئی قابل قدرکام نہیں
کرسکے-اس دورمیں تھیٹر سے وابستہ لوگوں کا شمار پڑھے لکھے اور
سنجیدہ لوگوں میں ہوتا تھا۔ سٹیج ڈرامے کی کہانی سے لے کر
ہدایتکاری تک ہر شعبہ مکمل طور پر مضبوط ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ
تھیٹر پر کمرشل ازم غالب آگیا اور سنجیدہ فنکاروں کی جگہ مسخروں
نے لے لی ۔جگت بازی تو خیر شروع سے ہی سٹیج ڈرامے میںضروری سمجھی
جاتی تھی جب فنکاروں نے لوگوں کی زبان میں ان جیسی ہی عام گفتگو
اور جگت بازی کی تو اس انداز کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی
تھیٹر کا یہ انداز کئی سال تک چلتا رہا۔جب سٹیج ڈراموں میں ڈانس
لازمی ہوگیا تو تھیٹر کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔پہلے لوگ
جن فنکاروں کو صرف پردہ سکرین پر ہی دیکھتے تھے اب وہ ان کی
نظروں کے سامنے ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ ڈرامہ اپنی اصل سے بہت دور
چلا گیا کیونکہ ہر ڈرامے میں ڈانس لازمی جزو تھالوگ فنکاروں کا
نام پڑھ کر ڈرامہ دیکھنے نہےںآتے تھے بلکہ اداکاروںکے نام دیکھ
کر آتے تھے تاکہ ان کا دلفریب رقص دیکھ سکیں
سٹیج پر کام کرنے والی لڑکیوں
اور پروڈیوسر ز نے اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اورایک وقت
ایسا بھی آیا جب لڑکیوں نے سٹیج پر اپنے کپڑے تک اتارنے سے گریز
نہ کیا۔ ڈانس پر پابندی ،پکڑ دھکڑ اور اس طرح ایک لامتناہی سلسلہ
شروع ہوگیا۔ آج ایک اداکارہ پر پابندی لگی تو کل دوسری کے سر پر
تلوار لٹک رہی ہے ۔ آج ایک ادارے نے چھاپہ مارا ہے توکل کوئی اور
ڈرانے دھمکانے کے لئے پہنچ گیا ۔نتیجتاً بہت سی اداکارائیں سٹیج
سے دور ہوگئیں
ڈانس پر پابندی لگنے سے تھیٹر
کا کاروبار تقریباً ختم ہو کر رہ گیا تھا کیونکہ لوگوں کو جگت
باز ی کے ساتھ ساتھ مجروں کی بھی عادت ہوچکی تھی
گوجوانوالہ ،فیصل آباد اورملتان سمیت متعدد شہروں میں ڈرامے پر
پابندی لگا دی گئی
فنکاروں کو بین کیا گیا اور اسی
طرح کے بہت سے اقدام کئے گئے تاکہ تھیٹر کا ماحول ٹھیک کیا جاسکے
لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا ۔اور یہ ساری کاروائیاں وقتی ثابت
ہوئیںاس وقت جو تھیٹر ہمارے ہاں ہورہاہے وہ کسی طرح بھی تھیٹر کی
تعریف پر پورا نہےں اترتا۔نہ کہانی نہ سکرپٹ ،نہ ہدایتکاری نہ
اداکاری ۔صرف جگت بازی ،ڈانس اور جسم کی نمائش تھیٹر کی وجہ سے
اس حالات کو پہنچا،کون لوگ ا س کے ذمہ دار ہےں ۔اسے بہتر کرنے کے
لئے کیا اقدامات ہونے چاہیے اس سلسلہ میںسٹیج سے وابسہ معروف
شخصیات نے اپنی رائے کا اظہار کیا
اداکار قوی خاں نے کہاکہ ہر کام اپنے دائرے اور حد میں ہی اچھا
لگتا ہے بعض لوگ یہ کہتے ہےں کہ آزادی ہونی چاہیے جو کچھ ہورہا
ہے وہ بالکل ٹھیک ہے
لوگ جو دیکھنا چاہتے ہےں دکھانا
چاہیے ۔لیکن میں اس کے حق میں نہےں ہوں۔میں آرٹس کونسل کی گورننگ
باڈی میں بھی رہاہوں ۔ وہاں رہ کر بھی انہےں نے یہ کوشش کی کہ
تھیٹر بہتر ہوجائے ۔زیادہ پڑھے لکھے لوگ بھی اس بگاڑ کے ذمہ دار
ہیں جو زیادہ آزادی کے حق میں ہیں |