Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 12 May 2006 20:17 (PST)اشاعت

کئی دہائیوں بعد تاج محل پاکستان میں ریلیز ہوئی ہے

مشفق یونس

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

تاج محل کی پاکستان میں ریلیز ، ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے

بھارتی فنکاروں کا وفد پاکستان میں ایک ہفتہ گزارنے کے بعد وطن واپس پہنچ چکا ہے۔بھارتی فنکاروں کا 38 رکنی وفد بھارتی فلم” تاج محل‘ کے پریمیئرشو میں شرکت کرنے لئے لاہور ایئرپورٹ پہنچاتھا۔ جن کا ایئرپورٹ پر لاہوریوں کی بڑی تعداد نے پرتپاک استقبال کیا

صدر جنرل پرویزمشرف اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی اجازت سے بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش ہو رہی ہے

بھارتی فلم ” تا ج محل“ کے پریمیئر شو لاہور اور کراچی میں ہوئے اس سے پہلے ’ مغل اعظم کی نمائش بھی کی گئی تھی۔ فلم تاج محل کے پریمیئر شو میں بھارتی وفدمیں فیروزخان‘ فردین خان‘ سنجے خان ‘اکبرخان‘ سوزانے خان‘ ششی رنجن ‘شتروگھن سہنا‘ کبیر بیدی اوردیگر شامل تھے

بھارتی فنکار فیروزخان ایک تنازعے میں پھنس کر رہ گئے اورلاہور پریمیئر شو میں شرکت کے بعد کراچی میں ہونیوالے پریمیئرشو میں شرکت نہیں کرسکے

فنکاروں نے انارکلی لبرٹی اور مال روڈ پر شاپنگ بھی کی۔ بھارتی فنکاروں کے اعزاز میں استقبالیہ کااہتمام فلم ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے کیا جس میں سعید رضوی‘ جمشید ظفر‘ مبشر لقمان‘ سید نور‘ سنگیتا‘ چودھری سلیم جوڑا‘ ریماخان‘ طارق شاہ‘ جمشید نقوی‘ قیصر ثناءاللہ اورستیش آنند اوردیگرشخصیات نے شرکت کی

اس کے علاوہ رائل پام کنٹری کلب میں ایک عشائیہ کا اہتمام بھی کیاگیا جس میں بھارتی اداکارہ منیشا کوئرالہ نے بھی شرکت کی۔ اس تقریب میں ایک موقع پر بڑی عجیب سی صورتحال پیدا ہوگئی جب بھارتی اداکار فیروزخان اور تقریب کے کمپیئر فخر عالم کے درمیان نوک جھونک ہوگئی

اس نوک جھونک کے شہر میں بڑے چرچے ہوتے رہے۔ فلم ” تاج محل“ کے پریمیئر شو میں شرکت کرنے والے ہر ایک شخص کی زبان پر اس نوک جھونک کاذکر تھا فیروزخان نے اس روز پاکستان کے بارے میں نامناسب کلمات کہے جو تقریب میں موجود لوگوں کے لئے کافی حیرانگی کے باعث بنے۔ فخرعالم کا موقف تھا کہ تقریب اختتام پرپہنچی تو میں نے بہت برداشت کیا اور حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے صرف اتنا کہاکہ ہم پاکستانی پروقار قوم ہیں ایک خودمختار قوم ہیں۔ امن پسند لوگ ہیں۔ پیارومحبت کرنے والے لوگ ہیں۔ مہمان نواز لوگ ہیں۔ اور ہم اپنے مہمانوں کے لئے اپنی دل و جان حاضر کردیتے ہیں۔ اوراس دوران اگر مہمان سے کوئی غلطی یا کوئی کوتاہی ہو جائے تو ہم اس کو بھی در گزر کردیتے ہیں

اس بات پر لوگوں نے تالیاں بجاناشروع کردیں تو فیروزخان بہت زیادہ ا پ سیٹ ہوگئے اوروہ اپنی نشست پرکھڑے ہوگئے اور انگریزی میں کچھ کہتے ہوئے اسٹیج کی طرف بڑھے ان کوسکیورٹی والے تقریب سے باہر لے گئے جبکہ فیروزخان نے اس واقعے کے دو روز بعد ہنگامی پریس کانفرنس میں کہاکہ میں نے بات کچھ اورکی تھی اور انہوں نے بات کا پتنگڑ بنادیا۔ ہمارے ملک بھی دنگافساد ہوتا ہے پاکستان میں دنگافساد ہوتاہے یہ دنگے فساد آج کل کی دنیامیں نہیں چاہیے۔ یہ کسی کے بھی فائدے میں نہیں ہیںان سے جانوں کاضیاع ہوتاہے

 منیشا کوئرالہ سے فخرعالم نے غیرمناسب رویہ اختیار کیا کہ آپ اتنی لرز کیو ں رہی ہیں۔ سہمی ہوئی ہیں۔ آپ کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں۔ یہ بات ایک بار نہیں تین بارکی گئی۔ وہ بیچاری اتنا سفر کرکے آئی تھی اوروہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی ہے۔ اورشاہی خاندان کی لڑکی کیلئے اس طرح کے جملے کسنا مناسب نہیں۔ اس نے ہنس کر بات ڈال دی۔ نہیں ‘ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔ خیر مجھے یہ بات بری لگی اور میں نے ان سے کہاکہ یہ مناسب نہیں۔ پاکستان میں تو عورت کوبہت عزت دی جاتی ہے۔ یہ آپ کیسی زبان استعمال کررہے ہیں۔اس سے زیادہ میں کیا کہہ سکتاہوں۔میں کسی سے جھگڑنے پاکستان نہیں آیا اور نہ ہی میرا کسی سے کوئی جھگڑا ہے مجھے پاکستان سے پیارہے اور جنرل پرویزمشرف میرے آئیڈیل ہیں جو کچھ جنرل پرویزمشرف نے دو نوں ملکوں کو قریب لانے میں کیا ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات