|
حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض این جی
اوز نے ان فنکاروں کو پاکستان بلوا کر اپنا کاروبار بنالیاہے اور
زلزلہ زدگان کے نام پر فنڈز ریزنگ کررہی ہیں
فنڈز ریزنگ سے جمع ہونیوالی رقم کدھر جاتی ہے یہ کسی کو معلوم
نہیں حال ہی میں پاکستانی فلمی فنکاروں نے زلزلہ کے نام پرلاکھوں
روپے جمع کئے ہیں لیکن کیا ہوا کسی کو کچھ پتہ نہیں
اب گلوکارہ سائرہ نسیم نے یہ ایک بار پھر اعلان کردیاہے کہ فیصل
آباد شو کا 10 لاکھ روپے کا امدادی چیک خواجہ پرویز کے ہمراہ
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری یرویزالٰہی کو دینے جارہی ہیں
پاکستانی فنکار جنہوں نے زلزلہ زدگان کے نام پر فنڈ ریزنگ کی ہے
وہ بھی سائرہ نسیم کی تقلید کریں
اب بھارتی فلموں کی پاکستان میں تحفتہً نمائش کے بعد ایور ریڈی
پکچرز عامر خان کی فلم ”رنگ دے بسنتی“ کو نمائش کے لئے پیش کرنے
والے ہیں لاہور میں ایور ریڈی پکچر کے دفتر میں فلم تاج محل کے
بہت بڑے پوسٹر کے ساتھ 2 چھوٹے چھوٹے پوسٹر عامر خان کی فلم ”رنگ
دے بسنتی“ کے لگے ہوئے ہیں جس کے بارے میں ایور ریڈی پکچرز کے
ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ بہت جلد
بھارتی فلم ”رنگ دے بسنتی“ پاکستان میں نمائش کے لئے پیش کی جائے
گی اس بارے میں تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں
اس کے علاوہ اور بھارتی فلموں کو بھی پاکستان میں پیش کیا جائے
گا۔ حال ہی میں بھارتی فنکاروں کی پاکستان میں آمد پر کئی
پاکستانی اداکاروں نے اپنے آپ کو بھارتی ڈائریکٹروں تک رسائی
پانے کی کوشش کی لیکن وہ بری طرح سے ناکام رہیں۔ ان میں میرا اور
ریشم کے نام نمایاں ہیں
سنا ہے کہ میرا مہیش بھٹ کو بتائے بغیر فیروز خان سے تعلقات
بنانے کی کوشش میں تھیں لیکن میرا کو گھاس تک نہیں ڈالی اور ریشم
اکبر خاں کے آگے پیچھے تعریفیں کرتے تھکتی نہیں تھی کیا ہوا کچھ
بھی نہیں یہ باتیں بھی سنی گئیں کہ اکبر خان اور مہیش بھٹ نے
ریما خان کو فلموں میں کام کرنے کی آفر کرائی ہے۔ اور ریما نے ان
سے معاہدہ کرلیا ہے
جس پر ریما خان نے ان خبروں کی پر زور الفاظ میں تردید کی اور
کہا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتی جس سے میرے ملک کو ندامت کا سامنا
کرنا پڑے میں وہی کرتی ہوں جو میرا دل و دماغ کہے ہاں پاکستان کے
دورے پر آئے اکبر خان اور مہیش بھٹ سے ضرور ملی ہوں اور انہوں نے
مجھے فلموں میں کام کرنے کی آفر بھی کی ہے
لیکن میں نے ابھی بھارتی فلموں میں کام کرنے کی حامی نہیں بھری
کیونکہ میں ایک محب وطن پاکستانی ہوں اور پاکستان میں رہ کر
پاکستانی فلم انڈسٹری کیلئے ہی کام کرنا چاہتی ہوں میری پاکستان
میں اپنی ایک شناخت ہے اور میں اس شناخت کو پوری دنیا میں کرانا
چاہتی ہوں
اپنے پروجیکٹ میں مصروف ہوں اور میری خواہش ہے کہ میں پاک بھارت
مشترکہ فلمسازی کروں اور کسی ایسے سکرپٹ پر کام کروں جس پر مجھے
فخر محسوس ہو نہ کے ندامت کاسامنا کرنا پڑے۔
|