|
دیکھنے والوں کی
زندگیوں میں رچ بس گئے ہیں۔ موت ہو یا پیدائش، شادی ہو یا کوئی
سرکاری جشن، مذہبی تہوار ہو یا سیاسی جلسے جلوس بالی وڈ کے گیت
بھارتیوں کی زندگی کے ہر پہلو میں نظر آتے ہیں
اسکے باعث تنہا
گیت یا موسیقی شاندار کیمرہ ورک، سیٹ اور دوسرے لوازمات کے ہمراہ
کسی فلم کی کامیابی کی ضمانت بن جاتے ہیں اور ماضٰ قریب میں ایسی
فلمیں تلاش کرنا مشکل نہیں
تاہم بھارتی فلموں میں موسیقی کا
استعمال یا اسکی زیادتی نئی بات نہیں ہے۔ قدیم ہندوستان میں
سنسکرت تھیٹر کا سنہری دور ہو یا 19ویں صدی میں برطانوی راج کے
زیرِ اثر بنگال کا تھیٹر ہویا آسام میں اوجپلی، کشمیر کا جشن،
کیرالا کا کتھا کلی ہو یا پنجاب کا سوانگ
ہندوستان میں موسیقی،
گیت اور رقص کو ڈرامہ کا لازم و ملزوم حصہ شمار کیا جاتارہا ہے۔
اسلئے جب پہلی انڈین ٹاکی ”عالم آرا” ریلیز ہوئی تو اس سے پھوٹنے
والا موسیقی کا سیلاب پورے ہندوستان کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔
14مارچ 1931 کو امپیریل فلم کمپنی کی عالم آرا ریلیز ہوئی تو
ہندوستانی فلمیں ”بولنے” کے ساتھ ساتھ ”گانے” بھی لگیں۔ فلم کے
کمزور پلاٹ کا کام بارہ سے زائد گانوں کے تسلسل کو قائم رکھنا
تھا۔ شاعری اور دھنوں کا انتخاب اور ہدایتکار اردشیر ایرانی نے
خود کیا تھا اور گیتوں کی ریکارڈنگ کے لئے صرف ایک ہارمونیم اور
طبلہ استعمال کئے گیے جن کی آواز بھی پس منظر سی آتی تھی
گلوکار
بھی کیمرے کے پیچھے رہ کر ہی گاتے تھے۔ عالم آرا کے تمام گیت بے
حد مقبول ہوئے۔ بالخصوص ڈبلیو ایم خان کا گایا ہوا ”دے دے خدا کے
نام پر پیارے” زبان زدِ عام ہو گیا۔ عالم آرا کی مقبولیت نے
گانوں سے بھری فلموں کے ڈھیر لگا دئیے
عالم آرا کے بعد ”جمائی
سشتی” ، جو پہلی بنگالی ٹاکی تھی، ریلیز ہوئی اور اسکے بعد
”شیریں فرہاد” جاری ہوئی جس میں اردو سٹیج کی مقبول ترین گلوکار
جوڑی جہان آرا کجن اور ماسٹر نثار نے فن کا مظاہرہ کیا۔ کہا جاتا
ہے کہ لاہور کے ایک ٹانگہ بان نے یہ فلم 22مرتبہ دیکھی
آرسی اے
فوٹوفون ساونڈ پر ریکارڈنگ کے باعث فلم نہ صرف تکنیکی لحاظ عالم
آرا سے بہتر تھی بلکہ اس سے تین گنا زیادہ گیت اس میں شامل کیے
گئے تھے۔دراصل ہندوستان کی تمام اولین فلموں میں موسیقی لازمی
جزو تھی۔ بلکہ یہاں تک کہ ”اِندر سبھا” جس میں جہان آرا کجن اور
ماسٹر نثار نے کام کیا میں 71 گیت تھے۔ ٹاکی فلموں کے عروج کے
ساتھ ہی گیت نگاری اور میوزک کمپوزیشن کی پوری نئی صنعت وجود میں
آئی
ہر بڑے سٹوڈیو کا اپنا میوزک ڈائریکٹر تھا جس کےتعلقات
مراٹھی، پارسی اور بنگالی تھیٹر تک پھیلے ہوئے ہوتے تھے۔ سرسوتی
دیوی غالباََ ہندوستان کی پہلی خاتون میوزک کمپوزر تھیں۔ جنہوں
نے ممبئی ٹاکیز کی فلموں کی موسیقی ترتیب دی
سرسوتی کا اصل نام خورشید منوچہرہوم جی تھا۔ اور انہوں نے
تربیت معروف موسیقار پنڈت وشنو نارائن بھٹ کھانڈے سے حاصل کی
تھی۔ 1925 میں بمبئی میں ریڈیو سٹیشن کے قیام کے ساتھ خورشید
اورا ن کی بہنیں اس پر ماہانہ پروگرام کرنے لگیں اور انہیں ”ہوم
جی سسٹرز” کہا جانے لگا۔بمبئی ٹاکیز کے ہمنسو رائے سے ان کی
ملاقات اچانک ہوئی اور رائے نے انہیں اپنے سٹوڈیو کے لئے کام
کرنے پر راضی کر لیا۔اور یہیں سے ان کا نام ”سرسوتی دیوی” سے بدل
گیا۔ ہمنسو راے انہیں ایک خالی کمرے اور لے گئے اور بولا”یہی آپ
کا میوزک روم ہے
|