Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 28 November 2006 16:43 (PST)اشاعت

منا بھائی، ایسے بھی منے نہیں ہیں

شاہد الاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، نئی دہلی

سنجے دت دہشتگردی کے الزام سے بری، اسلحے کے الزام میں مجرم

فلم اداکار سنجے دت کو یہاں ایک خصوصی عدالت نے آج اسلحہ ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دیا لیکن 1993 کے سلسلہ بم دھماکوں کے سلسلے میں ان پر ٹاڈا قوانین کے تحت عائد الزامات سے انہیں بری کردیا۔خصوصی جج پرمود کوڈے نے سنجے دت

 کو بہر حال اسلحہ ایکٹ کی دفعات3اور7اور25(1) اے اور (1) بی کے تحت قصوروار پایا ۔ساتھ ہی جج نے کہا کہ عدالت یہ مانتی ہے کہ سنجے دت دہشت گرد نہیں ہیں.خصوصی جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے سنجے کو ان پر عائد الزامات پڑھ کر سنائے، جس میں بم دھماکے کی سازش، ٹاڈا قانون کی دفعہ 3(3) اور دفعہ پانچ اور چھ شامل تھیں

جج نے سنجے کو بم دھماکہ کی سازش اور ٹاڈا کی تمام مذکورہ دفعات کے الزامات سے بری کر دیا لیکن اسلحہ ایکٹ کی دفعات تین، سات، ون اے اور ون بی کے تحت انہیں مجرم قرار دیا۔ ان دفعات کے تحت مجرم کو کم از کم5سال اور زیادہ سے زیادہ10سال کی سزا ہوسکتی ہے

فاضل جج نے تاہم انہیں  ٹاڈا کے تحت مختلف دفعات کے تحت عائد کئے گئے الزامات سے بری کردیااور کہاکہ سنجے دت نہ تو دہشت گرد ہے اور نہ ہی کسی دہشت گردانہ سرگرمےوں میں  ملوث رہے ہیں۔مسٹر کوڈے نے کہاکہ سنجے دت کے پاس سے جو سامان (اے کے 47 رائفل) برآمد ہوا تھا اس کے بارے میں یہ  ثابت نہیں  ہوسکا کہ وہ انہی ہتھیاروں کا حصہ تھا جسے انڈر ورلڈ ڈان داوود ابراہیم اور اس کے ساتھی ٹائیگر مین نے ببھیجا تھا

اس لئے سنجے دت کو ٹاڈا قانون کی دفعہ3کے تحت قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔جج نے وکیل دفاع کی یہ دلیل تسلیم کرلی کہ ملزم نے یہ ہتھیار ’اپنے دفاع‘ کے لئے حاصل کیاتھا۔مقدمے کے دوران سنجے دت نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ رائفل اپنے دفاع کے لئے حاصل کی تھی کیونکہ ان کے والد سسنیلدت نے93۔1992میں ممبئی کے فرقہ وارانہ تشدد کے دوران متاثرین کی مدد کی تھی۔عدالت نے سنجے دت کے وکیل کی درخواست پر عدالت میں  ان کی خودسپردگی کے لئے وقت لینے کے بارے میں عرضی دائر کرنے کی اجازت دے دی

سنجے دت جیل میں 16ماہ گزارنے کے بعد اکتوبر1994 سے ضمانت پر رہا ہیں ۔چیک شرٹ اور نیلے  رنگ کی جینس پینٹ میں  ملبوس سنجے دت عدالت میں فیصلہ سنائے جانے کے وقت پریشان دکھائی دیئے۔ انہوں نے جج سے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے لئے روٹی کمانے والے واحد فرد ہیں ۔تاہم سنجے دت کی پوری درخواست سننے سے قبل ہی جج کوڈے نے انہیں رتوک دیا اور کہا کہ وہ اپنی بات مناسب وقت پر کہہ سکتے ہیں

 انہوں نے کہاکہ جب سنجے دت کو سزا کی مدت کے بارے میں عدالت کا فےصلہ سنایا جائے گا اس وقت وہ اپنی بات کہہ سکتے ہیں ۔جب سنجے دت کے وکیل نے کہا کہ سنجے دت کی ایک 18سالہ بیٹی ہے جو امریکہ میں اکیلے رہتی ہے تو جج نے انہیں بھی روک دیا اور کہا کہ وہ یہ سب باتیں لکھ کر دیں

سنجے دت کی یہ بیٹی ان کی آنجہانی اہلیہ رچا شرما سے ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات