Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 24 September 2006 11:35 (PST)اشاعت

الانصارالسنہ کو ایک سخت مزاحمتی تنظیم کہاجاتاہے

 

امریکی حملے کے بعد عراق میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے

عراقی سیکورٹی فورسز اور امریکی فوج نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے عراق میں مزاحمتی تنظیم اور امریکہ کو ملطوب الانصارالسنہ کے سربراہ ’ منتصر الجبوری‘ کو گرفتار کرلیا ہے

الالنصار السنہ کو عراق میں ایک سخت

مزاحمتی تنظیم کے نام سے جانا جاتا ہے

الانصار السنہ نے عراق میں متعدد امریکی فوجیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جبکہ متعدد حملوں کی اس تنظیم نے ویڈیو بھی جاری کیں تھیں

ادھرالزرقاوی کے بعد ان کی جگہ لینے والے ’ابو اجوب المصری‘ نے پہلی مرتہ ایک ویڈیو میں ایک ترک باشندے کو قتل کرتے ہوئے خود کو دکھایا ہے

الزرقاوی کے بعد ان کی جگہ کس نے لی اس بارے میں تاہم ابہام پایا جاتا ہے اور عراقی سیکورٹی فورسز کے علاوہ امریکی فوج بھی نہیں جان پائی کہ الزرقاوی کی جگہ لینا شخص دراصل کون ہے

تاہم اندازوں سے الزرقاوی کے نائب کے کئی نام رکھے گئے ہیں

ادھر عراق میں کئی غیر ملکی فوجیوں سمیت اکسٹھ افراد ہلاک ہوگئے عراق کے ایک مزاحمتی گروپ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت دکھائی گئی ہے جن کے بارے میں مزاحمتی گروپ کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کی یونت کے فوجیوں نے محمودیہ میں ایک عراقی لڑکی کی آبرو ریزی کی تھی

بغداد کے مختلف علاقوں میں تازہ ترین اطلاع کے مطابق کم از کم چھ افراد کو ہلاک کردیا گیا ہے

ادھر  بغداد کے ہی مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد نے کئی افراد کو ہلاک کردیا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق سنی مسلک سے تھا

عراق میں بغداد کے مختلف علاقوں میں خانہ جنگی کی صورتحال کئی دنوں سے جاری ہے جس میں سنی اور شیعہ مسلک کے گھروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے

جبکہ گژتہ روز بغداد ميں ايك كار بم دھماكے ميں 31 افراد جاں بحق ہو گئے ہيں

اطلاعات كے مطابق بم دھماكہ شيعہ اكثريتي علاقے صدر سٹي ميں ہوا ہے جاں بحق ہونے والوں ميں اكثريت خواتين كي ہے جو ماہ رمضان ميں كھانا پكانے كے ليئے  تيل كے ٹينكر كے پاس تيل لينے وہاں كھڑي تھیں

اقوام متحدہ نے عراق ميں بڑھتي ہلاكتوں پر تشويش كا اظہار كيا ہے اقوام متحدہ كا كہنا ہے كہ جولائي ميں مختلف حادثات ميں تين ہزار چھ سو شہري ہلاك ہوئے ہيں

 جبكہ اسي سال اگست ميں پر تشدد كارروائيوں ميں اب تك تين ہزار افراد مارے جاچكے ہيں

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات