|
کو درجنوں
ممالک میں رکھا گیا تھا
سی آئی اے
کی خفیہ جیلوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ مشرقی یورپ کے کئی ممالک
جن میں کوسوو بھی شامل ہے کے علاوہ عرب ممالک میں بھی تھیں جہاں
گرفتار ہونے والے افراد سے تفتیش کی جاتی رہی ہے
امریکی عقوبت خانے۔ انکوائری
سی آئی اے یورپ میں کہاں کہاں
امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قتل عام‘
حدیثہ’قتل عام‘ کمانڈرآگاہ تھے
’آبروریزی کے بعد لڑکی کا قتل‘
حدیثہ’قتل عام‘ صدر بش آگاہ تھے
گوانتانامو۔قیدی بچوں پر ’تشدد‘
قتل عام‘ امریکہ معافی مانگے
امریکہ سے یورپ کی جواب طلبی
سی آئی اے
کی جانب سے دنیا کے کئی ممالک سے گرفتار ہونے والے افراد کے بارے میں
کہا گیا تھا کہ انہیں مصر ، اردن اور شام میں رکھا گیا تھا جہاں ان
افراد کو سخت تفتیش کے مراحل سے گزارا جاتا تھا
انسانی
حقوق کی کئی تنظیموں نے بارہا اپنی اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ سی
آئی اے نے کئی گرفتار شدگان کو مصر کی ایجنسیوں کے حوالے کردیا ہے
تاکہ وہ گرفتار ہونے والوں سے تفتیش کر سکے
مصر کی
حکومتی ایجنسیوں کے بارے میں کہا گیا ہے انہیں قیدیوں پر غیر انسانی
تشدت کا تجربہ ہے
سی آئی اے
اور امریکی فوج کے علاوہ خود پاکستان اور کئی ممالک کی ایجنسیوں اور
فوج نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کیئے ہیں جنہیں گوانتانامو کی جیل
میں رکھا گیا
جبکہ سی
آئی اے نے درجنوں افراد کو متعدد ممالک جن میں یورپ بھی شامل ہے سے
گرفتار کرکے افغانستان میں ان افراد سے تفتیش کی
جرمنی میں
ایک لبنانی نژاد جرمن شہری خالد المصاری اور ایک ترک نژاد جرمن شہری
کو گرفتار کرکے افغانستان میں رکھا گیا جبکہ ترک نژاد جرمن شہری کو
گوانتانامو پہنچادیا گیا تھا جنہیں کئی برسوں بعد رہا کیا گیا جبکہ
خالد المصاری کے مطابق انہیں جرمنی سے یوگوسلاویہ جاتے ہوئے بارڈر سے
گرفتار کیا گیا اور انہیں افغانستان چھ ماہ تک رکھا گیا
خالد
المصاری کے مطابق ان سے سخت تفتیش کی گئی تھی جبکہ تفتیش کاروں کا
کہنا تھا کہ ’ تمہیں پتہ ہے تم کہاں ہو؟ تم ایسی جگہ ہو جہاں سے
واپسی ممکن نہیں ہوتی‘
خالد
المصاری نے جرمنی میں اپنے وکیل کے ذریعے سی آئی اے کیخلاف کیس دائر
کیا ہے
ادھر
امریکی سی آئی اے پر حال ہی میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ سی
آئی اے نے کئی ممالک سے گرفتار کیئے جانے والے افراد کو گوانتانا مو
اور دیگر مقامات پر پہنچانے کےلیئے غیر قانونی طور پر یورپ کے کئی
ممالک کے ائرپورٹوں اور فضائی حدود کو استعمال کیا
یورپی
یونین نے حال ہی میں ایسی فلائٹوں کے بارے میں تفتیش شروع کی ہے جس
میں سینکڑوں فلائیٹوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہیں گرفتار کیئے
جانے والے افراد کو نامعلوم مقامات کی طرف لے جانے کےلیئے یورپی
ممالک کی فضائی حدود کو استعمال کیا گیا تھا
حال ہی میں صدر بش نے امریکہ میں
ایک ایسے قانون پر دستخط کیئے تھے جس کے مطابق عام شہریوں کی ٹیلی
فون کالیں سننے ، ای میل چیک کرنے اور دیگر ذاتی امور میں مداخلت
کےلیئے خفیہ ایجنسیوں کو اجازت تھی تاہم اس قانون کو بھی بش انتظامیہ
نے عوام سے خفیہ رکھا تھا صدر بش اور
وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے تمام امور ان کے
علم میں ہوتے ہیں اور اس کے بعد انہیں لاگو کیا جاتا ہے یا ایسے کفیہ
آپریشنوں پر عمل کیا جاتا ہے عراقی
شہر حدیثہ میں ہونے والے امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قتل عام جس میں
چوبیس شہریوں کو ہلاک کردیا گیا تھا کے بارے میں صدر بش کو بتادیا
گیا تھا تاہم صدر بش کے علم میں یہ واقع آنے کے باوجود صدر بش تین
ماہ تک خاموش رہے جب تک ایک امریکی جریدے نے اس قتل عام کو عام نہیں
کردیا تو صدر بش نے اس قتل عام کی تفتیش کرنے کا حکم دیا
صدر بش کے خفیہ جیلوں کے بارے میں بیان کو اس وقت ایک اعتراف اور
انکشاف کہا جارہا ہے جبکہ صدر بش کے اس اعتراف سے برسوں اور مہینوں
قبل عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان جیلوں کے بارے میں
بتا چکے ہیں |