|
انہوں نے
ایران کے بارے مزید سخت موقف اختیار کیا تھا پر فرانس نے اپنے
ناخوشگوار ردعمل کا اظہار کیا ہے
فرانس کے
وزیر خارجہ نے صدر بش کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران
کیخلاف سخت کارروائی کے ہم مخالف ہیں تاہم ایران کیخلاف سلامتی کونسل
کے ذریعے قدم بہ قدم کارروائی ہونی چاہیئے
فرانسیسی
وزیر خارجہ ’ فلپ ڈوسٹے بلازی ‘ نے کہا کہ ہم تہذیبوں میں تصادم نہیں
چاہتے ہیں
انہوں نے
ایران پر صدر بش کی شدید تنقید اور ایران کےلیئے نا مناسب الفاظ
استعمال کرنے پر صدر بش کا نام لیئے بغیر کہا کہ مغرب اور مسلمانوں
کے درمیان ناچاتی نا قابل قبول ہے
فرانسیسی
وزیر خارجہ نے ایران کیخلاف سخت الفاظ کا استعمال نہ کرتے ہوئے
ایرانی مسئلے کے بارے میں کہا ایران کی طرف سے یورینیم کی افزودگی پر
بات چیت ہونی چاہیئے
ادھر
امریکہ کی طرف سے ایران کیخلاف اقتصادی پابندیاں اور امکانی طور پر
ایران کیخلاف فوجی کارروائی کے بارے میں روس نے اپنا موقف پیش کرتے
ہوئے کہا ہے کہ ایران کیخلاف سخت اقدامات کی حمایت نہیں کرینگے
تاہم روس
کا کہنا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے علاوہ ایران کیخلاف کسی بھی
جارحیت کو قبول نہیں کیا جائیگا
ادھر چین
کاکہنا ہے کہ ایران کیخلاف کسی جارحیت کو قبول نہیں کیا جائے گا تاہم
چین نے ایران سے کہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کا کام بند کردے
ایک سال سے
زائد عرصہ جرمنی ، فرانس اور برطانیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے
ہیں اور ان تینوں ممالک نے ایران کو یورپی منڈی میں بہتر تجارتی
سہولتیں دینے کے علاوہ بجلی پیدا کرنے والے متعدد سسٹم دینے کا بھی
اعلان کیا تھا تاہم ایران نے ان مراعات کو قبول کرنے انکار کردیا تھا
تاہم فرانس
، چین اور روس کی طرف سے امریکہ پر ایران کے ساتھ مذاکرات
کرنےپر زور دینا اور ایران کیخلاف کسی جارحانہ کارروائی کی مخالفت
کرنا ایران کیخلاف امریکی پالیسی کےلیئے ایک دھچکہ ہے جبکہ امریکہ کی
خواہش ہے کہ ایران کیخلاف اقتصادی پابندیوں سے بھی آگے کی کارروائی
کی جائے |