|
امريكہ كے سابق صدر جيمي كارٹر نے اخبار " سنڈے ٹيليگراف " سے گفتگو
كرتے ہوئے كہا ہے كہ مجھے ٹوني بلئر كي رفتارپرسخت تعجب اور مايوسي
ہوئي ہے
كارٹر نے كہا كہ ميں سمجھتا تھا كہ برطانيہ امريكہ پر دوسرے ہر ملك
سے زيادہ اثر انداز ہوسكتا تھا اور امريكي رفتار ميں تعادل پيدا
كرسكتا تھا ليكن عمل كے ميدان ميں برطانيہ نے ايسا ثابت نہيں كيا
كارٹر
نے كہا كہ ميرے خيال ميں عراق پر امريكي حملے ميں برطانيہ سب سے بڑا
مانع ہوگا ليكن بلئر نے اس كے بر عكس ثابت كيا
’ مہر‘ کے مطابق كارٹر نے كہا كہ بلئر كے اندر رہبريت كے فقدان كے
باعث عراق كا بحران كھڑا ہوا ہے اور عراق پر حملے سے القاعدہ اور
دہشت گرد تنظيموں كو قوت اور طاقت ملي ہے
كارٹر
نے كہا كہ عراق پر حملے سے حالات ميں كوئي فرق نہيں پڑا ہے بلكہ
امريكي اور برطانوي عوام كے لئے مزيد خطرات پيدا ہوئے ہيں
امريكہ كے سابق صدر جيمي كارٹر نے برطانوي وزير اعظم ٹوني بلئر پر
شديد نكتہ چيني كي ہے اور اس كو بش كا مطيع اور فرمانبردار قرارديا
ہے كارٹر نے كہا كہ دنيا اسوقت امريكہ سے سخت متنفر ہے
|