Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Saturday, 19 August 2006 18:30 (PST)اشاعت

فرانس نے صرف پچاس فوجی امن فورس کےلیئے بھیجے

 

اسرائیلی حملوں میں ڈیڑھ ہزار کے قریب لبنانی ہلاک ہوئے

ہفتے کی صبح اسرائیلی کمانڈو اور حزب اللہ جنگجووں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں میں چار اسرائیلی کمانڈو جبکہ تین حزب اللہ جنگجو ہلاک ہوگئے

تاہم اسرائیلی فوج نے ایک فوجی کی ہلاکت

اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کو ملنے والے اسلحہ کی روک تھام کرنا چاہتی ہے

جبکہ گذشتہ رات لبنانی پولیس نے بتایا تھا کہ اسرائیل کے دو جنگی جیٹ طیاروں نے بعلبک کے علاقے پر پرواز کی اور دو راکٹ فائر کیئے تھے

ادھر لبنانی وزیر اعظم فواد السنیورا نے اسرائیل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی صریحَ خلاف ورزی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی ہے

انہوں نے اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ اسرائیلی حملے کا سخت کا نوٹس لے

اسرائیل نے جنگ بندی کے دو دن بعد اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر حزب اللہ غیر مسلح نہ ہوئی تو اسرائیل حزب اللہ پر دوبارہ حملہ کر دیگا

اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی

لبنانی پولیس کا کہنا ہے کہ بعلبک پر اسرائیلی جنگی جیٹ طیاروں نے پرواز کی ہے  پولیس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے دو راکٹ بھی فائر کیئے ہیں تاہم لبنانی سیکورٹی حکام نے تاحال اس کی تصدیق نہیں کی پولیس کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا

ادھر اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی طیاروں نے لبنان پر کوئی حملہ نہیں کیا اور نہ ہی طیاروں نے حملے کےلیئے کوئی پرواز کی ہے

اقوام متحدہ کو امن فوج کی دستیابی میں مشکلات

تینتیس دنوں تک اسرائیلی حملوں اور جنگ بندی کے بعد سلامتی کونسل کی قرارد پر کے تحت کوئی بھی ملک لبنان میں اپنی فوج نہیں بھیج رہا  اقوام متحدہ اس صورت حال سے خاصی مایوس اور پریشان ہے

فرانس نے چار ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تھا جبک اب فرانس صرف دو سو فوجی بھیجنے پر راضی ہوا

ادھر بنگلہ دیش سے بھی امن فوج کے جانے کے بارے میں اطلاعات ہیں

پاکستان کا کہنا ہے کہ ابھی اقوام متحدہ نے پاکستان سے درخواست نہیں کی جبکہ وزیر خارجہ خورشید محمود جنہوں نے لبنان کا دورہ کیا ہے کا کہناتھا کہ لبنانی حکومت کی درخواست پر پاکستان امن فوج میں اپنی فوج شامل کر سکتا ہے

 جبکہ جرمنی کی حکومت نے صرف فوج کی بجائے بحری گشتی کشتیاں دینے کا عندیہ دیا ہے

اقوام متحدہ کو امن فوج کےلیئے پندرہ ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے

جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کا عمل شروع ہوگیا‘ برطانوی فوج نے اہم پوسٹوں پر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ لبنانی فوج نے ملک کے جنوبی علاقوں میں دریائے لیتانی کے قریب اپنے پوزیشن سنبھالنا شروع کردی ہیں۔ اسرائیلی فوج کئی پوزیشن اقوام متحدہ کی فوج ’یونیفل‘ کے حوالے کر چکی ہے

اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مرجایون کا علاقہ یونیفل کے حوالے کر دیا گیا ہے اور بنت جبیل کے کئی نواحی علاقے بھی لیکن بنت جبیل کے شہر پر اسرائیلی کنٹرول ہے

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی میں بنت جبیل میں شدید جھڑپیں ہوئی تھیں اور اسے حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے

رپورٹ کے مطابق لبنان کے 15 ہزار فوجی جمعرات سے ملک کے جنوبی علاقوں میں تعینات ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ لبنانی کابینہ نے اس سلسلے میں ایک منصوبے کی منظوری دے دی ہے

لبنان کے وزیر اعظم فواد سنوریا نے کہا ہے کہ فوج کی تعیناتی کا مقصد ملک کا دفاع کرنا ہے اور لبنانی حکومت کے حلقہ اختیار کے باہر اسلحہ کی اجازت نہیں ہوگی

تاہم اس بیان کے باوجود یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرے گی یا پھر صرف یہ چاہتی ہے کہ حزب اللہ اپنے ہتھیار اور اسلحہ کی نمائش نہ کرے

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی امن فورس میں کسی دشمن مسلمان ملک کی شمولیت قبول نہیں کرے گا

یہ بات اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لیونی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کے لئے بین الاقوامی امن فورس کئی ممالک کے فوجیوں پر مشتمل ہوگی جن میں مسلمان ریاستیں بھی شامل ہیں

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جن ممالک کو اسرائیل دشمن سمجھتا ہے ان کی شرکت قبول نہیں کی جائے گی تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کئے

اقوام متحدہ کی کوشش ہے لبنان میں جلد از جلد امن فوج تعینات کر دی جائے ، جبکہ جرمن وزیر خارجہ سٹائن مائیر بھی اسی سلسلے میں مشرق وسطی کا دورہ کر رہے ہیں تاہم انہوں نے اس سلسلے میں شام کے صدر بشارالاسد سے ان کی تقریر کے بعد ملاقات کرنے سے انکار کردیا

لبنان میں اس وقت امن فوج کے طور پر فرانس کے دو سو فوجی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جبکہ فرانس مزید چار ہزار فوجی لبنان بھیجے گا، امکانی طور پر امن فوج کی کمان اس مرتبہ فرانس کے ہاتھ میں ہوگی

جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل  لبنان میں جرمن فوجیوں کو تعینات کرنا چاہتی ہیں جبکہ جرمن حکومت کی اتحادی جماعت ابھی اس بات پر راضی نہیں ہو سکی تاہم کہا جا رہا ہے کہ جرمنی لبنان میں بحری فوج بھیج سکتا ہے

فرانس کے علاوہ ابھی کسی اور ملک نے اقوام کو اپنی فوج بھیجنے کا نہیں کہا جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کے تحت جانے والی امن فوج کی روانگی میں تاخیر ہو رہی ہے

ادھر اقوام متحدہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ پندرہ روز میں بین الاقوامی امن فوج کے ساڑھے تین ہزار فوجی لبنان میں تعینات کیے جائینگے اس دوران امریکہ نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے لبنانی حکومت کو مدد کی پیشکش کی ہے

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ سپیشل فورس کے سربراہ سمیت چھ سو ارکان ہلاک کردیئے گئے ہیں جبکہ ، حزب اللہ نے کہا کہ اس کا ایک لیڈر بھی اسرائیل کا نشانہ نہیں بنا

اقوام متحدہ کے امن مشن کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ہادی النابی نے کہا کہ آئندہ پندرہ روز کے دوران امن فوج کے تین سے ساڑھے تین ہزار فوجی لبنان میں تعینات کردیئے جائینگے جو وہاں امن برقرار رکھنے کے لیے ملک کی تعمیر ونو میں لبنانی عوام اور فوج کے شانہ بشانہ کام کرینگے

دوسری طرف امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈیوڈ ویلتھ نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ کے نزدیک لبنانی عوام کا تحفظ اور مکمل خود مختار حکومت کے ہوتے ہوئے ہی ممکن ہے

ریاست میں ایک اور ریاست جیسے حزب اللہ سیاسی جماعت چلا رہی ہے بین الاقوامی برادری کے لیے ناقابل قبول ہے لہذا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے امریکہ لبنانی حکومت کی مددکرنے کو تیار ہے

اس سے پہلے اسرائیل کے نائب وزیراعظم شمعون پیریز نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات کی بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جنگ میں حزب اللہ کے چھ سو کارکن ہلاک اور اتنے ہی زخمی ہوئے ہیں

 انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران حزب اللہ کو مضبوط کرنے کیلئے ہر سال سو ملین ڈالر اور عسکری تربیت فراہم کرتا رہا ہے

ادھر حزب اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ایک ماہ کی لڑائی میں ان کے ستر فوجی جاں بحق ہوئے جبکہ اعلیٰ قیادت بالکل محفوظ ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات