|
سربراہان مملکت نے کئی غیر رسمی
ملاقاتیں کیں
اور ان ملاقاتوں میں اسرائیلی حملوں
اور عالمی اداروں کا کردار زیر بحث رہا
جبکہ سابقہ اجلاسوں کی نسبت اس
ہنگامی اجلاس میں ایک غیر معمولی جذباتی ماحول نوٹ کیا گیا
کئی مسلم رہنماؤں کا خیال تھا کہ اس
حوالے سے کوئی واضع اور ٹھوس حکمت عملی اپنانا ہوگی اور مستقبل میں
کسی بھی مسلم ملک کو ایسے حملوں اور کسی دوسرے ملک کی جارحیت سے
محفوظ رکھنے کےلیئے دفاعی حکمت عملی کی بھی ضرورت محسوس کی گئی
اس موقع پر نیٹو طرز کی مسلم ممالک
کی جوائنٹ ڈیفنس کونسل کی تشکیل کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں
واضع رہے کہ عراق پر حملوں کے دوران
بھی ماٹو ’ مکہ الائنس ٹریٹی آرگنائزیشن ‘ جو کہ نیٹو کی طرز پر ہے
کا مکمل خاکہ پیش کیا جا چکا ہے تاہم مصر ، اردن اور سعودی عرب کی
عدم دلچسپی کے باعث اس پر پیش رفت نہیں ہوسکی
|