|
میں روس کی سفیراٹلی چرکن نے اعلان کیاہے کہ ان کے ملک کی طرف
سے لبنان میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر تین روزہ جنگ بندی کی
قرارداد کامسودہ سلامتی کونسل میں پیش کردیاگیا ہے
انہوں نے کہاکہ لبنان میں جنگ بندی سے متعلق قراردادپر سمجھوتہ
ہوتاہوانظر نہیں آتا جس کی وجہ لبنان میں انسانی بحران کی کیفیت پیدا
ہوسکتی ہے اور ہرطرف کے جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ایسے حالات میں
انہوں نے کہاکہ لبنان میں ضرورت مند افراد تک امداد پہنچانے کیلئے
فوری جنگ بندی ضروری ہے تاہم اسرائیل نے تین روزہ جنگ بندی کے لئے
سلامتی کونسل میں روس کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کومستردکردیا ہے
اقوام متحدہ کیلئے اسرائیل کے سفیرڈلن گرمین نے ملکی ریڈیو سے
انٹرویو میں کہاکہ ان کی روسی سفیر وٹلی چرکن سے ملاقات ہوئی ہے جس
میںان پرواضح کیاگیا ہے کہ اس طرح کی جنگ بندی سے صرف ایک ہی مقصد
حاصل ہوگا کہ حزب اللہ کو دوبارہ منظم ہونے اورسنبھلنے کاموقع ملے گا
انہوںنے کہاکہ ہمارے خیال میں یہ غلط نظریہ ہے
ادھر امریکی سفیر جان بولٹن کاکہناتھاکہ لبنان میں جنگ بندی سے متعلق
قرارداد پرووٹنگ ہوسکتی ہے تاہم انہوںنے کہاکہ روس کی نئی قرارداد سے
لبنان کے بحران کادیرپا اور کثیرالمقاصد حل تلاش کرنے کی کوششوں سے
توجہ ہٹانے کا باعث بنے گا
جان بولٹن نے روس کی طرف سے قرارداد کو مسترد کرنے کی دھکمی اور بہتر
گھنٹوں کی فائر بندی پر سخت تنقید کی ہے
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی عام سا معاملا نہیں ہے جسے ایسے طریقوں سے
حل کیا جائے
جبکہ فرانس کے وزیرخارجہ فلپ دوستے بلینر نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے
کہ قرارداد پر اتفاق رائے ممکن ہے۔دریں اثناءبرطانوی وزیراعظم ٹونی
بلیئر نے امیدظاہر کی ہے کہ لبنان بحران کے حوالے سے اقوام متحدہ کی
قرارداد پرمعاہدہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں طے پاجائے گا
لندن میں برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ سے بات
کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم ٹونی بلیئر نے سیکرٹری جنرل کوفی عنان
فرانس کے صدریاک شیراک اور اطالوی وزیراعظم رومانو پروڈی سمیت کئی
عالمی رہنماﺅں سے لبنان بحران کے حل کے سلسلے میں بات کی ہے
ترجمان کے مطابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق
سلامتی کونسل کی قرارداد پر آئندہ چوبیس گھنٹوں میں معاہدہ طے پاجائے
گا اوراس سلسلے میں وزیرخارجہ مارگریٹ بکٹ مشاورت کے لئے نیویارک میں
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز روانہ ہورہی ہیں
ادھرترکی نے مشرق وسطیٰ تنازعے کے حل کے لئے یورپی یونین کو ہرممکن
مدد کایقین دلایا ہے سفارتی ذرائع نے سینیئر ترک اہلکارکے حوالے سے
بتایا ہے کہ انقرہ لبنان بحران کے حل کے لئے یورپی یونین کی کوششوں
میں ہرلحاظ سے تعاون کرے گا
تاہم مستقبل قریب میں کسی بین الاقوامی فورس کاحصہ نہیں بنے گا
سینیئرترک اہلکارنے لبنان میں قیام امن کو جنگ بندی سے مشروط کیا
دوسری جانب ایک اسرائیلی اخبارمیں شائع ہونے والے عوامی سروے کے
مطابق حزب اللہ کے ساتھ جنگ میں اسرائیلی ہلاکتوں میں اضافے اورحزب
اللہ کے مسلسل راکٹ حملوںکے پیش نظر اسرائیلی وزیراعظم ایہودالمرٹ
اور ان کے وزیردفاع مقبولیت میں زبردست کمی آئی ہے
سروے کے مطابق 48 فیصد اسرائیلیوں نے ایہود المرٹ کی کارکردگی پر
اطمینان کااظہارکیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں حزب اللہ کے خلاف جنگ
کے ابتدائی مراحل میں المرٹ کو75 فیصد اسرائیلیوں کی حمیات حاصل تھی
اخبار کے مطابق وزیردفاع امیرپرتیز کی مقبولیت بھی 67 فیصد سے کم
ہوکر37 فیصد تک پہنچ گئی ہے
|