|
پیر کو انڈونیشین وزارت خارجہ کے ترجمان دسراپرکایا نے اخباری
نمائندوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی لبنان میں جنگ بندی سے متعلق
قرارداد نمبر 1701کے تحت تمام رکن ممالک اقوام متحدہ کی عبوری امن
فورس میں فوج بھیجنے کے پابند ہیں
انہوں نے کہا کہ اس قرارداد پر عمل درآمد کے سلسلہ میں کسی بھی ملک
کو کوئی حق استرداد حاصل نہیں ہے
ترجمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی عبوری امن فوج لبنان کی حدود
میں تعینات کی جا رہی ہے نہ کہ اسرائیل کی سرزمین میں تعینات ہو گی۔
اس لئے اسرائیل اس ضمن میں کسی کو کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتا
واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرٹ اور وزیر خارجہ زیپی
لیوینی نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں تعینات کی جانے والی اقوام
متحدہ کی امن فوج میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ رکھنے والے
ممالک کی فوج کو شامل کرنے کے خلاف ہے اور صرف ایسے ممالک کی امن فوج
میں شمولیت کو قبول کیا جائے گا جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات
ہیں
واضح رہے کہ یہ ملائیشیا ،انڈونیشیا اور بنگلہ دیش نے اسرائیل کے
ساتھ تعلقات نہ ہونے کے باوجود لبنان میں اپنے ایک ایک ہزار فوجی
بھیجنے کی پیش کش کی ہے
|