Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 21 August 2006 22:34 (PST)اشاعت

اسرائیل فیصلے کا مجاز نہیں ہے ، اندونیشیا

 

اوآئی سی ٹھوس کردار ادا کرے، انڈونیشیا

انڈونیشیا نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کی امن فوج میں انڈونیشیا کے ایک ہزار فوجی بھیجنے کی پیشکش کو مسترد کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں اور نہ ہی اسرائیل اقوام متحدہ کو کسی ملک کی فوج قبول کرنے یا نہ کرنے کی کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ہے

پیر کو انڈونیشین وزارت خارجہ کے ترجمان دسراپرکایا نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی لبنان میں جنگ بندی سے متعلق قرارداد نمبر 1701کے تحت تمام رکن ممالک اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس میں فوج بھیجنے کے پابند ہیں

انہوں نے کہا کہ اس قرارداد پر عمل درآمد کے سلسلہ میں کسی بھی ملک کو کوئی حق استرداد حاصل نہیں ہے

ترجمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی عبوری امن فوج لبنان کی حدود میں تعینات کی جا رہی ہے نہ کہ اسرائیل کی سرزمین میں تعینات ہو گی۔ اس لئے اسرائیل اس ضمن میں کسی کو کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتا

واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرٹ اور وزیر خارجہ زیپی لیوینی نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں تعینات کی جانے والی اقوام متحدہ کی امن فوج میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ رکھنے والے ممالک کی فوج کو شامل کرنے کے خلاف ہے اور صرف ایسے ممالک کی امن فوج میں شمولیت کو قبول کیا جائے گا جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں

واضح رہے کہ یہ ملائیشیا ،انڈونیشیا اور بنگلہ دیش نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات نہ ہونے کے باوجود لبنان میں اپنے ایک ایک ہزار فوجی بھیجنے کی پیش کش کی ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات