|
چیت کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے حوالے
سے سلامتی کونسل کی قرارداد خوش آئند ہے اور اس کے نتیجے میں فوری
طور پر جنگ بندی ممکن ہو سکے گی
shitحزب اللہ، بش کا انداز گفتگو
انہوں نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی
قرارداد پر عملدرآمد اب بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے
صدر بش نے کہا کہ لبنان کی حالیہ بحران کی ذمہ داری حزب اللہ، ایران
اور شام پر عائد ہوتی ہے۔ حزب اللہ نے ایران اور شام کی ایماءپر
اسرائیلی فوجیوں کو اغواءکر کے خطے میں ناپسندیدہ جنگ کا آغاز کر دیا
تھا جس کی وجہ سے سینکڑوں بے گناہ لوگ ہلاک اور لاکھوں متاثر ہو گئے
امریکہ خطے میں قیام عمل کےلئے اپنے حلیف اور دوست ممالک کے ساتھ مل
کر اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ جیسی دہشت گرد
تنظیموں کو کارروائیوں سے روکنے کےلئے امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ
مل کر کام کرے گا
سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد میں بھی حزب اللہ کو اسلحہ کی
فراہمی کی مخالفت کی گئی ہے
صدر بش نے کہا کہ لبنان کی علاقائی سالمیت اور داخلی خود مختاری کو
یقینی بنانے کےلئے اقدامات ضروری ہیں ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری بن
جاتا ہے کیونکہ حزب اللہ نے ریاست کے اندر ریاست قائم کرتے ہوئے
لبنان کے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے
|