|
منگل کے روز جس وقت امریکی وزیر
خارجہ کوندو لیزارائس صدر مشرف سے ملاقات کر رہی تھیں اور صدر مشرف
طالبان کے فرار کے راستے بند کرنے کےلیئے افغان سرحد پر دس ہزار مزید
پاکستانی فوجیوں کو تعینات کرنے کی خوشخبری رائس کو سنا رہے تھے اسی
وقت اٹلی کے نئے وزیر اعظم ’ رومانو پروڈی ‘ یہ اعلان کر رہے تھے کہ
اٹلی افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا
افغانستان میں اٹلی کے تیرہ سو فوجی
تعینات ہیں جن میں سے پہلے مرحلے میں تین سے چار سو فوجی واپس بلا
لیئے جائینگے
کونڈو لیزا رائس نے صدر مشرف اور
اپنے ہم منصب محمود قصوری کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان اور
افغانستان باہمی دوستانہ تعلقات کے تحت طالبان کے ٹامے کےلیئے امریکہ
کی مدد کریں
افغانستان میں اس وقت دس ہزار سے
زائد امریکی اور افغانی فوجی طالبان کیخلاف آپریشن ’ ماؤنٹین تھرسٹ ‘
جاری کیئے ہوئے ہیں
کونڈو لیزا رائس کا دورہ پاکستان
اور افغانستان کا مقصد طالبان کیخلاف موجودہ بڑے فوجی آپریشن کی
کامیابی کےلیئے پاکستان اور افغانستان کو قریب لانا ہو سکتا ہے جن
میں کچھ عرصہ سے شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں
کونڈو لیزا رائس نے افغانستان میں
صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے دوران پاکستان کے ساتھ باہمی دوستانہ
ماحول بنانے اور طالبان کیخلاف دونوں ممالک کا مل کر کام کرنے کی
ہدایت کی ہے
امریکہ افغانستان میں طالبان کیخلاف
موجودہ بڑا آپریشن ہر حال میں کامیاب بنانا چاہتا ہے جبکہ کونڈو پیزا
رائس کا دورہ پاکستان اور افغانستان کو طالبان کیخلاف ایک دوسرے کو
قریب لانے کےلیئے ہے |