|
تاہم صدر بش نے عراقی شہریوں کی
ہلاکتوں پر خاموشی اختیار کر لی
نیشنل سیکورٹی کے سٹیفن ہیڈلی
کا کہنا ہے کہ انہوں نے گیارہ مارچ کو صدر بش کو اس واقع سے آگاہ
کردیا تھا
تاہم انیس نومبر کو امریکی
فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے عورتوں اور بچوں سمیت چوبیس
افراد کی ہلاکت کے بعد عراق میں ذمہ دار امریکی افسران نے اس
واقع کو دبا دیا اوران فوجیوں کو بچایا جن کو اس واقع ذمہ دار
ٹھہرایا گیا ہے
ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر بش کو
واقع سے تین ماہ بعد آگاہ کردیا گیا تھا جبکہ خود صدر بش بھی اس
واقع کے بعد خاموش رہے
تاہم صدر بش نے مارچ میں اطلاع
ملنے کے بعد پہلی باس گزشتہ بدھ کو اس بارے میں بیان دیا
حدیثہ میں شہریوں کے قتل کے
بارے میں فروری میں پہلی بار ’ٹائم‘ کے آرٹیکل کی اشاعت کے بعد
شروع ہوئی جس میں اس شک کا اظہار کہا گیا تھا کہ حملے میں
شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں
تاہم صدر بش نے اب کہا ہے کہ وہ
تحقیقات کا انتظار کر رہے ہیں اور اگر امریکی فوجی قصور وار ہوئے
تو انہیں سزا دی جائیگی
واضع رہے عراق اور افغانستان
میں امریکی فوج کے ہاتھوں سینکروں ایسے افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن
کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ عام شہری تھے اور ہلاک ہونے
والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے |