Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 02 June 2006 12:39 (PST)اشاعت

شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے صدر بش آگاہ تھے

 

حدیثہ کے’قتل عام‘ کے بارے میں صدر بش کو مارچ میں آگاہ کیا گیا

انیس نومبر کو عراقی شہر حدیثہ میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے عورتوں اور بچوں سمیت چوبیس شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے صدر بش تین بعد اس وقت آگاہ ہوئے جب پہلی مرتبہ ان ہلاکتوں کے بارے خبریں آئی تھیں

تاہم صدر بش نے عراقی شہریوں کی ہلاکتوں پر خاموشی اختیار کر لی

نیشنل سیکورٹی کے سٹیفن ہیڈلی کا کہنا ہے کہ انہوں نے گیارہ مارچ کو صدر بش کو اس واقع سے آگاہ کردیا تھا

تاہم انیس نومبر کو امریکی فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے عورتوں اور بچوں سمیت چوبیس افراد کی ہلاکت کے بعد عراق میں ذمہ دار امریکی افسران نے اس واقع کو دبا دیا اوران فوجیوں کو بچایا جن کو اس واقع ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے

ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر بش کو واقع سے تین ماہ بعد آگاہ کردیا گیا تھا جبکہ خود صدر بش بھی اس واقع کے بعد خاموش رہے

تاہم صدر بش نے مارچ میں اطلاع ملنے کے بعد پہلی باس گزشتہ بدھ کو اس بارے میں بیان دیا

حدیثہ میں شہریوں کے قتل کے بارے میں فروری میں پہلی بار ’ٹائم‘ کے آرٹیکل کی اشاعت کے بعد شروع ہوئی جس میں اس شک کا اظہار  کہا گیا تھا کہ حملے میں شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں

تاہم صدر بش نے اب کہا ہے کہ وہ تحقیقات کا انتظار کر رہے ہیں اور اگر امریکی فوجی قصور وار ہوئے تو انہیں سزا دی جائیگی

واضع رہے عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کے ہاتھوں سینکروں ایسے افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ عام شہری تھے اور ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات