|
سربراہ پیٹر بابنگٹن نے کہا کہ اس طرح سے ملیشیا کی تشکیل نہایت
خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور انہیں حامد کرزئی کے اس اعلان پر شدید
تشویش ہے
مغربی ممالک کے سفارتکاروں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ اس اقدام کے
نتیجہ میں جس کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار افراد کو اسلحہ فراہم کرکے ان
پر مشتمل کمیونٹی پولیس تشکیل دی جائے گی، ملک کے جنوبی حصوں کو مزید
عدم استحکام کا شکار کرنے کا باعث بنے گا
واضح رہے کہ افغان صدر حامد کرزئی نے نئی ملیشیا کی تشکیل کے فیصلہ
کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد افغان پولیس کی مدد کرنا ہے
جس کے ارکان کی بڑی تعداد طالبان کے حملوں میں ماری جا چکی ہے
یورپی سفارتکاروں نے حامد کرزئی کے اس اقدام کو جنگجو سرداروں کو
دوبارہ مسلح کرنے کے مترادف قرار دیا ہے
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر حامد کرزئی کے اعلان کے بعد
ہلمند کے سابق گورنر شیر محمد اخونزادہ جنہیں منشیات کے سمگلروں کے
ساتھ تعلقات کے الزام میں ان کے عہدہ سے برطرف کر دیا گیا تھا، نے
200 ڈالر ماہانہ تنخواہ پر 500 افراد بھرتی کر لئے ہیں
جبکہ ارزگان کے سابق گورنر نے بھی اتنی ہی تنخواہ پر ملیشیا کی بھرتی
کا اعلان کیا ہے
|