Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Wednesday, 14 June 2006 13:38 (PST)اشاعت

طالبان کا مقابلہ کرنے کےلیئے عوام کو اسلحہ کی فراہمی

 

عوام میں السحلہ تقسیم کرنے کے اعلان پر یورپ کو تشویش

یورپی ذرائع ابلاغ اور سفارتکاروں نے افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے طالبان کا مقابلہ کرنے کیلئے ملک کے جنوبی حصوں کے باشندوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغان باشندوں کو غیرمسلح کرنے کے پروگرام کے

سربراہ پیٹر بابنگٹن نے کہا کہ اس طرح سے ملیشیا کی تشکیل نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور انہیں حامد کرزئی کے اس اعلان پر شدید تشویش ہے

مغربی ممالک کے سفارتکاروں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ اس اقدام کے نتیجہ میں جس کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار افراد کو اسلحہ فراہم کرکے ان پر مشتمل کمیونٹی پولیس تشکیل دی جائے گی، ملک کے جنوبی حصوں کو مزید عدم استحکام کا شکار کرنے کا باعث بنے گا

واضح رہے کہ افغان صدر حامد کرزئی نے نئی ملیشیا کی تشکیل کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد افغان پولیس کی مدد کرنا ہے جس کے ارکان کی بڑی تعداد طالبان کے حملوں میں ماری جا چکی ہے

یورپی سفارتکاروں نے حامد کرزئی کے اس اقدام کو جنگجو سرداروں کو دوبارہ مسلح کرنے کے مترادف قرار دیا ہے

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر حامد کرزئی کے اعلان کے بعد ہلمند کے سابق گورنر شیر محمد اخونزادہ جنہیں منشیات کے سمگلروں کے ساتھ تعلقات کے الزام میں ان کے عہدہ سے برطرف کر دیا گیا تھا، نے 200 ڈالر ماہانہ تنخواہ پر 500 افراد بھرتی کر لئے ہیں

جبکہ ارزگان کے سابق گورنر نے بھی اتنی ہی تنخواہ پر ملیشیا کی بھرتی کا اعلان کیا ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات