Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 04 June 2006 13:16 (PST)اشاعت

قندھار گورنر خود کش حملے میں بال بال بچے

 

خود کش حملوں میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہوئے

افغانستان کے صوبوں قندھار اور ہلمند میں دو خود کش حملوں اور افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک جبکہ چار افغان پولیس اہلکاروں اور تین طالبان سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے حملے میں گورنر

 قندھار بال بال بچ گئے ، افغان فورسز نے متعدد طالبان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے

 دوسری جانب افغان حکومت نے دارالحکومت کابل میں گزشتہ پانچ روز سے جاری رات کا کرفیو ہٹادیا ہے جبکہ امان اللہ گوزار کو کابل کا سیکورٹی کمانڈر نامزد کردیاگیا ریڈیو آزادی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار کے پولیس ترجمان نے بتایا کہ خود کش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ضلع رغونڈ کے عیدگاہ کے علاقے میں کینیڈین فوج کے قافلے میں شامل گاڑیوں سے ٹکرانے کی کوشش کی لیکن گاڑی شہریوں کے ہجوم میں گھس گئی اور زور دار دھماکے سے تباہ ہوگئی جس سے کم از کم بارہ شہری ہلاک اور سات زخمی ہوگئے دھماکے سے ایک ہوٹل تباہ ہوگیا

دھماکے کی جگہ شہریوں اور مزدوروں کی بڑی تعداد موجود تھی جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے

طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے میں کینیڈین فوج کی بکتر بند گاڑی کو تباہ کردیاگیا جس سے کئی فوجی ہلاک ہوئے ہیں دھماکے کے وقت صوبائی گورنر وہاں سے گزر رہے تھے تاہم وہ محفوظ رہے

دریں اثناء ریڈیو کابل کی رپورٹ کے مطابق صوبہ ہلمند میں خود کش کا حملے میں ایک شخص ہلاک اور 17 جبکہ زخمی ہوگئے رپورٹ کے مطابق یہ خود کش حملہ قندھار لشکر گاہ ہائی وے پر ہوا جہاں دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک کار دوسری کار سے ٹکرا گئی ایک صوبائی اہلکار نے خود کش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ایک شہری ماراگیا جبکہ سترہ افراد زخمی ہوگئے جنہیں قریبی ہسپتال پہنچایاگیا جہاں پانچ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے

اس دوران صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے نزدیک افغان پولیس اورطالبان کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں چار افغان پولیس اہلکار اور تین طالبان زخمی ہوگئے

 صوبائی گورنر کے ترجمان کے مطابق جھڑپ کے بعد کئی مشتبہ طالبان کوگرفتار بھی کرلیا گیا ہے دوسری جانب افغان حکومت نے دارالحکومت میں پانچ روز تک رات کا کرفیو جاری رہنے کے بعد اسے ہٹادیا ہے

کابل میں حالیہ امریکہ مخالف پر تشدد مظاہروں کے بعد رات کا کرفیو نافذ کردیاگیا تھا جن میں بیس افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے کرفیو کے خاتمے کا اعلان افغان وزارت داخلہ کی ط ف سے مقامی ٹی وی چینلز پر کیاگیا جس کے بعد لوگوں کو رات کے اوقات میں باہر نکلنے کی اجازت مل گئی ہے

افغان حکومت کی طرف سے امان اللہ گوزار کو کابل کا نیا سیکورٹی کمانڈر نامزد کردیاگیاہے

اس بات کا اعلان وزارت داخلہ اور پارلیمنٹ کے کچھ اراکین کے درمیان کابل میں ہونے والے اجلاس کے کے بعد کیاگیاہے۔ امان اللہ گوزار نے وزارت داخلہ کی جانب سے ان پر اعتماد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ کابل میں امن وامان قائم کرنے کے حوالے سے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات