|
گذشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا
کہ ایران کو پندرہ دن کی مہلت دی جاتی ہے تاکہ ہمارے یورپی
اتحادی ایران کےلیئے مراعاتی پیکج تیار کر سکیں
رائس کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے پیکج
قبول نہ کیا تو اس کیخلاف سلامتی کونسل کے ذریعے سخت پابندیاں
عائد کروانئی جائینگی
تاہم ایران نے کسی قسم کا مراعاتی پیکج
قبول کرنے سے انکار کردیا تھا
ایرانی صدر احمد نژاد نے ایران
میں ایک جلسہ عام میں اعلان کیا تھا کہ ’ میں یہاں واضع طور پر
ایک بار پھر اس بات کو دہرا رہا ہوں کہ ہم کسی بھی قسم کے
مراعاتی پیکج کو قبول نہیں کرینگے‘
جمعرات کو ویانا میں یورپی
ممالک ایران کے ساتھ مذکورہ مراعاتی پیکج پر بات چیت کر رہے ہیں
ادھر
ایران نے کہا ہے کہ وہ ایٹمی ایندھن کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری
کے لئے استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کرانے بارے یورینیم کی
افزودگی کی صلاحیت پر پابندی قبول کرنے کو تیار ہے جبکہ روس نے
کہا ہے کہ وہ ایٹمی تنازعے کی وجہ سے تہران کے خلاف طاقت کے
استعمال کرنے کے خلاف ہے
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر جاوید
ظریف نے بتایا ہے کہ یہ پابندی افزودگی کے لیول 10 سے کم ہونی
چاہئے تاکہ یہ یوررینیم انسپکٹروں کے لیے مناسب رہے
انہوں نے
کہا کہ ایران تیار شدہ ایٹمی ایندھن کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری
میں استعمال نہ کرنے کو یقینی بنانے کے لئے دیگر اقدامات کرنے کو
بھی تیار ہے
روس کی سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری ایگور ایوانوف نے کہا ہے
کہ ان کا ملک ایٹمی تنازعے کو حل کرنے کے لئے ایران کے خلاف طاقت
کے استعمال کے خلاف ہے اور ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس
مسئلے کا بات چیت سے حل نکالا جائے ، طاقت کے استعمال سے خطے میں
کشیدگی پیدا ہو گی اور مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گا
|