|
وہائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کے سفارتخانوں کی حفاظت
میں ناکامی ظاہر کرتی ہے کہ یہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا ہے
اس سے پہلے ہفتے کے روز جرمنی کے شہر میونچن میں انٹرنیشنل ڈینفس کانفرنس
سے اپنے خطاب میں جرمن چانسلر انجلا میرکل کا کہنا تھا کہ دوسرے مذاہب کا
احترام کرنا چاہیئے تاہم اسی کے ساتھ انہوں نے مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے
ہوئے کہا کہ یہ جو ہو رہا ہے یہ ناقابل قبول ہے
ادھر ڈنمارک کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ شام نے اس واقع پر معذرت کی ہے
یورپ کے کئی ممالک میں اخبارات کی ایک دوسرے سے اظہار یکجہتی کے طور پیغمبر
اسلام کے کارٹون شائع کرنے پر اسلامی دنیا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے
جبکہ مشرق وسطی کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی احتجاجی مظاہرے کیئے
جارہے ہیں
ایران کے صدر احمدی نژاد نے ان مغربی ممالک کا اقتصادی بائیکاٹ کرنے کا کہا
ہے جن ممالک میں کارٹون شائع کیئے گئے ہیں
تاہم ڈنمارک کے اخبار نے مسلمانوں سے معذرت جبکہ یورپ کے تمام مذکورہ
اخبارات کا کہنا ہے ان ممالک میں جمہوریت ہے اور جمہوری قانون انہیں اس بات
کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی کے بھی کارٹون شائع کر سکیں
اسی بنا، پر اخبارات نے معافی مانگنے سے انکار کردیا ہے جبکہ ڈنمارک کے
اخبار نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے پر پابندی عائد نہیں کیا
جا سکتی
ادھر فرانس اور جرمنی کی حکومتوں نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے ، ان
ممالک کا بھی یہی کہنا ہے کہ جمہوریت میں ہر کسی کو آزادی ہے کہ وہ اپنی
رائے کا کسی طرح بھی اظہار کرے
اسلامی دنیا میں تسلسل سے شدید احتجاجی مظاہروں کے باجود مغرب کے کئی ممالک
میں پیغمبر اسلام کے کارٹون چھاپے گئے جبکہ مغربی اخبارات اور حکومتوں کا
کہنا ہے کہ یہ آزادی اظہار رائے ہے اس پر معافی نہیں مانگی جا سکتی
دوسری جانب اسلامی دنیا اس واقع کو اپنے مذہب اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی
توہین قرار دیتے ہوئے مظاہروں میں شدت پیدا کر رہے ہی ہے جبکہ ایران کے صدر
نے مغربی ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کا کہا ہے
تازہ ترین بیان میں امریکہ نے دمشق میں نمغربی سفارتخانوں کو نذر آتش کیئے
جانے کے واقع میں حکومت کو ملوث قرار دیا ہے جبکہ پاکستان کے صدر جنرل
پرویز مشرف نے ایسے واقعات کو تہذیبوں کے تصادم سے تعبیر کیا ہے
تاہم ایسا لگتا ہے مغربی ممالک آزادی اظہار رائے اور جمہوریت کے نام پر
معافی مانگنے پر قطعی راضی نہیں جبکہ اسلامی دنیا میں اس واقع کو پیغمبر
اسلام اور مسلمانوں کی توہین سمجاھ رہا اور حکومتیں نہ چاہتے ہوئے بھی
عوامی دباؤ میں ہیں جس کی وجہ سے تنازعہ خطرناک رخ اختیار کر سکتا ہے
|