|
ڈنمارک کے اخبار’ جیلانڈن پوسٹن ‘ نے ستمبر میں پیغمبر اسلام کے
کارٹون شائع کیئے تھے جن میں پیغمبر اسلام کو ایک دہشتگرد دکھایا گیا تھا
ڈنمارک کے اخبار کے بعد ناروے، فرانس ، اٹلی ، اسپین اور جرمنی کے اخبارات
نے بھی متواتر پیغمبر اسلام کے کارٹون شائع کیئے
یورپی ممالک دیگر اخبارات نے ان کارٹون کی اشاعت یہ کہہ کر دوبارہ کی کہ
یورپ میں اظہار رائے کی آزادی ہے ، جبکہ دوسری جانب مذکورہ اخبارات
نے ڈنمارک کے اخبار کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے ان کارٹونوں کو شائع کیا ہے
کوفی عنان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک اور دیگر اخبارات میں شائع ہونے ان
کارٹونوں سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے جس کا انہیں بھی افسوس ہے، تاہم
مسلمانوں کو ان اخبارات کی معذرت قبول کر لینی چاہیئے
فرانس اور جرمنی میں کے اخبارات میں پیغمبر اسلام کے کارٹون شائع کیئے گئے
جبکہ فرانس کی حکومت کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار رائے پر پابندی عائد نہیں
کی جاسکتی
ادھر جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اخبارات میں شائع ہونے والے کارٹونوں پر
معافی نہیں مانگے گی تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ کارٹون کی اشاعت کے ذمہ دار
اخبار اور متعلقہ صحافی ہیں حکومت نہیں
|