|
سید سلیم شہزاد نے رہائی کے بعد اپنے
مشاہدات کے بعد لکھا ہے کہ طالبان ان دنوں قندھار کو ملک کے باقی
حصوں سے منقطع کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں
ان کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے اس کے
کے بعد آئندہ برس کے آغاز تک شہر پر باقاعدہ حملہ کر دیا جائے گا
واضح رہے افغانستان کی تاریخ میں قندھار
کی فتح اہم کردار ادا کرتی رہی ہے اور کابل سے قبل اسے ہی مشکل
ترین مہم قرار دیا جاتا ہے
ان دنوں طالبان قندھار ہرات ہائی وے کے
ساتھ ملحقہ علاقوں میں برسر پیکار ہیں جس کا واضح مقصد شہر کو
ملک کے باقی حصوں سے لا تعلق کرنا ہے
موسم سرما کے دوران تنظیم نو کے بعد
طالبان قندھار پر قبضہ کرنے کے لئے مکمل جنگ کا آغاز کر دیں گے
جہاں کہ نیٹو کی فوج تعینات ہے جسے پہلے ہی جنگجوئوں کی طرف سے
شدید حملوں کا سامنا ہے
واضع رہے نیٹو کے افغانستان میں کنٹرول
سنبھالنے کے بعد درجنوں اتحادی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں
|