|
معاملات
عراقی حکومت اور عوام کے حوالے کیئے جائیں
ان کا کہنا
تھا کہ عراقی عوام خود تمام مشکلات سے نمٹے گی
حکیم کا
کہنا تھا کہ عراقی کی موجودہ صورتحال عراق اپنے قریبی دوست ممالک کے
ساتھ مل کر بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے
تاہم صدر
بش نے حکیم سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ عراق کی موجودہ صورتحال
اور عراقی حکومت کی موجودہ کارکردگی سے مطمن نہیں ہیں
واضع رہے
عراقی حکومت اور عوام برملا یہ بات کہہ چکی ہے کہ امریکہ عراق چھوڑ
دے اور عراق کے بارے میں عراقی عوام کو فیصلے کا حق دے
جبکہ بش
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عراق کی صورتحال اس قابل نہیں ہے کہ امریکی
فوجوں کو واپس بلایا جائے
عراق کی سب سے بڑی سیاسی جماعت متحدہ عراقی الائنس کے سربراہ
سیدعبدالعزیزحکیم نے امریکی صدر بش سے ملاقات میں اس بات پر زوردیا
ہےکہ عراقی معاملات عراقی حکومت اور عوام کے حوالے کردیئے جائیں
عبدالعزیز الحکیم
نےکہا
کہ وہ عراق کے مسائل کے حل کی کسی بھی ایسی بیرونی کوشش کی مخالفت
کرینگے جس میں عراقی حکومت کو نظرانداز کیا
جائے
انھوں نے امریکی صدر سے کہا کہ عراق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے
ضروری ہے کہ امریکی فوجی عراقی حکومت کے زیر نظر رہ کر کام کریں اور
سکیورٹی کے تمام معاملات عراقی حکومت کے سپرد کردیئے جائیں
امریکی
صدر بش نے اس ملاقات میں کہا کہ
امریکہ
عراق
کو متحد رکھنے کی عراقی حکومت اور عبدالعزیز الحکیم کی کوششوں کی
حمایت کرتا ہے
امریکی صدر سے ملاقات سے پہلے حکیم نے امریکی وزير خارجہ کے ساتھ صاف
و شفاف اور دو ٹوک مذاکرات کئے ہیں |