|
میں علاقے کے ممالک کے ساتھ سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے
اور اس سلسلے میں ایران اور شام جیسے اہم ممالک کے ساتھ مذاکرات
ضروری ہیں
کیونکہ
تہران اور دمشق کے ساتھ گفتگو کیئے بغیر کسی نتیجے تک پہنچنا نا ممکن
ہے
سنیٹر ٹوسٹر نے وب کے اظہارات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہم علاقے
میں امریکی شکست کو مشاہدہ کررہے ہیں لہذا اس بحران سے نکلنے کے لئے
مذاکرات ضروری ہیں
ادھر
ڈیموکریٹ پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما اسٹن ہویر نے بھی فاکس نیوز کے
ساتھ گفتگو کرتے ہوئے عراق کے بحران سے نکلنے کے لئے ایران اور شام
کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زوردیا ہے
واضع رہے
امریکی صدر بش کبھی تو ایران شام کے ساتھ مذاکرات اور عراق بارے ان
کے کردار یا ان ممالک کی حمایت سے انکار کرتے ہیں جبکہ بش انتظامیہ
کئی بار یہ بیان دے چکی ہے کہ ایران کے ساتھ مشروط مذاکرات ممکن ہیں
ادھر عراق
کی حکومت کا بھی کہنا ہے کہ عراق کے مسائل کو کم کرنے کےلیئے ایران
سے مذاکرات کیئے جانے چاہیئں
آئندہ برس
امریکہ سے یہ مطالبہ شدت اختیار کر جائیگا کہ وہ عراق سے جانے کا
ٹائم ٹیبل دے جبکہ امکان ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی بھی عراق سے فوجیں
نکالنے لےلیئے صدر بش پر اپنے دباؤ کو شدید کر دے
|