|
لٹیوا میں
اخباری نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت میں انہوں نے کہا انہیں عراق کی
صورتحال کا پورا احساس ہے
صدر بش کا
کہنا تھا وہ عراق مسئلے پر ہر تجویز کو جاننے کے خواہاں ہیں لیکن
امریکی فوجوں کی واپسی نا قابل قبول ہے
صدر
بش نے کہا ہے کہ امریکہ عراق سمیت تمام معاملات کو سیاسی طریقہ سے حل
کرنے کا خواہش مند ہے یہ بات
انہوں نے اسٹونیا کے صدر کے ہمراہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی
انہوں نے
کہا کہ اگر عراق ملک میں استحکام کےلیئے ایران یا کسی دیگر ملک کی
مدد لیتے ہیں تو عراقی حکومت اس میں ؤزاد ہے
صدر بش نے
کہا کہ امریکہ کی پہلی خواہش عراق میں حالات کو معمول پر لانا ہے
انہوں نے
کہا کہ ایران کو چاہیئے کو وہ عراق کے حوالے سے باضابطہ کردار ادا
کرے تاہم انہوں نے کہا کہ منفی طریقہ سے ایران کی عراق میں مداخلت نا
قابل قبول ہوگی
صدر بش کا
کہنا تھا کہ ایران اور شام عراق اور لبنان میں انتہا پسندوں کی حوصلہ
افزائی کر رہے ہیں اور دوسری جانب القائدہ عراق میں نسلی فسادات کو
بڑھاوا دے رہی ہے
بش نے
افغانستان کے حوالے سے کہا کہ نیٹوکی افواج افغانستان میں صورتحال کو
قابو کرنے میں بھرپور کوشش کررہی ہے اور امید ہے کہ افغانستان
اور پاکستان کی مدد سے حالات پر قابو پا لیا جائیگا
ایران کے
ایٹمی پروگرام کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے ضواب صدر بش نے کہا
ایران کے حوالے سے امریکہ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی
انہوں نے
کہا کہ امریکہ ایران سے براہ راسط بات چیت کرسکتا ہے لیکن اس کےلیئے
ایران کو یورینیم کی افزودگی کو روکنا ہوگا |