|
کو امن و خوشحالی کی مثال
بنائیں ، یہاں چوتھی ہندوستان ٹائمز لیڈر شپ چوٹی ملاقات کے
دوران اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی سے بچا
جاسکتا ہے دہشت پسندی مغرب اور کچھ
پڑوسیوں نے جان بوجھ کرپیدا کی۔ اس کے نتائج تباہ کن نکلے اب دنیا
جاگ گئی ہے۔صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں دہشت پسندی کے
فروغ کے لئے پاکستان کا براہ راست نام نہیں لیا الٹے بحران کے دنوں
میں افغان رفیجیوںں کو پناہ دینے کے لئے اس کی تعریفبھی کی
پاکستان میں پناہ گزیں افغانوں میں خود حامد کرزئی بھی کسی زمانے میں
شامل تھے۔انہوں نے طالبان کا بھی دفاع کہا اور کہا کہ وہ سیدھے سادے
لوگ ہیں ۔ ان میں سے بیشتر صاف ستھرے ہیں ، جس وقت ملک مداخلتوں کے
دورہ سے گزر رہا تھا۔ اس وقت طالبان ابھرے ، افغانستان کے باہر کی
زیادہ چالاک تنظیموں نے ان کو استعمال کرلیا
صدر کرزئی نے طالبان کے ہی سلسلے میں اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے
کہا ’میں ان لوگوں کو ذاتی طورپر جانتا ہوں۔ وہ لوگ سیدھے سادے
لوگ ہیں ۔ ان میں بہت سے لوگ صاف ستھرے ہیں ‘۔اس سوال پر کہ کیا وہ
طالبان کے ساتھ خاص کر ملا محمد عمر کے ساتھ امن کے وسیع تر مفاد میں
کام کریں گے ؟ تو مسٹر کرزئی نے
کہا کہ ’امن کے لئے میں کسی کے ساتھ بھی بات چیت کرنے کو تیار
ہوں لیکن جن لوگوں نے افغان عوام کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا
ہے اور اب بھی کر رہے ہیں ۔، ان کو قانون کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے
گا۔ جن لوگوں نے پرامن زندگی شروع کردی ہے، ان کا خبر مقدم ہے
انہوں نے زور دےکر کہا کہ وہ ملا محمد عمر کے ساتھ بات نہیں کریں گے
انہوں نے خود ہی سوال کیاکہ ملا محمد عمر کے لئے کہا آپ سمجھتے ہیں
کہ یہ ممکن ہے کہ ‘افغان طالبان سے بات ہوسکتی ہے، غیر افغان طالبان
سے قطعی نہیں’ |