Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Saturday, 18 November 2006 17:20 (PST)اشاعت

افغانستان میں انتہاپسندی، پڑوسی ممالک ملوث،کرزئی

شاھدالاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ، نئی دہلی

افغان طالبان سے بات چیت ہوسکتی ہے غیر افغانوں سے نہیں، کرزئی

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے آج ’مغرب‘ اور ’کچھ پڑوسیوں‘ پر اپنے ملک افغانستان میں دیدہ و دانستہ دہشت پسندی اور مذہبی انتہاپسندی کے فروغ کا الزام عائد کیا اور پوری دنیاسے کہا کہ وہ اس لعنت کا مل جل کر مقابلہ کریں  اور اس خطہ

 کو امن و خوشحالی کی مثال بنائیں ، یہاں چوتھی ہندوستان ٹائمز لیڈر  شپ چوٹی ملاقات کے دوران اپنے خطاب میں  کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی سے بچا جاسکتا ہے

دہشت پسندی مغرب اور کچھ پڑوسیوں نے جان بوجھ کرپیدا کی۔ اس کے نتائج تباہ کن نکلے اب دنیا جاگ گئی ہے۔صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں  دہشت پسندی کے فروغ کے لئے پاکستان کا براہ راست نام نہیں لیا الٹے بحران کے دنوں میں افغان رفیجیوںں  کو پناہ دینے کے لئے اس کی تعریفبھی کی

پاکستان میں پناہ گزیں افغانوں میں خود حامد کرزئی بھی کسی زمانے میں  شامل تھے۔انہوں نے طالبان کا بھی دفاع کہا اور کہا کہ وہ سیدھے سادے لوگ ہیں ۔ ان میں سے بیشتر صاف ستھرے ہیں ، جس وقت ملک مداخلتوں کے دورہ سے گزر رہا تھا۔ اس وقت طالبان ابھرے ، افغانستان کے باہر کی زیادہ چالاک  تنظیموں  نے ان کو استعمال کرلیا

صدر کرزئی نے طالبان کے ہی سلسلے میں  اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا ’میں  ان لوگوں کو ذاتی طورپر جانتا ہوں۔ وہ لوگ سیدھے سادے لوگ ہیں ۔ ان میں بہت سے لوگ صاف ستھرے ہیں ‘۔اس سوال پر کہ کیا وہ طالبان کے ساتھ خاص کر ملا محمد عمر کے ساتھ امن کے وسیع تر مفاد میں  کام کریں گے ؟

تو مسٹر کرزئی نے  کہا کہ ’امن کے لئے میں کسی کے ساتھ بھی بات چیت  کرنے کو تیار ہوں لیکن  جن لوگوں نے افغان عوام کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں ۔، ان کو قانون کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ جن لوگوں نے پرامن زندگی شروع کردی ہے، ان کا خبر مقدم ہے


انہوں نے زور دےکر کہا کہ وہ ملا محمد عمر کے ساتھ بات نہیں کریں گے

انہوں نے خود ہی سوال کیاکہ ملا محمد عمر کے لئے کہا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ ‘افغان طالبان سے بات ہوسکتی ہے، غیر افغان طالبان سے قطعی نہیں’

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات