|
كا
دردناك معاملہ فلسطينيوں يا مسلمانوں كا معاملہ نہيں بلكہ يہ انسايت
كا ايك عالمي معاملہ ہے كيونكہ آج فلسطين ميں انسانيت كے اقدار كو
اسرائيل بري طرح پامال كررہا ہے اور انساني شرافت اور كرامت كے ساتھ
اسرائيل بازي كررہا ہے
صدر احمدي نژاد نے كہا كہ اسرائيل نے فلسطيني عوام كي آبائي سرزمين
كو غصب كرركھا ہے انكے جينے كے حقوق انكي آزادي اور انكے جمہوريت كے
حق كو اسرائيل نے سلب كرركھا ہے اوراس سلسلے ميں حقوق انساني ، آزادي
اور جمہوريت كے مدعي مغربي ممالك اسرائيل كي حمايت كررہے ہيں
احمدي نژاد نے كہا كہ مغربي ممالك نے اپنے سياسي اور اقتصادي مفادات
كي حفاظت كے لئے اسرائيل كو عالم اسلام كے قلب ميں وجود بخشا ہے تا
كہ اس كے ذريعہ علاقے كے ممالك كو اپنے زير اثر ركھ سكيں صدر احمدي
نژاد نے كہا كہ بعض ممالك نے اس بات كو بہانہ بنا ركھا ہے كہ 6 ملين
اسرائيلي مارےگئے اور يہ كہ 2500 سال پہلے اسرائيلي اس علاقے ميں
زندگي بسر كرتےتھے اور يہ انكا آبائي علاقہ ہے
صدر نے كہا كہ كئي ملين فلسطينيوں كو بے گھر كركے ان كے گھروں ميں
اسرائيليوں كو بسانا اور انكے ساتھ دلجوئي كرنا بے معني ہے صدر احمدي
نژاد نے كہا كہ ايران ہولوكاسٹ كے بارے ميں مختلف ممالك كے ماہرين كي
ايك منصف مزاج تحقيقي ٹيم تشكيل دينے كے لئے آمادہ ہے اگر مغربي
ممالك تحقيق كے نتائج كي مخالفت نہ كريں تاكہ يہ معاملہ صاف و شفاف
ہوجائے
انھوں نے كہا كہ فلسطين فلسطينيوں كے متعلق تھا اور ہے اس سرزمين پر
كبھي بھي يہودي ساكن نہيں رہے ہيں اگر ہولوكاسٹ ميں كوئي حقيقت ہے
بھي تو يہ حقيقت يورپ ميں واقع ہوئي ہے اور يورپيوں كے گناہ كا تاوان
فلسطيني عوام كوادا نہيں كرنا چاہيے
ایرانی
صدر نے كہا كہ فلسطيني معاملے كا ايك ہي حل ہے اور وہ يہ كہ آوارہ
اور بے گھر فلسطينوں كو لاكر انكے آبائي وطن ميں بسايا جائے اور
فلسطين كے رہنے والے تمام مسلمان ، عيسائي اور يہودي فلسطيني
انتخابات كے ذريعہ حكومت تشكيل ديں اور باہر سے لاكر بسائے گئے يہودي
اور صيہونيست اپنے اپنے ممالك كو واپس چلے جائيں ليكن يہ منطقي اور
اخلاقي حل اسرائيل نواز سامراجي طاقتوں كو قبول نہيں كيونكہ وہ ظلم
اور ظالم كي حامي ہيں |