|
بیان میں
ملا عمر نے کہا کہ ان کی جانب سےچند ماہ پہلے لڑائی میں تیزی کا اعلان غلط
ثابت ہوا اور مجھے یقین ہے کہ لڑائی میں حیران کن قوت پیدا ہوجائے گی انہوں
نے نیٹو سے کہا کہ و ہ امریکہ کے لئے افغانستان میں اپنی فوجیں نہ مروائیں
اور ہمارے ملک سے نکل جائے
ملاعمر نے لڑائی
میں مصروف طالبان سے کہا کہ کارروائیں کے دوران بےگناہ، عام لوگوں اور بچوں
کو نقصان نہ پہنچائیں انہوں نے کہا کہ افغان قوم غیرملکی صلیبی افواج کی
افغانستان پر جارحیت کے دوران پانچویں عیدالفطر منارہے ہیں انہوں نے کہا کہ
میں عید کے موقع پر افغان عوام کو غیر ملکی قابض فوجوں کی شکست پر مبارکباد
دیتاہوں
انہوں نے
کہا کہ غیر ملکی افواج اور حامد کرزئی بھاگنے کا راستہ ڈھونڈرہے ہیں لیکن
ہم انہیں بھاگنے کا راستہ نہیں دیں گے اور انہیں ضرور اسلامی عدالت میں
کھڑا کریں گے انہوں نے کہاکہ لوگوں کو طالبان کی اسلامی عدالت کی قوت کا
اندازہ ہےملاعمر نے کہا کہ دشمن کو اپنی گمراہ کن پالیسیوں کے باوجود شکست
کا سامنا ہے جمہوریت بھی ناکام ہوچکی ہے ہماری بدنامی کے لئے کئی فرضی
فلمیں تیار کی گئی ہیں لیکن پروپیگنڈہ ناکام ہوگاکیونکہ افغان فوج ہمارے
ساتھ کھڑی ہے
انہوں نے کہا کہ
کابل حکومت امن کے قیام، منشیات کے خاتمے اور ملک کو متحدہ رکھنے میں سو
فیصد ناکام ہوگئی ہے حامد کرزئی کی حکومت اس لئے امن قائم نہیں کرسکتی
کیونکہ انہوں نے ملیشیا میں جنگی کمانڈروں اور ان کے حامیوں کو نوکریاں دیں
ہیں انہوں نے کہا کہ افغانستان حکومت منشیات کے کنٹرول میں اس لئے ناکام ہے
کیونکہ حکومت میں اکثر لوگ خود اسمگلر ہیں
ملا عمر نے کہا
کہ افغانستان میں حکومت اتحاداس لئےقائم نہیں کرسکی ہے کہ ایسے لوگ حکمرانی
کررہے ہیں جو خود افغانستان کی تقسیم پر تلے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ
افغانستان پر غیر ملکی ثقافت اور عقائد تھونپ دیئےگئے ہیں انہوں نے کہا کہ
درحقیقت جو لوگ افغانستان پر حکومت کررہے ہیں وہ دوسرں کی ثقافت اور نظریات
لے کر باہر سے افغانستان آرہے ہیں انہوں نے کہاکہ روسیوں نے افغانستان پر
قبضے کے دوران اپنے کٹھ پتلی حکمران بٹھائے تھےروسیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ
وارسا معاہدے کے ممبران ان کی حمایت کررہے ہیں اور امریکہ کو بھی آج نیٹو
کی حمایت حاصل ہے
طالبان کے سربراہ
نے کہا کہ وارسا کی حمایت کے باوجود روس کو افغانستان میں شکست ہوئی اور
یہی حال امریکہ کا بھی ہوگا انہوں نے کہا کہ نیٹو امریکہ کی خدمات کے بجائے
اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان سے نکل جائے ملاعمر نے اقوام
متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ امریکہ کے فوجی اقدامات کو روکنے
میں ناکام ہوگیا ہے
انہوں نے کہا کہ
فلسطین، عراق اور کشمیرجیسےمسلمانوں کے تنازعات حل کرنے میں اقوام متحدہ
ناکام ہوچکا ہےانہوں نے کہا کہ اگر مسلمان اپنے دفاع کے لئے مجاہدین کا
ساتھ نہ دیں تو انہیں مخالف قوتوں کی جانب سے ذلت کا سامنا کرنا پڑے
گاانہوں نے مسلمان حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کی حمایت چھوڑیں
ورنہ وہ مسلمانوں کے غضب سے بچ نہیں سکتے انہوں نے غیر ملکیوں کے خلاف لڑنے
والے طالبان کو صبر اور بہادری دکھانے کی درخواست کی
انہوں نے طالبان
سے کہا کہ بے بنیاد پروپیگنڈہ سے متاثر نہ ہوں کیونکہ اس قسم کے پروپیگنڈہ
کا مقصد طالبان کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہیں انہوں نے کہا کہ طالبان
پر پاکستان سے مدد حاصل کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن درحقیقت جب
افغانستان پر امریکہ نے حملہ کیا تھا تو پاکستانی حکومت نے عوام کی خواہشات
کے برعکس امریکہ کو بمباری کے لئے اپنے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی
تھی ملاعمر نے کہا کہ پاکستانی ہوائی اڈوں سے میزائل افغانستان پر داغے گئے
اور یہ کہ ہزاروں مجاہدین پاکستانی حکومت نے امریکہ کے حوالے کئے ہیں
ملا عمر نے
کہا کہ حامد کرزئی اور ان کی حمایت کے لئے موجود غیر ملکی افواج کو بھی یہ
معلوم ہے کہ طالبان کو کسی ملک کی حمایت حاصل نہیں ملا عمر نے کہا کہ
آئیندہ چند ماہ میں لڑائی تیز اور منظم ہوجائے گی انہوں نے طالبان جنگجوؤں
سے کہا کہ وہ لڑائی کے دوارن عام اور بے گناہ افراد بالخصوص بچوں کو نقصان
نہ پہنچائیں کیونکہ ایسا عمل شریعت کے خلاف ہے انہوں نے طالبان سے اپیل کی
کہ وہ جنگ کے دوارن فرقہ پرستی اور زبان کی بنیاد پر کسی سے امتیاز نہ
برتیں |